سیاست، ریاست اور جیگلو

04:08 PM, 16 Dec, 2025

  کیا صرف عورت ہی طوائف ہوتی ہے؟ کیا صرف عورت ہی جسم فروش ہوتی ہے؟جی اس کا جواب ہے اس دنیا کے دوسرے سب سے قدیم پیشہ جسم فروشی میں کوئی قید نہیں کہ صرف عورت ہی اسے اختیار کرے۔ زبان کی مجبوری سمجھیں کہ ہماری قومی زبان نے اسے کوئی نام نہیں دیا اگر ان کی کوئی پہچان ہے بھی تو اپنی اپنی سطح پر ہر کسی نے انکا نام رکھا ہوا ہے لیکن مغربی معاشرہ ایسے جسم فروش مردوں کو باقائدہ ایک نام دیتا ہے باقاعدہ ایک شناخت فراہم کرتا ہے، پلے بوائے، یعنی جیگلوجس کا مطلب ہے پیسے لیکر رات گذارنے والا جسم فروش ۔
مغرب کے کھلے معاشرے میں بھی پلے بوائے کو ایک گھن زدہ شخص سمجھا جاتا ہے اور اسے جیگلو کہا جاتا ہے مخصوص خواتین جنہیں ایسے مردوں کی تلاش رہتی ہے جو اپنی جنسی تسکین کے لئے ایسے پلے بوائز کو لمبی چوڑی رقمیں ادا کرتی ہیں انکے حلقہ میں بھی ایسے فرد کی شہرت اپنے مطلب سے ہٹ کر گھن زدہ شخص ہی ہوتی ہے یادش بخیر ہمارے ایک سابق وزیر اعظم امت مسلمہ کے عظیم لیڈر جن کی پورے مغربی معاشرے میں وجہ شہرت ایک گھن زدہ شخص پلے بوائے یعنی جیگلوسے بڑھ کر نہیں جنکی حرام کاریوں کے ثبوت ناجائز اولاد کی شکل میں کسی سے ڈھکے چھپے نہیں اور ایک امریکی عدالت کا فیصلہ بھی اس کا شاہد ہے کسی کی ذاتی زندگی میں جھانکنا یا اس پر تبصرہ کرنا کوئی اچھی بات نہیں لیکن شیشے کے گھر میں بیٹھ کر دوسروں کو پتھر مارنے والے اس شخص نے یہاں اپنے مخالفین پر وہ کونسا الزام ہے جو نہیں لگایا۔
 وطن عزیزپاکستان کی بدقسمتی دیکھئے کہ اسے یہاں کیسے کیسے حمایتی دستیاب تھے اور کس کس سطح کے لوگ اس شخص کے عشق میں مبتلا تھے یعنی شعبہ ہائے زندگی کا کونسا طبقہ تھا جہاں اس کی شہرت نہ ہو اس کی طلسماتی شخصیت کا جادو مردوں سے بڑھ کر عورتوں کو متاثر کرتا تھاحتیٰ کہ معاشرے کی اشرافیہ اور طاقتور ترین حلقے اس کی محبت میں انقلابی ہو گئے، اداروں کا یہ حال تھا کہ کرسی قضاوت کے اعلیٰ ترین منصب پر فائزقاضی کا جب اور کوئی بس نہ چلا اور ایک ایسا کیس جس میں تمام ثبوت اور گواہیاں چیخ چیخ کر کہہ رہی تھیں کہ اس کا سزا سے بچنا ناممکن تھا تو ہادی برحق وجہہ تخلیق کائنات سرکار محمد مصطفےٰ ﷺ کا صادق اور امین ہونے کا لقب سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے اٹھا کراس کے ماتھے پر چسپاں کر دیا ، وہ تو آج تک بڑے غرور کیساتھ خود کو اسی لقب سے مقلب کرتا ہے بعد میں اسی منصب پر فائز ہونے والے ایک دوسرے قاضی القضاء نے اس کی عدالت آمد پر کھڑے ہو کر اسے گڈ ٹوسی یو کہا، دوسرے ادارے کی طرف نظر دوڑائیے یعنی اس شخص کے خالق ادارے کی طرف تو امت مسلمہ کے اس عظیم رہنما کا عشق وہاں سر چڑھ کر بول رہا تھا۔اس کے سامری جنرل احمد شجاع پاشا جنہوں نے یہ بچھڑا خلق فرمایا تھا۔ ان کے ادارے میں اس جیگلو کے عاشقان کی ایک لمبی فہرست تھی جس میں آخری نام حال ہی میں انکے عشق میں عزت سادات گنوانے والے اور ادارے سے سزا پانے والے جنکا نام نامی ہے مسٹر فیض حمید۔
       جب ادارے نے انہیں سزا سناتے ہوئے انکے نام سے پہلے لیفٹیننٹ جنرل سابق ڈی جی آئی سابق کور کمانڈر پشاور سابق کور کمانڈر بہاولپور کا سابقہ لاحقہ کا تکلف ہٹا دیا ہے ،تو ہم بھی اس سے یہ انڈر سٹینڈنگ حاصل کر سکتے ہیں کہ سنائے گئے فیصلے کے تحت انکی بعد از ریٹائرمنٹ مراعات سلب کر لی گئی ہیں، خیر چکوال کے گائوں لطیفال میں آنکھ کھولنے والے اس نابغہ روزگار شخصیت نے 10 ستمبر 1987 کو76ویں پی ایم لانگ کورس کو پاس کرنے کے بعد پاک آرمی کی بلوچ رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا۔
 ان کے سسر ریٹائرڈ بریگیڈیئر فاروق احمدکی ایک بیٹی اسماء فاروق فربہ ہونے کیساتھ معذور بھی تھی اور وہ ان کی شادی کے لئے پریشان تھے اپنی اس پریشانی کا اظہار وہ اپنے دوست اور سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے سسر میجر جنرل ریٹائرڈ اعجاز امجد سے کرتے رہتے تھے ۔انہوں نے اپنے داماد کے دوست کیساتھ اس خاتون کا رشتہ کروا دیا۔ فیض حمید رشتہ ازدواج میں بندھ گئے یوں ایک ایوریج آرمی آفیسرپرقسمت کی دیوی مہربان ہوتی چلی گئی۔ سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹینٹ جنرل رضوان اختر کو سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید فی الفور انکے اس عہدے سے ہٹانا چاہتے تھے۔
 چارو ناچار اس وقت کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار کو ڈی جی آئی مقرر کیا تو آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے پنوں عاقل سندھ میں تعینات اپنے دوست فیض حمید کوجنرل نوید مختار کے نیچے ڈی جی سی یعنی ڈائریکٹر کائونٹر انٹیلی جنس مقرر کر دیایہاں سے شروع ہوتا ہے ،انکا وہ سفر جس کی آج پورے ملک میں ہاہا کار مچی ہے ۔ان کا نام نامی پہلی مرتبہ اس وقت سامنے آیا جب کالعدم تحریک لبیک پاکستان کا دھرنا ختم کروانے کے لئے اس وقت کے وزیر داخلہ احسن اقبال نے اس جماعت کیساتھ ایک تحریری معاہدہ کیا، جس پر انکے علاوہ سیکرٹری داخلہ راشد مرزا کیساتھ فیض حمید کے دستخط بھی موجود تھے ۔یہی وہ مقام تھا جہاں وہ دھرنے کے شرکاء میں واپسی کرایہ کے نام پر پیسے بانٹتے ہوئے بھی پائے گئے اسی دور میں انہیں انکے بھائی نجف حمیدجو کہ پٹواری تھے نے انہیں بتایا کہ ٹاپ سٹی ہائوسنگ پراجیکٹ جعلی دستاویزات پر کراچی کے کنور معیز احمد نے اپنے نام کروا لیا ہے ۔یہ پراجیکٹ راولپنڈی کے ایک معمولی پراپرٹی ڈیلر افتخار علی وقارنے 2003 میں لندن میں مقیم اپنی بہن زاہدہ جاوید اسلم سے مبلغ 80 لاکھ روپے قرضہ لیکر شروع کیا تھااسلام آباد ٹول پلازہ کے قریب 6ہزار کینال پر شروع ہونے والے اس پراجیکٹ کا نام سن سٹی ہائوسنگ پراجیکٹ رکھا گیاافتخار علی وقار اپنی پتلی مالی حالت کے سبب اس منصوبے پر ترقیاتی کام شروع نہ کروا سکا اور سال پر سال گذرتے چلے گئے۔
 اس دوران اسکے پیر ومرشد ڈاکٹر نوشاد نے اسے کراچی سے تعلق رکھنے والے کنور معیز احمد سے ملوایا کہ اسے اپنے پاس نوکری پر رکھ لو تمہارے معاملات آسان ہوجائیں گے لیکن مسائل ختم ہونے کی بجائے مزید بڑھ گئے ،جب اپنے قرضے کی واپسی کا تقاضا کرنے والی اس کی بہن بنفس نفیس خود پاکستان آ گئی اور اس نے آتے ہی تھانہ مارگلہ میں اپنے بھائی کے خلاف فراڈ کا مقدمہ درج کروا کر اسے گرفتار کروا دیااور ساتھ ہی سن سٹی ہائوسنگ پراجیکٹ پر قبضہ کر لیا ۔افتخار علی وقار کے سالے اظہر سلیم نے اپنے بہنوئی کی ضمانت دے کر اسے ضمانت پر رہائی دلوائی لیکن وہ اس سارے عمل سے اتنہ دلبرداشتہ ہوا کہ باہر آتے ہی اس نے خود کو گولی مار کر خودکشی کر لی بھائی کی ایسی اندوہناک موت کی خبر سنتے ہی زاہدہ اسلم جاوید سب کچھ بیچ میں چھوڑ چھاڑ کر واپس برطانیہ چلی گئی، اپنے مرشد کے کہنے پر چونکہ افتخار علی اسلم کنور معیز احمد پر اندھا اعتماد کرتا تھا اس کے ہائوسنگ پراجیکٹ کی تماتر اہم دستاویزات اسکے قبضہ میں تھیں اس نے ایم کیوایم میں اپنے تعلقات کو بروئے کار لاتے ہو ئے ایک جعلی پاور آف اٹارنی پر پراجیکٹ کی6ہزار کینال زمین اپنے نام کروا لی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں ایم کیو ایم کے اثر و رسوخ پر وزیر اعظم ہائوس براہ راست ملوث تھا جس کے کہنے پر سی ڈی اے نے اس منتقلی کو آسان بنا یا  یوں کنور معیز احمد راتوں رات اس پراجیکٹ کا مالک بن گیا اور اس نے اس منصوبے کا نام بدل کر ٹاپ سٹی رکھ دیا۔
12مئی 2017 کو اعلیٰ سپائی ایجنسی کی درجنوں گاڑیاں اسلام آباد کے سیکٹر F\11\4 کے ایک گھر پر دھاوا بول دیتی ہیں گاڑیوں پر نصب سب مشین گنوں سے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے سیکٹر میں کسی بہت بڑے دہشت گرد کا سراغ ملا ہے۔ خیر ایجنسی کے اہلکار نے تمام گھر کے افراد کو یرغمال بنا کر کنور معیز احمد کا پوچھنا شروع کر دیا یہاں بدقسمتی یہ ہوئی کہ یہ گھر ممبر پنجاب اسمبلی رمیش سنگھ اروڑہ کا تھا جن کا تعلق گردوارہ کرتار سنگھ کے متولیوں میں ہوتا تھاجلد ہی چھاپہ مار ٹیم کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا کہ انکا مطلوبہ گھراسی گھر کے بالمقابل سڑک کے دوسری طرف تھا یوں اس ٹیم نے وہاں سے کنور معیز احمد کو گرفتار کر لیا لیکن افراتفری میں یہاں اس ٹیم سے بہت ساری غلطیاں بھی سرزرد ہوئیں جو بعد میں کنور معیز احمد کی رہائی کا سبب بنیں کنور معیز تو گرفتار ہو گیا لیکن رمیش سنگھ اروڑہ کہاں چپ بیٹھنے والا تھا اس نے حکومتی حلقوں میں شور مچا دیا۔
 دوسری جانب ایم کیو ایم کے ایک رکن قومی اسمبلی رضاعلی عابدی جو کہ کنور معیز احمد کے بزنس پارٹنر تھے نے اپنی جماعت کے ذریعے کنور معیز کی گمشدگی پر شور ڈالنا شروع کر دیامعاملہ طشت از بام ہو نے پر سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے فیض حمید سے اس بابت دریافت کیا تو انہیں جواب دیا گیا کہ کنور معیز احمد کا تعلق ایم کیو ایم لندن سے ہے اور وہ ایم کیو ایم لندن کے قائد الطاف حسین کے لئے منی لانڈرنگ کرتے تھے لیکن رمیش سنگھ اروڑہ اور رضاعلی عابدی کہاں چپ بیٹھنے والے تھے تو چار وناچار سابق آرمی چیف نے اس سارے واقع کی انکوائری ڈائریکٹر جنرل ملٹری انٹیلی جنس کو مارک کر دی اور اس ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس کا نام تھا فیلڈ مارشل چیف آف ڈیفنس فورسز سید عاصم منیر۔
  رمیش سنگھ اروڑہ تو بچ گیا لیکن ایم کیو ایم کے ممبر قومی اسمبلی رضاعلی عابدی ایک دن کراچی میں اپنے گھر کے سامنے قتل کر دئیے گئے ایک اور واقعہ میں معروف وکیل اور سپریم کورٹ بار کے سابق صدر اکرم شیخ کے اسلام آباد آرچرڈ سکیم میں واقع انکے گھر میں چند ڈاکو داخل ہو گئے اور وہ کروڑوں روپے نقدی اور کروڑوں روپے مالیت کا سونا لے اڑے ۔وقوعہ کے تین یوم بعد سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے انہیں جی ایچ کیو میں بلا کر ان سے معذرت کی اور ایک سنگین اعتراف بھی کیایہ تو وہ واقعات ہیں جن کو بنیاد بنا کر فیض حمید کا کورٹ جنرل مارشل کیا گیا ہے لیکن یہ شخص طاقت کے نشے میں میں دھت کیا کیا گل کھلاتا رہا ہے اس کا حساب ہونا ابھی باقی ہے۔
 یہ مافیا تھا یا ڈان تھا کس طرح اس نے ملک بھر کے جرائم پیشہ بدمعاشوں کا ایک باقائدہ پرائیویٹ گروہ منظم کیا ہوا تھا جو اس کے نام سے بڑے بڑے مالداروں اور سیٹھوں سے باقاعدہ بھتہ وصول کیا کرتے تھے اس کے ایسے تمام رابطوں اور کنکشنز کا سراغ لگانا اتنا بھی آسان نہ ہو گا، اسی شخص کو سابق آرمی چیف نے ہر ممکن بچانے کی کوشش کی لیکن وہ مستعفی ہونے کے بعد اپنے ہی ادارے میں بغاوت کروانے اور فیلڈمارشل چیف آف ڈیفنس فورسز کے قتل تک پلان بناتا رہااور ایک ذہنی مریض سابق وزیر اعظم پاکستان اس کی محبت میں ایسے ہی مرا نہیں جا رہا تھااور وہ جیل میں بیٹھا یہ سمجھ رہا ہے کہ اگر بات مزید کھل گئی تو ریاست فیض حمید، جیگلو گٹھ جوڑ ڈھونڈ لے گی اور آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز کا آخری پیرایہی بتاتا ہے کہ جیگلو اب تیری خیر نہیں۔

تحریر: شفقت عمران  بیورو چیف نیو ٹی وی گوجرانوالہ

نوٹ:  یہ بلاگر کی ذاتی رائے ہے اس سے ادار ے کامتفق ہوناضروری نہیں ہے۔

مزیدخبریں