سقوط ڈھاکہ : فیض اور بے فیض کا انجام 

09:07 AM, 16 Dec, 2025


مشرقی پاکستان قائد کے پاکستان کے نقشے پرتو موجود تھالیکن موجود ہ نقشے سے بطور مشرقی پاکستان غائب ہے۔ یقینا یہ کسی بڑے سانحے کے نتیجہ میں الگ ہوا ہوگا ۔بڑے حادثات کسی نہ کسی ارتقائی سبب کا نتیجہ ہوتے ہیں نہ کہ کسی فوری واقعہ کا ردعمل ۔ اس حوالے سے بہت سی فلسفیانہ گفتگو کی جاسکتی ہے ۔جو ہمیں حقیقت تک لے جانے میں مددگار اور معاون ثابت ہو سکتی ہے لیکن اپنے بچے کھچے پاکستان کے دانشوروں کے پاس بھی واقعات ہیں اورواقعات بھی ایسے جو 60کی دہائی سے شروع ہوتے ہیں اور 16دسمبر 1971ءکو اختتام پذیر ہو جاتے ہیں۔ جب کہ ہندوستان کی تقسیم اور پاکستان کے قیام کے حوالے سے انہیں دانشوروں کا ایسا نظریہ نہیں ہے وہ تخلیق پاکستان کو قائد کے اس بیان سے جوڑتے ہیں کہ ” پاکستان اُسی وقت معرضِ وجود میں آ گیا تھا جس دن ہندوستان کا پہلا غیر مسلم مسلمان ہوا تھا۔“ یقینا دوقومی نظریے کی اساس ہی یہ بیان ہے جس نے تخلیق پاکستا ن کو ایک ہزار سے زائد عرصے کا ارتقائی نتیجہ بنا دیا ۔ انگریزوں نے سب سے پہلی کامیابی 1857ءسے ٹھیک سو سالہ پہلے 1757ءمیں جنگ پلاسی کے میدان میں نواب سراج الدولہ کو شکست دے کر حاصل کی ۔ جس کادوسرا مطلب یہ ہے کہ بنگالی غلامی اور آزادی کے مطلب سے مغربی پاکستان کے مسلمانوں سے سو سال پہلے آشنا ہو چکے تھے۔ ان سو سال میں بنگالیوں نے نہ صرف انگزیزی زبا ن سیکھی بلکہ ایسٹ انڈیا کمپنی میں ملازمتیں اور انگزیزوں کا اعتماد بھی حاصل کیا ۔ میر جعفر یقینا بہت بڑا غدار ہو گا اور اُسے اقبال جیسے دانشور نے بھی ننگ وطن ہی کہا ہے لیکن میر جعفر سے پہلے وہاں بیٹھے مسلمان حکمرانوں نے اپنی ایک ہزار سالہ تاریخ میں مسلمانوں کو جہالت کے نزدیک اورجدید دنیا سے دور ہی رکھا ۔ انڈسٹریل عہد سے مستفید ہونے کے کوئی مواقع انہیں فراہم نہیں کیے لیکن جنگ پلاسی کے بعد بنگال کا عام آدمی تعلیم یافتہ بھی ہو گیا اور انہوں نے اپنے جدید دنیا کے دانشور اورماہر تعلیم بھی پیدا کر لیے تھے۔ مسلم لیگ کا قیام بھی بنگال میں نواب سلیم اللہ خان کی قیادت میں ہوا اور اِس کی بنگالی قیادتیں ہی اس کی سرخیل تھی۔ یہ اُس زمانے کی بات ہے جب مسلم قیادتیں ابھی کانگرس کانگرس کھیل رہی تھیں ۔ قرارداد پاکستان بھی ایک بنگالی شیرِبنگال فضلِ حق نے پیش کی یہ الگ بات ہے کہ پاکستان بننے کے بعد اُسی شیر بنگال پر غداری کا پہلا مقدمہ بھی درج ہوا ۔ شیخ مجیب الرحمان بہت بڑا غدار ہو گا لیکن تحریک پاکستان میں اُس کی خدمات کے بدلے میں قائد اعظم محمد علی جناح نے ہی انہیں مشرقی پاکستان مسلم سٹوڈنٹ فیڈریشن کا صدر بنایا جو اُس کی ابتدائی تربیت گاہ تھی۔ 1954ءکے صوبائی انتخابات میں مشرقی پاکستان کی 310 نشستوں میں سے قائد اعظم کی مسلم لیگ کو صرف 9نشستیں ملیں جبکہ ہاﺅس میں بطور ایک گروپ بیٹھنے کیلئے 10ارکان کی ضرورت تھی اُس وقت تک فوج پاکستان میں ابھی وارد نہیں ہوئی تھی ۔ ایسا جگتو فرنٹ کے اتحاد نے کیا اور اس اتحاد کے بنانے والوںمیں حسین شہید سہرودی قائد اعظم کے دائیں بازو ¾ شیربنگال فضل ِ حق قرارد اد پاکستان پیش کرنے والے اور مسلم سٹوڈنٹ فیڈریشن مشرقی پاکستان کے صدر شیخ مجیب الرحمان تھے اور یہ تینوں قائد اعظم کے قابل اعتماد ساتھی تھے جوازاں بعد قائد اعظم کے مغربی پاکستانی جانشینوں کا اعتماد نہ جیت سکے۔ البتہ واحد گناہ گار سوشلسٹ مولانا بھاشانی بھی اس کا حصہ تھے جو قیام ِ پاکستا ن سے پہلے آسام مسلم لیگ کے صدر اور ازاں بعد عوامی لیگ کے بانی تھے۔1970ءکی کسان کانفرنس ٹوبہ ٹیک سنگھ میں اُن پر جمعیت کے ”شیروں “ نے بدترین تشدد کیا جس پر انہوں نے کہا کہ ” اب تم اُدھر (مشرقی پاکستان)آﺅ گے تو ویزا لے کر آﺅ گے ۔ “ او ر اس بیان کو سچ ہونے میں صرف ایک سال لگا کیونکہ اس کا ارتقا تو مشرقی پاکستان کی تخلیق کے ساتھ ہی شروع ہو چکا تھا ۔ 
16دسمبر 1971ءکی شکست ایک بدترین طویل سیاسی عمل کا نتیجہ تھی جس میں دس لاکھ فوج بھی ہوتی تو گھیر لی جاتی کیونکہ جب تک وہ لوگ جن کی آپ لڑائی لڑ رہے ہیں آپ کے ساتھ نہ ہو ں آپ دنیا کی کوئی جنگ نہیں جیت سکتے اور بنگالی آپ سے الگ سیاسی ناانصافی کی وجہ سے ہوئے تھے فوجی آپریشن تو بہت بعد کی باتیں ہیں۔ آج افغانستان میں کے پی کے کی حکومت بھی وہی کردار ادا کرنا چاہ رہی ہے جو کبھی بھارت کی مدد سے مکتی باہنیوں نے کیا تھا۔ آ پ انہیں جدید مکتی باہنی کہہ سکتے ہیں کیونکہ اِن کا قائد ہمیشہ اپنے آپ کو علیحدگی پسند غدار مجیب الرحمان سے تشبیہ دیتا ہے اور ایسا وہ لاتعداد مقامات پر کہہ چکا ہے۔ آج مشرقی پاکستان کا ہم سے الگ ہو کر بنگلہ دیش بننے کا دن ہے۔ اُس وقت بھی ایک بیرونی ہاتھ کا ذکر اُس زمانے کے اخبارات کی فرنٹ پیج پر ملتا ہے اور وہی یا پھر اُس سے ملتا جلتا ایک ہاتھ آج بھی اخبارات کے فرنٹ پیچ پر موجود ہے۔ اُس وقت فتنہ المکتی باہنی تھا آج فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان ہے۔ اُس وقت بھی مشرقی پاکستان کی ایک سیاسی جماعت افواج پاکستان کے خلاف دنیا بھی میں پروپیگنڈا کرہی تھی سو وہ جماعت آج بھی موجود ہے بلکہ بنگالیوں سے زیادہ زور شور کے ساتھ اس مکروہ فعل کو انجام دے رہی ہے۔ انہیں مذہب ¾قوم اور وطن سے زیادہ عزیز عشقِ عمران ہے اور 
پاکستان کیلئے اُن کی ابھی تک کوئی ہمدردی منظرِ عام پر نہیں آئی ۔ اُس وقت بھی عام آدمیوں کی تربیت ہندوستان میں ہوئی تھی اور انہیں مسلح بھی کیا گیا تھا آج بھی پختون نوجوانوں کی تربیت افغانستان اور کے پی کے کے دور دراز علاقوں میں ہو رہی ہے اور انہیں مسلح بھی کیا جا رہا ہے ۔ بیانیے اُس وقت بھی روزانہ کی بنیاد پر بنتے تھے اور آج بھی بن رہے ہیں ۔ پاکستان اُس وقت بھی ایک نازک موڑ پر تھا اور آج بھی ہے ۔ اُس وقت بھی تقسیم کی باتیں ہو رہی تھیں اور اب بھی ہو رہی ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ اُس وقت ایک زانی اور شرابی آرمی چیف ملک چلا رہاتھا لیکن اب ایک مردِ مومن ہے جس کو پاکستان کے عوام نے اِن قاتلوں اورملک دشمنوں کو نابود کرنے کیلئے استثنا دے دیا ہے۔ اُس وقت ایک ہزار میل کا سمند ر حائل تھا لیکن ا ب ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔فیلڈ مارشل چیف آف ڈیفنس فورسز پر پاکستانی عوام نے اعتماد کیا ہے سو پاکستانی عوام چاہتے ہیں کہ کسی نئی مجیب الرحمان یا نئے بنگلہ دیش کی گنجائش جتنی جلدی ختم کرنا ممکن ہو کردینی چاہیے کہ پاکستانی آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ فیض ہویاِ بے فیض سب کو اُن کی آخری آرام گاہ تک حفاظت سے منتقل کیا جائے تاکہ پاکستانی سکھ کا سانس لے سکیں۔

مزیدخبریں