پھر بنیں گے آشنا، کتنی ملاقاتوں کے بعد ....!

09:06 AM, 16 Dec, 2025


 برادرمکرم و محترم عرفان صدیقی مرحوم ومغفور کے بارے میں یادوں اور باتوں کا سلسلہ چل رہا ہے جو ان شاءاللہ جاری رہے گا۔ اس دوران بیچ میں 16دسمبر کی تاریخ آ گئی ہے جو سقوطِ مشرقی پاکستان کی تاریخ ہے اور پچھلے کم و بیش اڑھائی عشروں سے جب سے میں نے کالم نگاری کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے، 16دسمبر یا اِس کی آس پاس کی تاریخوں میں سقوطِ مشرقی پاکستان کے حوالے سے کم از کم ایک اور اکثر ایک سے زائد کالم لکھنا میرا معمول چلا آ رہا ہے۔ اس بار بھی میں اپنی اس روایت کو قائم رکھنا چاہتا ہوں۔ بلا شبہ ۱۶ دسمبر ہمارے لیے انتہائی المناک دن ہے کہ ۱۶ دسمبر ۱۹۷۱ئ کو ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں ہماری مشرقی کمانڈ کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل امیر عبداللہ خان نیازی نے بھارتی افواج کے کمانڈر جنرل جگجیت سنگھ اروڑا کے سامنے ہتھیار ڈال کر شکست کی دستاویز پر دستخط کیے تھے۔ اس طرح سقوطِ مشرقی پاکستان کا سانحہ سامنے آیا اور اس وقت کی بھارتی وزیرِ اعظم اندرا گاندھی نے یہ دعویٰ کیا کہ آج نظریہ پاکستان یا دو قومی نظریہ خلیج بنگال میں غرق ہو گیا ہے۔ اندرا گاندھی یہ دعویٰ کرنے میں حق بجانب تھی کہ بھارت کی عیاں و نہاں سازشوں ، مدد ، حمایت اور مشرقی پاکستان میں فوجی مداخلت کی بنا پر وہ پاکستان کو دو لخت کرنے میں کامیاب ہوئی تھی۔ 
16 دسمبر 1971ءسے اب تک نصف صدی سے زائد عرصہ گزر چکا ہے کہ اس دوران برادر اسلامی ملک بنگلہ دیش میں بہنے والے پدما، بوڑھی گنگا، میگھنا اور گومتی جیسے دریاو¿ں نے بہت سارے انقلابات دیکھے ہیں۔ ان دریاو¿ں کا پانی پاکستان 
سے محبت کرنے والے بہت سارے قابلِ قدر لوگوں کے خون سے اگر سرخ ہوا ہے تو اب ان دریاو¿ں کا پانی بنگلہ دیش کی سابقہ وزیر ِاعظم شیخ حسینہ واجد جو پاکستان دشمنی میں ساری حدیں پھلانگے ہوئے تھی اور اس کے کٹڑ حامیوں کے خون سے سیراب ہونے کے لیے بے تاب ہے۔ اس کے ساتھ برصغیر جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کا دو قومی نظریے کا نعرہ جس کے خلیج بنگال میں غرق ہونے کا دعویٰ اندرا گاندھی نے کیا تھا ایک بار پھر پوری قوت کے ساتھ ابھر کا سامنے آ چکا ہے۔ صورتِ حال کا یہ تناظر ذہن کے نہاں خانے میں موجود کچھ ایسی تحریروں کی یاد دلا رہا ہے کہ جن سے نغمگی کا پہلو سامنے آتا ہے ۔ آج کے کالم میں جناب الطاف گوہرمرحوم، فیض احمد فیض مرحوم اور جناب نصیر ترابی جیسی بلند مرتبہ شخصیات کی مشرقی پاکستان کے حوالے سے لکھی جانے والی کچھ شعری نگارشات کو پیش کیا جاتا ہے۔ 
سب سے پہلے جناب الطاف گوہر جو صدر ایوب خان کے دور میں سیکرٹری اطلاعات ، ان کے قریبی مشیر اور مشرقی پاکستان کے معاملات و مسائل سے گہری وابستگی رکھنے والی شخصیت تھے کے چند اشعار:
خیال یار گیا، انتظار یار گیا
گیا وہ یار گیا مدتوں کا پیار گیا
وہ جس کے حسن میں شوخی تھی موج دریا کی
مچلتی ، ناچتی موجوں کے ہم کنار گیا
وہ تند خو، وہ مرا دلربا ستم آرا
میرا قرار ، میرادشمن قرار گیا
اب ان سے تذکرہ بجزیار کیا کیجئے
نہ جن کا یار گیا ہے نہ جن کا پیار گیا
نصیر ترابی جو کمال کے شاعر تھے۔ سقوطِ مشرقی پاکستان کے بارے میں لکھے ان کے یہ اشعار کون بھول سکتا ہے۔
وہ ہم سفر تھا مگر اسے ہمنوائی نہ تھی
 کہ دھوپ چھاﺅں کا عالم رہا جدائی نہ تھی
نہ اپنا رنگ ، نہ اپنا دکھ نہ اوروں کا ملال
شب ِ فراق کبھی ہم نے یوں گنوائی نہ تھی
محبتوں کا سفر کچھ اس طرح بھی گزرا تھا
شکستہ دل تھے مسافر شکستہ پائی نہ تھی
عداوتیں تھیں ، تغافل تھا ، رنجشیں تھیں بہت
بچھڑنے والے میں سب کچھ تھا ، بے وفائی نہ تھی
بچھڑتے وقت ان آنکھوں میں تھی ہماری غزل
غزل بھی وہ جو کسی کو ابھی سنائی نہ تھی
کبھی یہ حال کہ دونوں میں یک دلی تھی بہت
 کبھی یہ مرحلہ جیسے کہ آشنائی نہ تھی
جناب فیض احمد فیض کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ سقوطِ مشرقی پاکستان کے کچھ ہی سال بعد وہ ڈھاکہ گئے تو یہ اشعار لکھے۔
ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعد
پھر بنیں گے آشنا کتنی ملاقاتوں کے بعد
کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار
خون کے دبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد
تھے بہت بے درد لمحے ختمِ درد عشق کے
 تھیں بہت بے مہرصبحیں مہرباں راتوں کے بعد
دل تو چاہا پر شکست دل نے مہلت ہی نہ دی
کچھ گلے شکوے بھی کر لیتے مناجاتوں کے بعد
ان سے جو کہنے گئے تھے فیض جاں صدقہ کیے
ان کہی ہی رہ گئی وہ بات سب باتوں کے بعد
 کالم کی تنگ دامانی آڑے آ رہی ہے۔ اگلے کالم میںمشہور شاعر اور نغمہ نگار جناب مشیر کاظمی مرحوم کی سقوطِ مشرقی پاکستان کے حوالے سے لکھی گئی شہرہ آفاق نظم ” قبرِ اقبال سے آ رہی ہے صدا۔۔۔“ شامل کی جائے گی۔

مزیدخبریں