روایات کے سمندر میں شبہات کی بلند ہوتی لہریں اس وقت دم توڑ جاتی ہیں جب کلام الٰہی کی واضح آیات اس کی تصدیق کر دیں اور ہمارے پاس وسوسے کی موت کا واحد ذریعہ قرآن پاک ہے ۔ سورہ انفال کی آیت اور اس بات کی گواہ ہیں کہ بدر میں تین سو تیرہ کے مقابل نو سو مسلح افراد کو عبرت ناک شکست ہوئی اور فاتح لشکر کو مالک کائنات نے فرشتوں کے ذریعے مدد فراہم کی۔ ہم نے مدینہ سے مکہ تک کا سفر اس قدیم راہ گزر سے کرنے کا فیصلہ کیا جہاں قدم قدم پر نقش قدم اپنے مقدس احساس سمیت موجود تھے۔ چشم تصور میں کہیں اونٹوں کے پاو¿ں ریت کے ٹیلوں پر ثبت دکھائی دئیے اور کہیں گھوڑوں کے سموں سے نکلتی چنگاریاں قرآن پاک کی سورہ العادیات کی مجسم ہوتی تفسیر دکھائی دینے لگیں۔
غزوہ بدر میں جہنم واصل ہوتے متکبر سرداروں کے سر اور بچ جانے والے منافق لہو نے آخر کار سرکار دو عالم صلی اللہ علیہِ وآلِہِ وسلم کے جگر پاروں سے انتقام لینے کے لیے اکسٹھ ہجری کا انتظار کیا۔ یہی وہ میدان تھا جس میں ابو جہل دو بچوں کے ہاتھوں مارا گیا۔ قریش سردار امیہ بن خلف اور اس کے بیٹے کو بھی اسی مقام پر موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ حضرت علیؓ کے ہاتھ میں سیاہ پرچم نبی پاک صلی اللہ علیہِ وآلِہِ وسلم کے لشکر کا جنگی نشان بنا۔ بدر کی جنگ میں قیدی بنائے گئے کفار جو فدیہ نہیں دے سکتے تھے انہیں سرکار دو عالم نے مسلمان بچوں کو تعلیم دینے کی شرط پر رہائی کی نوید سنائی اور دینی و دنیاوی تعلیم کے درمیان لکیر کھینچنے والوں کو بتا دیا کہ علم مومن کی گم شدہ میراث ہے جہاں سے ملے لے لو کیونکہ کفار جو تعلیم مسلمان بچوں کو دے رہے تھے وہ علوم سائنس و فلکیات ہی تھے۔
مدینہ سے نکلتے ہوئے ڈرائیور نے بتایا کہ یہ سفر طویل اور تھکا دینے والا ہو سکتا ہے، میرا جواب یہی تھا کہ جس راہ گزر پر سرور کائنات صلی اللہ علیہِ وآلِہِ وسلم اپنے اہلبیت و اصحاب کے ساتھ سفر کر چکے ہوں وہ تھکن دینے والا نہیں ہو سکتا۔ مدینہ سے 80 میل دور وادی¿ لیل تک ہمیں جتنا بھی وقت لگا وہ عشق و عقیدت سے لبریز تھا۔ مدینہ سے نکلتے ہی وہ تمام تاریخ اور ساری نشانیاں مجسم اشکال میں ڈھلتی گئیں جنہیں ساڑھے چودہ صدیوں کی دوریوں اور مو¿رخین کی مجبوریوں نے دھندلا دیا تھا۔ اس راہ گزر کا ہر کنواں، ہر جنگ، ہر معرکہ، ہر سفر اور ہر پل چیخ چیخ کر گواہی دیتا تھا کہ کنویں کھدوانے سے لے کر میدانوں میں اپنے بھائی کا دست بازو بننے تک اور میدان بدر میں صاحب ذوالفقار کون تھے۔ جب ڈرائیور نے مین شاہراہ سے گاڑی موڑ کر ذیلی سڑک پر منتقل کی تو سامنے ریت کے ٹیلوں پر ایستادہ لفظ بدر نگاہ میں عقیدت کے رنگ بھرتا گیا۔ سونے ایسی ریت ذرے تاریخ کے الفاظ دہراتے نظر آئے کہ یہی وہ مقام ہے جہاں پر فرشتوں کے لشکر حضرت جبرائیلؑ کی سربراہی میں اترے تھے اور مقابل میں آئے ہوئے قریش کی سرداری ابوجہل و ابو سفیان کے پاس تھی۔
ہم بدر کے شہر سے گزر کر اس قبرستان کے سامنے کھڑے تھے جس میں شہدائے بدر کی قبریں تھیں اور دوسری جانب کھجوروں کے باغات تھے۔ قبرستان کے سامنے چوراہے کے درمیان ایک چبوترے پر شہدائے بدر کے نام لکھے تھے۔ ہر سو زائرین تھے جو عقیدت اور محبت سے کبھی قبرستان کی بدحالی دیکھتے تھے اور کبھی بلند ٹیلوں پر بکھری سنہری ریت کو دیکھتے تھے۔ بدر ہی وہ مقام تھا جس میں مدینہ سے آنے والے لشکر اسلام اور مکہ سے پہنچ چکے کفار آمنے سامنے تھے۔
غزوہ بدر اسلام کی سب سے پہلی اور اہم ترین جنگ تھی جو 17 رمضان المبارک دو ہجری کو بدر کے مقام پر مسلمانوں اور مشرکین مکہ کے درمیان لڑی گئی۔ گرچہ اس جنگ میں مسلمانوں کی تعداد کافروں سے بہت کم تھی لیکن اس کے باوجود مسلمانوں نے شاندار کامیابی حاصل کی۔ مسلمانوں کی فتح کے اسباب میں ایک اہم سبب مسلمانوں بالخصوص شیر خدا مولا علی مرتضیؓ اور سید الشہدا حضرت حمزہؓ کی دلیرانہ جنگ تھی۔ اس جنگ میں چودہ مسلمان شہید ہوئے جبکہ قریش کے بہت سے سرکردہ افراد سمیت ستر مشرکین عرب مارے گئے جن میں سے پینتیس افراد حضرت علی مرتضیٰؓ کے ہاتھوں مارے گئے۔ جنگ کے دوران عتبہ بن ربیعہ نے اپنا گھوڑا آگے بڑھایا۔ اس کے ہمراہ اس کا بھائی شیبہ بن ربیعہ اور بیٹا ولید بن عتبہ آگے بڑھے۔ عتبہ نے گونجدار آواز میں للکارا تم میں سے کون سے تین بہادر ہیں جو ہم تین کا مقابلہ کریں؟ انصار مدینہ کے جوان یہ للکار سن کر پھڑک اٹھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم مقابلے کے لئے تیار ہیں۔ عتبہ نے ان سے ان کا حسب نسب پوچھا اور ان کی بہادری کی تعریف کی لیکن غرور سے بولا کہ ہم اپنے برابر والوں سے لڑیں گے۔
یہ سن کر اصحاب بدر میں سے حضرت امیر حمزہؓ تلوار میان سے باہر نکال کر شیروں کی طرح میدان میں آئے۔ انہوں نے مولا علی کرم اللہ وجہہ اور عبیدہ بن الحارثؓ کو آواز دی۔ یہ عرب کی روایتی لڑائی تھی۔ تین کے مقابلے میں تین مقابلہ شروع ہوا، آن کی آن میں امیر حمزہؓ نے عتبہ کو ڈھیر کر دیا۔ مولا علیؓ نے ولید بن عتبہ کو جہنم واصل کر دیا اور عبیدہ بن الحارثؓ نے شیبہ کو ہلاک کر دیا۔ عتبہ، شیبہ اور ولید بن عتبہ خطرناک جنگجوو¿ں کے طور پر مشہور تھے۔ بدر میں جہنم واصل ہونے والوں کی اولادیں بعد میں مدینہ کی حکمران بنیں۔
ہم یہاں کھڑے تھے اور کتنے زمانے ہمارے سامنے حقیت اور سچائی کو سجدہ ریز تھے۔ جس بلندی پر نبی پاک صلی اللہ علیہِ وآلِہِ وسلم کا سائبان نما خیمہ نصب تھا اس مقام پر اب مسجد عریش تعمیر ہو چکی تھی اور مسجد کے سامنے اولاد نرینہ کی خواہش رکھنے والوں کے لیے بطور شفا جڑی بوٹیوں کی فروخت جاری تھی تو میدان بدر کی نسبت سے مہنگے داموں بیچی جا رہی تھیں۔ کہتے ہیں اس مقام کا نام بدر اس لیے رکھا گیا تھا کہ یہاں بدر بن نجلد بن نضر بن کنانہ نے کنواں کھدوایا تھا اور اس کنویں کے شفاف پانی میں چاند کا عکس دکھائی دیتا تھا مگر ہمیں اس نام سے نہیں نسبت سے عشق تھا کہ مسجد عریش کے آس پاس جتنی بھی مٹی تھی وہ نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہِ وآلِہِ وسلم کے لمس سے معطر تھی اور اطراف میں خشک ہو چکے پودے جنت کے باغات سے زیادہ دلکش تھے۔ بات نسبت کی تھی ورنہ ان بلند ٹیلوں پر سردار ملائکہ نے کیوں اترنا تھا وہ بھی اس لیے یہاں اللہ کی مدد لائے کہ حبیب خدا صلی اللہ علیہِ وآلِہِ وسلم اپنی کم تعداد کے باوجود کامرانی کے طالب تھے۔ مسجد عریش کے سامنے گہرائی میں بکھرے پتھروں کو محبت سے آخری بار دیکھا اور مکہ کی طرف روانہ ہو گئے۔ دانش علی کے ہاتھ میں سرزمین بدر کی کچھ نشانیاں تھیں اور لب پر دعا، جب ہم وہاں سے رخصت ہوئے تو سورج اپنی دم توڑتی کرنوں سمیت غروب ہو رہا تھا۔
میدان بدر تک ایک اور سفر
09:01 AM, 16 Dec, 2025