فیض حمید کیس ٹرننگ پوائنٹ بن گیا

09:01 AM, 16 Dec, 2025


سابق ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو 14 سال قیدِ با مشقت کی سزا سنایا جانا پاکستان کی عسکری اور سیاسی تاریخ کا ایک غیر معمولی اور فیصلہ کن لمحہ ہے۔ پاکستان کی میں طاقت کے مراکز ہمیشہ سے بحث کا موضوع رہے ہیں اور فوج کو اکثر ایک ایسا ادارہ سمجھا گیا ہے جہاں جوابدہی کے معیارات دوسرے اداروں سے مختلف ہوتے ہیں۔ ایسے ماحول میں سپر پاور تصور کیے جانے والے ایک سابق لیفٹیننٹ جنرل کو طویل قید با مشقت کی سزا ملنا نہ صرف ایک غیر معمولی واقعہ ہے بلکہ پاکستان کے ادارہ جاتی مستقبل اور اس ادارے کے تطہیری عمل کی جانب ایک بڑی تبدیلی کا اشارہ بھی ہے۔
فیض حمید کی سزا سے عسکری احتساب کی ایک نئی مثال قایم کی گئی ہے۔ پاکستان میں طویل عرصے سے مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ حقیقی ترقی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک فوج سمیت ہر ادارے میں قانون کی بالادستی اور شفاف احتساب نہ ہو۔ فیض حمید کی سزا اس طرف ایک واضح قدم ہے۔ اس فیصلے میں دو بڑے نکات نمایاں ہیں۔ اول اس فیصلے کی علامتی اہمیت ہے۔ یہ فیصلہ واضح کرتا ہے کہ فوج کے اندر کوئی عہدہ یا شخصیت قانون اور ڈسپلن سے بالاتر نہیں۔ جو پیغام ایک سرکاری ملازم ، ایک افسر یا ایک عام شہری تک پہنچتا ہے، وہ یہی ہے کہ ادارے نے اپنی صفوں میں احتساب کا ایک ایسا اصول قائم کیا ہے جسکی پاکستان کی تاریخ میں نظیر نہیں ملتی۔ دوم اس فیصلے کی عملی اہمیت ہے۔ یہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ عسکری قیادت اب اپنے ادارے کی حدود ، ذمہ داریوں اور کردار کو پہلے سے زیادہ سختی سے منظم کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ کئی برس سے سیاسی معاملات میں مبینہ عسکری مداخلت ایک بڑا قومی مسئلہ تھی۔ یہ اقدام ا±س بیانیے کو کمزور کر سکتا ہے کہ طاقتور افراد جوابدہی سے محفوظ رہتے ہیں۔ چنانچہ اس بیانیے کو باطل کرتے ہوئے فیض حمید کی سزا کے ساتھ ہی ایک مربوط اور مضبوط ادارے کا تصور پیش کر دیا گیا۔ اس فیصلے کے فوج کے داخلی ڈھانچے پر گہرے اثرات مرتب ہونگے۔ یہ فیصلہ فوج کے ادارہ جاتی نظم و ضبط پر کئی طویل المدتی اثرات چھوڑے گا۔ اس فیصلے سے ادارے کا نظم و ضبط مزید سخت ہوگا۔ اب افسران اس بات سے مکمل طور پر آگاہ ہوں گے کہ قواعد و ضوابط سے انحراف کی قیمت بہت زیادہ ہے۔ اس سے ادارے کے اندرونی نظم کو تقویت ملے گی۔
فیض حمید کا نام ہمیشہ سیاسی سرگرمیوں سے جوڑا جاتا رہا۔ انکے خلاف کارروائی اس بات کا اشارہ ہو سکتی ہے کہ فوج اپنی غیر سیاسی پالیسی کو اب عملی شکل دینے کیلیے انتہائی سنجیدہ ہے۔ اس فیصلے سے گروہ بندی کا خاتمہ ہوگا۔ اس فیصلے کو فوج کے اندرونی دھڑوں کے خاتمے کی طرف پہلا موثر قدم بھی سمجھا جائے گا۔ اس سے ادارہ ایک مضبوط اور یکسو ٹیم کی طرح کام کرنے کے قابل ہوگا۔ تاہم اصل معاملہ تسلسل کا ہے۔ اگر احتساب صرف ایک مخصوص شخصیت تک محدود رہا اور اسکا دائرہ وسیع نہ ہوا تو پھر اس فیصلے کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔
فیض حمید کا مستقبل اب غیر یقینی نہیں بلکہ یقینی طور پر محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ سیاست میں انکی ممکنہ انٹری جو کبھی زیرِ بحث رہتی تھی اب ناممکن دکھائی دیتی ہے۔ انکے لیے ریاستی یا مشاورتی عہدوں کی طرف واپسی کے تمام دروازے بند ہو چکے ہیں۔ اگرچہ انکے پاس اپیل کا قانونی حق ضرور موجود ہے لیکن اس میں کامیابی کے امکانات انتہائی کم معلوم ہوتے ہیں۔ البتہ، انکا نام سیاست، میڈیا اور تجزیاتی مباحث میں ضرور زیرِ بحث رہے گا کیونکہ وہ کئی متنازع سیاسی ابواب میں ایک مرکزی کردار سمجھے جاتے رہے ہیں۔ اس فیصلے کے ملکی سیاست پر کئی اعتبار سے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ اول سویلین حکومت کی پوزیشن مضبوط ہوگی۔ موجودہ حکومت اس فیصلے کو اپنی کامیابی کے طور پر پیش کر سکے گی کہ ملک میں ادارہ جاتی احتساب کا اطلاق سب پر یکساں لاگو ہوتا ہے۔ یہ بیانیہ سویلین بالادستی کے تصور کو تقویت دے گا۔ دوم سیاسی مداخلت کا بیانیہ کمزور ہوگا۔ یہ فیصلہ اس بات کا اشارہ ہے کہ فوج سیاست سے دور رہنے کی حتی المقدور کوشش کر رہی ہے۔ اس سے سیاسی بیانیوں میں وہ شدت کم ہو سکتی ہے جو گزشتہ چند سال میں دیکھنے کو ملی۔ اس فیصلے سے فوج اور اسکے سربراہ کی توقیر میں اضافہ ہوا ہے۔ سوم سیاسی جماعتوں کیلیے نئی بحثوں کا دروازہ کھلا ہے۔
ایک طبقہ اس فیصلے کو انصاف قرار دے گا جبکہ دوسرا اسے مخصوص طاقت کے کھیل کے طور پر پیش کرے گا۔ اس سے وقتی طور پر سیاسی درجہ حرارت کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ سکتا ہے لیکن پھر وقت کے ساتھ یہ بادل چھٹتا ہوا بھی دکھائی دے گا۔ چہارم سول اور عسکری توازن میں واضح بہتری نظر آئے گی ۔ اگر دس سال تک ایسے اقدامات مستقل بنیادوں پر ہوتے رہے تو پاکستان اداروں کے درمیان ایک متوازن اور آئینی ڈھانچہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔
اس فیصلے کے بعد عوام کا ردعمل تین نمایاں حصوں میں تقسیم ہے: ایک طبقہ اسے انصاف سمجھتا ہے اس کے نزدیک طاقتور شخص کا احتساب قانون کی حکمرانی کو مضبوط کرتا ہے۔ دوسرا طبقہ اسے ادارہ جاتی جنگ سمجھتا ہے یہ طبقہ اسے محض اندرونی رسہ کشی قرار دیتا ہے جس میں اصل مقصد طاقت کے توازن کو تبدیل کرنا ہے۔ تیسرا طبقہ امید رکھتا ہے کہ اسکے مطابق یہ فیصلہ اصلاحات کے ایک نئے دور کا آغاز ہے اور یہ ثابت کرتا ہے کہ پاکستان بدل رہا ہے۔ یہ تقسیم ظاہر کرتی ہے کہ پاکستانی معاشرہ اب بھی عدم اعتماد کے دور سے گزر رہا ہے، لیکن یہ قدم اس سمت میں پہلا بڑا سنگ میل بن سکتا ہے۔
اگر یہ فیصلہ ایک وسیع تر پالیسی کا حصہ بن جاتا ہے توقانون کی بالادستی میں اضافہ, غیر ضروری اختیارات کے استعمال میں کمی , انصاف کے معیار میں بہتری, بین الاقوامی ساکھ میں اضافہ , سیاست میں استحکام, عوام اور حکومت کے درمیان اعتماد کی بحالی اداروں کی پروفیشنلزم واضح طور پر دیکھنے میں آئے گی۔ لیکن اگر یہ فیصلہ ایک واقعہ ہی رہا تو اس کے اثرات محض علامتی ہی رہ جائیں گے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ جنرل فیض حمید کو سزا کیوں ہوئی یا اسکے پیچھے کونسی طاقت ہے.... اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان نے پہلی بار حقیقی احتساب کی سمت قدم رکھ دیا ہے یا ایک مرتبہ پھر یہ احتساب صرف مخصوص شخصیات تک محدود رہے گا؟ اگر یہ اقدامات مسلسل جاری رہے تو پاکستان ایک ایسا ملک بن سکتا ہے جہاں اداروں کی بنیاد شفافیت، توازن اور قانون پر ہوتی ہے۔ جنرل (ر) فیض حمید کی 14 سال قیدِ با مشقت کی سزا پاکستان کے لیے محض ایک عدالتی فیصلہ نہیں بلکہ ایک واضح سمت کا تعین ہے۔ اس فیصلے کی اہمیت اسی وقت قائم رہے گی جب احتساب کا عمل غیر امتیازی، شفاف اور مستقل ہوگا۔ اگر ایسا ہوا تو یہ فیصلہ پاکستان کے مستقبل کیلیے امید کی ایک مضبوط بنیاد بن سکتا ہے۔

مزیدخبریں