معیشت کی ترقی سے نوجوانوں کو روزگار ملے گا:ایس ایم تنویر

06:24 PM, 16 Aug, 2025

کراچی: تاجر رہنما ایس ایم تنویر نے کہا ہے کہ معیشت کی ترقی سے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع ملیں گے، اور ملک کی اقتصادی صورتحال میں بہتری آئے گی۔ یہ بات انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں کہی، جہاں انہوں نے حکومت کے حالیہ اقدامات کا جائزہ پیش کیا۔

ایس ایم تنویر، جو کہ پیٹرن انچیف یونائیٹڈ بزنس گروپ اور صدر ایف پی سی سی آئی ہیں، نے کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران حکومت نے معیشت کے حوالے سے اہم اقدامات کیے ہیں اور ان کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملکی برآمدات کو 100 ارب ڈالر تک لے جانا ایک اہم مقصد ہے اور اس کے لیے مزید محنت کی ضرورت ہے۔

انہوں نے بجلی کی قیمتوں میں کمی کا ذکر کیا، جو 48 روپے فی یونٹ سے کم ہو کر 31 روپے فی یونٹ ہو چکی ہے، تاہم ان کے مطابق مزید کمی کی ضرورت ہے۔ اسی طرح، پالیسی ریٹ میں کمی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ 22 فیصد سے کم ہو کر 11 فیصد تک آ گیا ہے۔

ایس ایم تنویر نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت کا مقصد معیشت کو مستحکم کرنا ہے، اور ہم اس مقصد میں حکومت کے ساتھ ہیں، لیکن موجودہ اقتصادی حالات میں غربت، بیروزگاری اور مہنگائی جیسے مسائل سنگین ہیں جنہیں فوری طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس 4 سے 5 ٹریلین ڈالر کے قدرتی ذخائر  ہیں، مگر ہم  فائدہ نہیں اٹھا رہے۔ ایران کے ساتھ سرحد قریب ہے  وہاں کے تیل اور معدنی وسائل سے فائدہ اٹھانےکی ضرورت ہے۔ ایس ایم تنویر نے امریکہ کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے کی جانے والی پیشکش کو خوش آئند قرار دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے ہر ضلع اور ڈویژن میں ترقی کے وسیع مواقع ہیں، تاہم زرعی پیداوار میں ہم دنیا کے دوسرے ممالک سے پیچھے ہیں۔ معیشت کی بہتری کے لیے برآمدات کے فروغ کو اولین ترجیح دینا ضروری ہے۔

ایس ایم تنویر نے این ایف سی کے حوالے سے بھی بات کی اور کہا کہ وفاق کا حصہ 42 فیصد ہے، جبکہ صوبوں کا حصہ 58 فیصد ہے، لیکن صوبوں کو ملنے والا حصہ نیچے منتقل نہیں ہو رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا کام ان مسائل کا حل نکالنا ہے، جنہیں تاجر برادری نے نشاندہی کیا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب ملک کی آبادی 4 کروڑ تھی تو ملک کے 4 صوبے تھے، اور آج 25 کروڑ کی آبادی کے باوجود صوبے وہی ہیں۔ بھارت اور چین کے مقابلے میں ہمیں اپنی معیشت کو مضبوط کرنا ہوگا تاکہ ہم عالمی سطح پر ترقی کر سکیں۔

مزیدخبریں