ایران سے کامیاب مذاکرات کے بعد ٹرمپ کا اسلام آباد جانے کا عندیہ

11:33 PM, 16 Apr, 2026

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کسی اہم نتیجے کے قریب پہنچ رہے ہیں اور آئندہ ہفتے کے اختتام پر دونوں ممالک کے درمیان ایک اور ملاقات ہو سکتی ہے۔

وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت میں قابلِ ذکر پیش رفت ہوئی ہے اور اب تہران ایسے اقدامات پر آمادہ دکھائی دیتا ہے جن سے وہ پہلے گریز کرتا تھا۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

صدر ٹرمپ نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کی کوششوں میں اسلام آباد نے مؤثر اور مثبت کردار ادا کیا۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ اگر ایران کے ساتھ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو وہ پاکستان کا دورہ بھی کر سکتے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو صورتحال دوبارہ کشیدہ ہو سکتی ہے اور جنگ کے امکانات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز میں امریکی نگرانی اور ناکہ بندی بدستور قائم ہے، جبکہ ایران بھی اس بات پر متفق ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔

ٹرمپ کے مطابق ایران نے جوہری مواد واپس کرنے پر بھی رضامندی ظاہر کی ہے، اور اگر معاہدہ طے پا گیا تو تیل سمیت دیگر اشیاء کی قیمتوں میں کمی اور مہنگائی میں کمی متوقع ہے۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ لبنان میں جنگ بندی کے لیے حکومت حزب اللہ کے ساتھ مل کر اقدامات کرے گی اور اس عمل میں حزب اللہ بھی شامل ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ جلد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور لبنانی صدر جوزف عون سے ملاقات کریں گے، تاہم تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پوپ لیو سے ملاقات ضروری نہیں، تاہم عالمی قیادت کو ایران سے متعلق خدشات کو سمجھنا چاہیے، اور اختلاف رائے رکھنا ان کا حق ہے۔
 
 
 

مزیدخبریں