ایک سورج طلوع ہونے کو ہے 

08:46 AM, 17 Apr, 2026

دوسری جنگِ عظیم بظاہر 1945 ءمیں ہیرو شما اورناگاساکی پرحملے کے بعد ختم ہو گئی اور امریکہ دنیا میں سپر پاور بن کر ابھرا لیکن دوسری جنگ عظیم کے دوران روس اور امریکہ کی شروع ہونے والی سرد جنگ نے دنیا کو واضح طور پر بلاکس میں تبدیل کردیا۔جاپا ن پر ایٹمی حملے کے بعد بھی امریکی بربریت دنیا پرقہرڈھاتی رہی اور امریکہ کا عالمی سیاست میں کردار روزانہ کی بنیاد پر بڑھتا رہا۔اس دوران امریکہ نے سفارتی دباﺅ بلکہ کئی مواقع پر مختلف ممالک میں براہِ راست فوجی کارروائیاں بھی کیں۔ ان مداخلتوں کا مقصد عموماً اپنے مفادات کا تحفظ، کمیونزم کا پھیلا¶ روکنا، یا عالمی امن قائم رکھنے کا دلفریب بہانہ تھا۔روس ٹوٹنے تک دنیا واضح طور پر دو بلاکس میں بٹی رہی لیکن آخر کا روس اپنی بُری معیشت اور اندرونی تضادات کی بدولت اندر سے ٹوٹ کربکھر گیا مگر روس کے ٹوٹنے سے پہلے امریکہ نے نہ صرف دوسری ریاستوں پر براہِ راست جنگیں مسلط کیں بلکہ بالواسطہ یا براہِ راست مداخلتیں بھی کرتا رہا۔دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ کا پہلا شکار نارتھ کوریا تھا جس میں امریکہ نے جنوبی کوریا کی حمایت کیلئے فوج بھیجی کیونکہ بنیادی مقصد کیمونزم کوروکنا تھا ۔اس جنگ میں چائنہ نے شمالی کوریا کا ساتھ دیا اور 1950ءسے شروع ہو نے والی یہ جنگ جنوبی کوریا کوکیمونزم سے بچانے میں تو کامیاب ہو گئی لیکن 1953ءمیں یہ جنگ بے نتیجہ ختم ہوئی اور جنگ بندی کے بعد سے لے آج تک جنوبی اور شمالی کوریا دو بدترین ملٹری زون ہیں ۔ شمالی کوریا کے آج تک امریکہ کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم نہیں ہو سکے لیکن اس کے برعکس شمالی کوریا کے چین کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں ۔اس جنگ نے یہ ثابت کردیا کہ امریکہ قابل شکست ہے ۔1955 ءسے لے کر 1975ءتک امریکہ ویتنام میں پھنسا رہا اور اُسے ایک بدترین ذلت کا سامنا کرنا پڑا جس میں ایک طرف تو ویتنام کے گوریلوں نے اُس پر قہرڈھا دیا دوسرامیڈیا سے ملنے والی اطلاعات نے امریکی عوام کو حکومت کے خلاف کردیا ۔امریکی عوام نے تو جنگی ویڈیوز دیکھ کر کہنا شروع کردیا کہ ” تمہیں وہاں جنگ کیلئے بھیجا گیا ہے نہ کہ نیٹ فلیکس کی سیریز بنانے کیلئے۔“اس طویل جنگ میں امریکہ کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور جس ساﺅتھ ویتنام کو بچانے امریکی فوجیں پہنچی تھیں اُس میں بھی انہیں کامیابی حاصل نہ ہو سکی ۔ چین اور سوویت یونین نے شمالی ویتنام کی بھرپور مدد کی اور آخر کار 1973ءکے پیرس معاہدے میں امریکہ کو ویتنام سے بھاگنا پڑا لیکن امریکہ نے ہالی وڈ کے ذریعے اپنے مصنوعی ویتنام جنگ کے ہیرو پیدا کرکے اپنی خفت مٹائی۔ اسی دوران کمبوڈیا اور لاﺅس میں بھی بمباری کی گئی جو ویتنام جنگ کا حصہ تھے۔ امریکہ نے گریناڈاپر 1983اور پانامہ پر1989 میں حملے کیے جن کا مقصد وہاں کی حکومتیں بدل کر صرف اپنے مفادات کا تحفظ تھا۔ عراق اورگلف وار صدام حسین کی زندگی میں شروع کی گئی اورنائن الیون کے بعد بش جونیئر نے دنیا کو پیغام دیا کہ ” اب دنیا امریکہ کو نئے روپ میں دیکھے گی ۔“ اورواقعی وہ ایک ایسا گھناﺅنا روپ تھا جس نے دنیا کو بنیادوں سے ہلا کررکھ دیا ۔ افغانستان جنگ کے دوران ہی لیبیا پر 2011ءمیں ہاتھ صاف کردیا گیا اورشام ابھی زیر عتاب ہی تھا کہ ایران پر حملے شروع ہو گئے ۔ تورا بورا کی جنگ کے دورا ن میں نے لکھا تھا کہ ” اس بربریت کے نتیجہ میں دنیا بلاکس میں ایک بار پھر بٹ جائے گی ۔آج حالات ہمارے سامنے ہیں گو کہ ابھی ان کا کوئی با ضابطہ اعلان نہیں ہوا لیکن پاک بھارت اور ایران اسرائیل وامریکہ جنگ بلاکس کو ایک حد تک سامنے لے آئی۔ امریکہ ماضی میں کیمونزم کے خاتمے ¾دہشتگردی کے خلاف جنگ ¾ عالمی اثر رسوخ برقرار رکھنے ¾معاشی و تزویراتی مفادات جیسے کھوکھلے نعروں کی بنیاد پر کئی ممالک کوعدم ِ استحکام کاشکارکرچکا ہے ۔امریکہ کی تمام جنگوں کے اعدادو شمار اکھٹے کیے جائیں تومرنے والوں کی تعداد کروڑوں میں جا پہنچتی ہے۔ امریکہ کو عالمی سطح پرتنقید کا سامنا کرنا پڑا لیکن طاقت بذات خود ایک توازن قائم کرلیتی ہے سو امریکہ قبل از ایران وار اور بعد از ایران وار دو الگ ملک ہو ں گے ۔یہ بات دنیا کو بھی سمجھ آ چکی ہے اورامریکی عوام بھی جان چکی کہ بدتہذیبی اوربدتمیزی کی بنیاد پر دنیا کی طاقتور ریاستوں کو ساتھ نہیں ملایا جاسکتا ۔امریکہ اب تک 10بڑے ممالک میں کارروائیاں کر چکا ہے جبکہ بالواسطہ مداخلتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے ۔یہ مداخلتیں بعض اوقات اپنے مقاصد میں کامیاب رہیں مگر کئی مواقع پر تنازعات اور عدم استحکام کا سبب بھی بنیں۔وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف تادم تحریر سعودیہ میں موجود ہیں جبکہ فیلڈ مارشل آرمی چیف عاصم منیر وزیر داخلہ کے ساتھ ایران کے دورے پر ہیں جہاں ایرانی وزیر خارجہ نے اُن کا استقبال کیا ۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے شاندار میزبانی پر اظہار ِ تشکر کرتے ہوئے کہا کہ” پاکستان سے ہمارے گہر ے اورعظیم دو طرفہ تعلقات ہیں ۔“وائٹ ہاﺅس ایران امریکہ مذاکرات کا سلسلہ اسلام آباد میں وہیں سے شروع کرنے کا اعلان کرچکا جہاں سے یہ منقطع ہو ا تھا۔ دنیا پاکستان کی طرف دیکھ رہی ہے کیونکہ پاسداران ِ ایران نے امریکی جہاز کو آبنائے ہرمز سے واپس بھیجنے کی وارننگ کی ویڈیو جاری کردی ہے ۔جس کادوسرا مطلب یہی بنتا ہے کہ ایران کسی صورت پیچھے ہٹنے کیلئے تیار نہیں ۔پاکستان کو سب سے زیادہ خیال سعودیہ اورایران کا ہے جنہیں وہ کسی صورت بھی آمنے سامنے نہیں آنے دینا چاہتے ۔امریکہ اس کے بعد کی بات ہے ۔ یورینیم کی 
افزدگی اور پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ ایران کا بالکل جائز ہے لیکن جب ہم کسی بڑے نقصان سے بچنا چاہتے ہوں تو ہمیں کچھ باتیں وقتی طورپرمان لینی چاہئیں کہ کمزور اورطاقت ورکے درمیا ن ہر معاہدہ اتنی دیر تک ہی رہتا ہے جب تک کمزور طاقتور نہیں ہو جاتا ۔ایران امریکہ معاہدہ سو فیصد ہو گا اور وہ معاہدہ ہی اکیسویں صدی میں امریکہ کی سب سے بڑی شکست ہو گی کہ اس جنگ میں ٹرمپ نے مہذب دنیا اور پوپ تک کو ناراض کر لیا ہے۔ ایران امریکہ معاہدے کے بعد دنیا ایک نئے عہد میں داخل ہو گی جہاں بھارت او ر اسرائیل کے نام لیواﺅں کی تعداد بہت کم رہ جائے گی کہ بھارت نے اسرائیل کو باپ بڑے غلط موقع پربنا لیا ہے لیکن ایشیا میں تو بھارت مکمل تنہائی کا شکارہوچکا ہے ۔ وہ دن دور نہیں کہ جب گلف کی حفاظت کا ذمہ بھی پاکستان کے پاس ہو گا اور وہاں کی نوکریاں بھی کہ بھارت اس تضاد کے خاتمے کے بعد یقینا گلف کا قابل ِ اعتماد ساتھی نہیں رہے گا اور یہی وہ وقت ہو گا جب پاکستان کے عوام اپنی فوج اور اپنے محنت کشوں پر فخر کررہے ہوں گے کہ اُن کی قوت ِ بازو سے دنیا میں امن بھی آئےگا اورمعیشت بھی بہترہو گی ۔پاکستان کاسورج طلوع ہو نے کیلئے مچل رہا ہے ۔

مزیدخبریں