اسرائیل کے بغیر مذاکرات بے معنی

08:45 AM, 17 Apr, 2026

مرد کے مقابلے میں آدھی گواہی رکھنے والی اور دنیا کے مختلف معاشروں میں صنف نازک سمجھی جانے والی ایک عورت نے وہ کچھ کر دکھایا ہے جو درہم و دینار کے خزانے رکھنے والے معدنی دولت کے سمندروں کے وارث اور نیوکلیئر اعصاب رکھنے والے نہیں کر سکے۔ یہ خاتون محترم اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی ہیں جنہوں نے دو ٹوک الفاظ میں اسرائیلی جاحیت کی مذمت کرتے ہوئے اسرائیل اور اٹلی کے درمیان اہم معاہدے ختم کر دیئے ہیں۔ وہ کہتی ہیں اسرائیل نے سرخ لکیر عبور کی۔اٹلی موجودہ حالات میں اسرائیل پر پابندیوں کی حمایت کرے گا۔
امریکی صدر مختلف بین الاقوامی فورسز پر جب بھی جارجیا میلونی کے قریب بیٹھے تو ان کا دل لبھانے اور انہیں اپنے قریب کرنے کے لئے مختلف ہتھکنڈے استعمال کرتے نظر آئے۔ یہ سب ٹرمپ کی فطرت کا حصہ ہے۔ ایک زمانہ ٹرمپ کی قربت کی خواہش رکھتا ہے۔ اس میں مرد و زن سبھی شامل ہیں لیکن جارجیا میلونی نے ثابت کر دیا وہ دنیا سے مختلف ہیں۔ امریکی صدر کا غرور آبنائے ہرمز میں غرق ہو چکا ہے۔ وہ بڑے طمطراق سے نصف درجن جہازوں پر مشتمل بحری بیڑا لے کر آئے جسے ایران اور چین خاطر میں نہ لائے۔ چین نے تو ٹرمپ کو ان الفاظ میں کھری کھری سنائیں جو اس نے کبھی اختلافی امداد میں استعمال نہیں کئے نتیجہ یہ نکلا کہ ایرانی و چینی جہاز،امریکیوں کے سامنے سے گزرتے رہے انہیں روکنا اور ان پر حملہ کرنا تو دور کی بات امریکی تباہ کن جہاز خراماں خراماں گزرنے والے جہازوں کا ویڈیو انٹینا بھی نہ اکھاڑ سکے۔ اپنی ہزیمت چھپانے کے لئے ٹرمپ انتظامیہ نے بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ امریکہ اور برطانیہ نے 1953ءمیں ایرانی سمندروں کی اس وقت ناکہ بندی کی تھی جب وہاں ڈاکٹر مصدق حکومت نے غیر ملکی تیل کمپنیوں سمیت اس انڈسٹری کو قومی ملکیت میں لیا، اس وقت برطانیہ امریکہ کے ساتھ تھا لیکن آج برطانیہ اس احمقانہ فیصلے سے دور رہا، دیگر یورپی ممالک بھی بار بار بلانے پر دھمکانے پر اور منتیں کرنے پر امریکہ کے ساتھ اس ناکہ بندی کے لئے نہیں آئے۔ امریکہ کا نعرہ تھا وہ ایران کی ناکہ بندی کھلوانے کے لئے مزید ناکہ بندی کرے گا جس پر بحر مندب کو بند کرنے کا اشارہ ہو گیا اور حجاز و خلیجی ممالک نے چشم تصور سے اندازہ کر لیا کہ معاملہ صرف تیل کی ترسیل بند ہونے پر نہیں رکے گا، اس کا اثر دیگر تجارت پر بھی پڑے گا۔ عام زندگی اور اس کی ضروریات بھی ان راستوں سے بروقت نہ پہنچ پائیں گی، یوں زندگی جامد ہو جائے گی۔ آبنائے ہرمز کو کھولنے اور امریکی ناکہ بندی ختم کرنے کے لئے سعودی عرب نے کوششیں کیں جو رنگ لائیں۔ ٹرمپ بعض معاملات میں عربوں سے عدم تعاون کا شکوہ کرتے ہیں اور ایران پر حملہ نہ کرنے کے حوالے سے نیٹو ممالک سے ناخوش ہیں، خاص طور پر انہیں ایران کی بحری ناکہ بندی میں یورپی ممالک کے تعاون نہ کرنے پر صدمہ ہے، جس کا اظہار وہ مختلف موقعوں پر کرتے نظر آتے ہیں۔ دو روز قبل تو وہ اپنے اتحادی ممالک کی بے وفائی کا ذکر کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے لیکن مگرمچھ کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر کسی کا بھی دل نرم نہیں ہوا۔
امریکی صدر کو پہنچنے والا تازہ ترین صدمہ ان کے اتحادیوں کا چین سے رابطہ ہے۔ برطانیہ، فرانس، سپین، اٹلی، جرمنی، ترکیہ، حجاز اور خلیجی ممالک کبھی اپنی حفاظت اور اپنے مسائل کے حل کے لئے واشنگٹن کی طرف دیکھتے تھے۔ اب وہ سب بیجنگ کو اپنی امیدوں کا مرکز سمجھ رہے ہیں۔ گزشتہ تین ماہ میں چھ امریکی اتحادیوں کا چین کا دورہ نہایت اتحادیوں کا دفاع کیا کرتا۔ وہ تو اپنے فوجی اڈے نہ بچا سکا مزید برآں وہ خطے کو جنگ سے بچانے کی بجائے اسے بے کار جنگوں کی طرف دھکیل رہا ہے۔ ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف سترہ یورپی ممالک کے وزرائے خارجہ نے بیان جاری کیا ہے جس پر ٹرمپ پریشان ہیں۔ وہ جواب میں دھمکی دیتے ہوئے کہتے ہیں، میں ان سب کو دیکھ لوں گا۔ کچھ عجب نہیں وہ مواخذے کا شکار ہو جائیں یوں انہیں کچھ دیکھنے کی مہلت ہی نہ ملے۔ نیتن یاہو کے ایک بیان نے امریکہ جیسے ملک کے بے دست و پا ہونے کی کہانی دنیا کو سنا دی۔ انہوں نے کہا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس جب مذاکرات ختم کر کے اپنے جہاز میں بیٹھے تو انہوں نے پہلا فون انہیں کیا اور مذاکرات کی تفصیل سے آگاہ کیا۔ نیتن یاہو کے اس بیان سے تاثر عام ہوا کہ اہم فیصلے واشنگٹن میں نہیں بلکہ تل ابیب میں ہوتے ہیں۔ ٹرمپ غلام ہیں، نیتن یاہو ان کے آقا ہیں۔
حالات کی سنگینی کم ہونے کی بجائے بڑھتی نظر آتی ہے۔ انہی حالات میں مذاکرات کے نئے راﺅنڈ کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے ایرانی موقف یہ ہے کہ پہلے راﺅنڈ کے خاتمے کے بعد وہ کون سے اہم واقعات رونما ہوئے ہیں جن کے پیش نظر دوسرے راﺅنڈ کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ کیا ایران کے منجمد اثاثے وعدوں کے مطابق بحال ہو چکے ہیں۔ کیا لبنان پر تازہ حملے بند کر کے قبضہ شدہ علاقے خالی کئے گئے ہیں۔ کیا امریکہ نے جھوٹ بولنا بند کر دیا ہے۔ کیا وہ مذاکرات کے پہلے دور کی ناکامی کا ذمہ دار ایران کو قرار دیتے ہوئے مکاری نہیں کر رہا۔ کیا وہ ایک روز جنگ بند کرنے اور دوسرے دن کوئی اور محاذ کھولنے سے باز رہا ہے؟ اگر یہ سب جاری ہے تو پھر نئے مذاکراتی دور کی کیا ضرورت و اہمیت باقی رہ جاتی ہے۔ امریکہ اس کے حواریوں اور مذاکرات کے سہولت کاروں کے پاس ایران کے سوالوں کا کوئی جواب نہیں۔ وہ ان سوالوں کے جواب میں بغلیں جھانکنے لگتے ہیں۔
ایرانی سفارتکار کس طرح موت کے منہ میں جانے سے بچے۔ وہ خود اور ان کے ترجمان یہ سب بیان کرتے نظر آتے ہیں جو تشویشناک ہے اور دوسرے مذاکرات کے دروازے بند کرتا ہے پھر بھی ایرانی لیڈرشپ مذاکرات کے لئے تیار ہو جائے تو یہ اس کی وسیع القلبی ہے۔ دوسری طرف مذاکرات کی کوششیں کرنے والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایرانی قیادت کی جانوں کو لاحق خطرات کے حوالے سے امریکہ و اسرائیل سے گارنٹیاں طلب کریں۔ ہم عام زندگی میں صلح کے بہانے بلا کر گولیوں کی بوچھاڑ کر کے مخالفین کو موت کے گھاٹ اتار دینے کے واقعات دیکھتے ہیں۔ یہاں تو معاملہ بین الاقوامی نوعیت کا ہے۔ گریٹر اسرائیل کی راہ کی آخری رکاوٹ ایرانی آہنی دیوار ہے، اس کے بعد تو اس کے لئے میدان صاف ہے، پس اس دیوار کی حفاظت تمام اسلامی اُمہ پر ہے اور نیوکلیئر پاکستان کی ذمہ داری سب سے زیادہ ہے۔
متعدد مرتبہ عرض کیا جا چکا کہ چین یا روس کو میزبانی کا موقع دیں صرف ہ دو طاقتیں ہیں جو امریکہ و اسرائیل کو کان سے پکڑ کر کہیں قابو کر سکتی ہیں۔ ایران کی طرف سے اہم نکتہ اٹھایا گیا ہے، ادھر دھیان دینے کی ضرورت ہے لیکن اسرائیلی گماشتے اسے مسلسل نظرانداز کر رہے ہیں۔ ایران کے مطابق مذاکرات تو اسرائیل کے ساتھ ہونے چاہئیں کیونکہ ہر مرتبہ امن کوششوں کو اس نے برباد کیا۔ ایرانی لیڈرشپ پر حملے اس نے کئے۔ اسرائیل ہی وہ طاقت ہے جس نے دوران مذاکرات سفارتکاروں کو نشانہ بنایا اور وہ کسی بھی قسم کے مذاکرات کو کسی بھی وقت سبوتاژ کر دیتا رہا ہے۔ ایران کے خیال کے مطابق اسرائیل کو شامل کئے بغیر مذاکرات بے معنی ہوں گے، جن کی کوئی ضرورت نہیں، جن کی کوئی اہمیت نہیں۔

مزیدخبریں