کابل : افغانستان میں طالبان رجیم کی سخت گیر پالیسیوں اور انتہا پسندانہ اقدامات کے خلاف عوامی سطح پر بڑے پیمانے پر بے چینی پھیل گئی ہے۔ 'افغان انٹرنیشنل' کے مطابق، ملک کے مختلف حصوں میں طالبان کے تسلط کو چیلنج کرنے کے لیے عوامی تحریکیں تیزی سے منظم ہونا شروع ہو گئی ہیں۔
نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (NRF) کے سربراہ احمد مسعود نے طالبان حکومت کے لیے خطرے کی گھنٹی بجاتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں طالبان کا جابرانہ دور اب اپنے انجام کے قریب پہنچ چکا ہے۔ طالبان کے غیر قانونی قبضے اور انتہا پسندی سے نجات پانے کا واحد راستہ تمام عوامی اور سیاسی تحریکوں کا اتحاد ہے۔
افغان سرزمین سے اٹھنے والی یہ آوازیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ عوام اب طالبان کی سوچ کو مزید قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
رپورٹس کے مطابق، طالبان کے حالیہ فیصلوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں نے افغان عوام کو دیوار سے لگا دیا ہے۔ افغانستان کے اندر چھوٹی بڑی مزاحمتی تحریکیں اب ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو رہی ہیں۔ احمد مسعود کا موقف ہے کہ طالبان کی حکمرانی کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے اور اسے صرف طاقت کے بل بوتے پر برقرار رکھا گیا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ احمد مسعود کا "عوامی اتحاد" کا مشورہ اگر عملی شکل اختیار کر گیا تو طالبان کو کابل میں اپنی بقا کے لیے اب تک کے سب سے بڑے داخلی چیلنج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ افغان سرزمین پر بدلتی ہوئی یہ صورتحال خطے کی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب کرے گی۔
افغانستان میں مزاحمت کی نئی لہر: احمد مسعود کا طالبان مخالف 'گرینڈ الائنس' بنانے کا اعلان، عوامی تحریکیں متحرک
12:57 PM, 16 Apr, 2026