مشرقی کانگو میں امن کے لیے 'سیاسی حل' ناگزیر؛ پاکستان کا اقوامِ متحدہ میں قدرتی وسائل کی اسمگلنگ روکنے پر زور

09:19 AM, 16 Apr, 2026

نیویارک : پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں جمہوریہ کانگو کے مشرقی خطے میں جاری تشدد پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جب تک قدرتی وسائل کی غیر قانونی کان کنی اور اسمگلنگ نہیں رکتی، خطے میں پائیدار امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔
 پاکستانی مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا کہ انسانی بحران کی شدت کو کم کرنے کے لیے فوری جنگ بندی اور سلامتی کونسل کی قراردادوں پر ان کی روح کے مطابق عمل درآمد ضروری ہے۔پاکستان نے نشاندہی کی کہ مشرقی کانگو میں قیمتی وسائل کی غیر قانونی تجارت بدامنی کو ہوا دے رہی ہے۔ اس کے تدارک کے لیے ایک شفاف سپلائی چین اور علاقائی تعاون پر مبنی حکمتِ عملی کی تجویز پیش کی گئی۔
 خطاب کے دوران پاکستان نے افریقی یونین، واشنگٹن پراسیس اور دوحہ فریم ورک کے تحت جاری سفارتی کوششوں کا خیرمقدم کیا اور اقوامِ متحدہ کے امن مشن (MONUSCO) کے کلیدی کردار کی حمایت کی۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے زور دیا کہ عالمی برادری کو محض بیانات سے آگے بڑھ کر زمینی حقائق کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ انہوں نے جمہوریہ کانگو کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ کانگو کے وسائل وہاں کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال ہونے چاہئیں۔

مزیدخبریں