جاوید کوڈو بھی کسمپرسی کی زندگی ہار گیا جو کبھی اس کی راہ تکتے تھے انہوں نے کوڈو کے گھر کی راہ بھی بھلا دی۔ اس کی آنکھیں سب کے لئے منتظر تھیں… مگر مدد کے وقت کوئی نہ آیا اور کل وہ اپنے رب کے حضور پیش ہو گیا۔ یہ حقیقت ہے کہ جب اللہ کسی کو عزت اور شہرت سے نوازتا ہے تو پھر وہ جسمانی قد کاٹھ، شکل و صورت نہیں دیکھتا۔ قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ خدا جب یہ کہتا ہے کہ ہو جا اور وہ ہو جاتا ہے۔ میرے خیال میں خدا تعالیٰ نے بڑی خوبصورتی سے وضاحت کر دی ہے کہ ہم لاکھ اِدھر اُدھر دوڑیں لگاتے ہیں۔ دولت، گھر اور جائیدادیں بنانے کے چکر میں کبھی کبھی تمام انسانی، اخلاقی اور معاشرتی حدیں بھی کراس کر جاتے ہیں۔ انسان تو چاہتا ہے کہ وہ پوری دنیا سمیٹ لے مگر ہوتا وہی ہے جو میرا رب چاہتا ہے۔ تین روز قبل ایک ایسے انسان نے دنیا سے ناطہ توڑا جو اس خدائی دھرتی پر ایک چھوٹے قد کی حیثیت رکھتا تھا مگر خدا تعالیٰ نے اس سے دنیائے فن میں ایسے ایسے کردار کروا ڈالے کہ وہ جاوید کوڈو کے نام سے دنیا میں بڑی شہرت پا گیا۔ ٹی وی، تھیٹر اور فلم کا یہ لاثانی کردار اور مزاح کا دلداہ اپنے اندر کے دکھوں کو سمیٹ کر دوسروں کو ہنسانے والا دنیا سے پردہ کرگیا۔ میری اس کے ساتھ جتنی بھی ملاقاتیں ہوئیں وہ مجھے جتنی بھی بار ملا… میں نے ہمیشہ اس کے چہرے پر مسکراہٹ اور انکساری دیکھی۔ بے باک، بے لوث، خدمت گار، بغیر کسی لالچ کی طلب کے اس نے اپنی ساری زندگی اس احساس کے ساتھ گزار دی کہ وہ اداکار ہے۔ ’’شکر ہے خدا کا‘‘ وہ ہر بات میں ایک ہی بات کرتا… جاوید کوڈو زندگی میں کئی حادثات کا شکار ہوا۔ کبھی بلڈ پریشر، کبھی شوگر، کبھی روڈ حادثات، کبھی دل کے دورے، کئی بار ہسپتال گیا اور زخمی حالت میں بھی اس نے لوگوں کو مسکراہٹ دی۔ وہ دنیا میں شاید آیا ہی اس لئے تھا کہ مسکراہٹیں بکھیرے… لوگوں کو ہنسائے… روتوں کے لبوں کو ہنسی دے اور خدا تعالیٰ نے شاید اس سے یہی کام کرانے تھے۔ میرے ساتھ ہونے والی ان گنت ملاقاتوں میں سنجیدگی اور مزاج شامل ہوتا کیونکہ مجھے جگت نہیں لگانی آتی اور کہتا تھا کہ زندگی کو خوش رکھنے کے لئے جگت لگایا کریں۔ جب میں زندگی اور ڈرامے کے بارے بات کرتا تو وہ ہمیشہ یہ کہتا کہ دونوں ایک نام ہیں۔
اسد بھائی… یہ زندگی خود ایک ڈرامہ ہے۔ یہ وہ اصل ڈرامہ ہے جو ہمارے گھروں سے شروع ہوتا ہے پھر گلیوں، محلوں، بازاروں، دفتروں سے ہوتا ہمارے سٹیج پر پردہ اٹھنے سے پردہ گرنے تک ختم ہو جاتا ہے۔ اگلے دن کے لئے … مجھے بھی اس بات کا کبھی احساس نہیں ہوا کہ میں چھوٹے قد کا بندہ ہوں۔ اللہ نے مجھے رزق دینے کا وعدہ کیا تھا اس نے میرے راستے ہی بدل دیئے۔ میں نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ جاوید کوڈو ایک بڑا سٹار بن جائے گا۔ بڑے بڑے لوگ مجھے ملیں گے اور بڑے ناموں اور بڑے لوگوں میں میرا بھی شمار ہوگا جہاں سے گزروں گا لوگ مجھے ہی دیکھیں گے۔ میرے ساتھ بات کریں گے۔ میں بھی آٹو گراف دوں گا۔ میری تصاویز اخبارات والے شائع کریں گے لوگ میرے ٹی وی کے ڈرامے اور میری فلمیں پسند کریں گے، لوگ تھیٹر پر آ کر مجھے داد دیں گے… یہ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا… میں کام ہی کام کرتے کرتے اس تھیٹر پر جوان ہوا۔ اسی تھیٹر نے مجھے عزت، دولت، گھر، بیوی اولاد دی۔ میں دوسرے بڑے لوگوں کے مقابلے میں اس لئے خوش قسمت ہوں کہ میرا نام بھی جب میرے استاد محترم امان اللہ (مرحوم)، سہیل احمد، ببو برال، جاوید ٹیڈی اور البیلا، علی اعجاز کے ساتھ آتا ہے تو پھر یہ میرے مولا کا ہی کرم ہے۔ یہ اسی کی دین ہے کہ میں وہ کام کر گیا جو شاید کوئی اور نہ کر سکا۔ میرے کام میرے ہی نام لکھے گئے تھے اور میں نے وہ کئے۔
جاوید کوڈو سے میری دوستی کے علاوہ ایک الگ عشق بھی تھا۔ درج بالا باتیں اس نے ایک محفل میں نہیں کیں۔ میرے ساتھ اکثر ایسی ہی باتیں کرتا اگر میں بھول نہ پائوں تو مجھے یاد ہے ذرا ذرا وہ باتیں جو کوڈو مجھ سے جاوید کے اندر کے دکھ سکھ پھرولتا تو غمگین ہو جاتا۔ میری اکثر ملاقاتیں محفل یا تماثیل تھیٹر پر ہوا کرتی تھیں۔ 60سال کی عمر میں وفات پانے والے جاوید نے اپنے فنی سفر کا آغاز 1980ء میں ٹی وی اور فلم سے شروع کیا اور وفات تک اس کے کریڈٹ میں 150سے زائد پنجابی اور اردو فلموں کے علاوہ تعداد یاد نہیں جو ٹی وی اور تھیٹر پر ہوئے۔ ایک اندازے کے مطابق اس نے زیادہ تر ڈرامے نامور اداکار، صداکار اور رائٹر سہیل احمد، ببو برال، امان اللہ اور علی اعجاز کے ساتھ کئے۔ جاوید نے اداکار سلطان راہی اور مصطفی قریشی کے ساتھ کام کرتے ہوئے ان کو جہاں استاد کا درجہ دیا وہاں ان اداکاروں نے بھی جاوید کوڈو کے بارے میں یہی کہا کہ اس کے قد پر نہ جائیں۔ یہ ہم سے بھی بڑا فنکار ہے اور اس کے کام نے ہمیں بھی کبھی کبھی سوچنے پر مجبور کیا۔ جاوید قدرتی صلاحیتوں سے مالا مال اداکار تھا جو کبھی کبھی سکرپٹ سے ہٹ کر ایسے ایسے ڈائیلاگ بول جاتا کہ رائٹر بھی بعض اوقات حیران رہ جاتے۔
یہاں مجھے ایک اور واقعہ یاد آیا۔ روزنامہ پاکستان کے ابتدائی دنوں میں پاکستان فورم میں میں نے جاوید کوڈو کو بلایا۔ انہی دنوں اس کی نئی شادی ہوئی تھی جیسے ہی دونوں فورم میں آئے تو ہال میں موجود لوگوں نے کوڈو کو کندھوں پر اٹھا لیا تو اس نے بلند آواز میں کہا۔
’’اوئے خیال کرو… میری بڈی نوں نہ چک لیا جے‘‘
فی لہدی مزاح کا وہ بے تاج بادشاہ تھا۔ جگت اس کی میراث، ادائیگی بروقت اور ڈائیلاگ میں کہیں جھول نہیں دیکھی۔ جاوید کسی اکیڈیمی یا تعلیمی ادارے کا کسی طالبعلم نہیں رہا۔ اس کی غربت وسیلہ تعلیم کے آڑے آئی مگر قدرت مہربان تھی اور اس کے کام نے اس کو امارت دے دی۔ برے اور اچھے حالات میں وہ کبھی مایوس اور ڈگمگایا نہیں۔ اس نے تمام معاملہ اپنے رب پر چھوڑ دیتا اور اس کے کام ہو جاتے…
چراغ زندگی ہوگا فروزاں، ہم نہیں ہونگے
چمن میں آئے گی فصل بہاراں، ہم نہیں ہونگے
اور آخری بات…
جاوید کوڈو… زندگی کے آخری دنوں بہت بیمار تھا… لاغر تھا… مدد کا طلبگار تھا… مگر وہ اپنے ساتھیوں کی راہ تکتے تکتے لمبے سفر پر روانہ ہو گیا البتہ اس کے بچوں نے جتنی ہو سکتی تھی باپ کی خدمت کی۔ ایک مکمل… ایک گریٹ اور خوددار جاوید کوڈو… کے بارے میں یہی کہوں گا کہ یہ ہمارا المیہ ہے کہ اپنے ہیروز کا کبھی مان نہیں رکھ سکے نہ ان کی قدر کی نہ اس وقت امداد کر سکے جب وہ کسی نہ کسی ہسپتال میں زندگی موت سے لڑ رہا ہوتا۔ خدا تعالیٰ تجھے جنت القردوس میں جگہ عطاء فرمائے…بعض جان سے پیارے لوگ اتنی دور چلے جاتے ہیں کہ ان سے دوبارہ ملنے کے لئے مرنا پڑتا ہے…
کچیاں کنداں وانگو ڈگ پئے آواہاں مائیں
جاوید کوڈو… افسوس ہم تیری قدر نہ کر سکے!
09:31 AM, 16 Apr, 2025