اے اہلِ غزہ !… ہمیں معاف کردو!

09:24 AM, 16 Apr, 2025

اے اہلِ غزہ! اے اہلِ فلسطین! ہمیں معاف کردو۔ اگرچہ ہمارا جرم قابلِ معافی نہیں، لیکن ہم تمہارے سامنے دست بستہ التجا کرتے ہیں، ہمیں معاف کردو۔ ہم تمہارے سامنے بطور انسان بھی شرمندہ ہیں اور بطور مسلمان بھی! 
اے اہلِ غزہ! تمہارے اوپرڈھائے جانے والے پیہم مظالم پر ہم مسلسل خاموش ہیں۔ ہماری خاموشی ظالموں کو مزید طاقت مہیا کر رہی ہے۔ یوں تمہارے ساتھ ہونے والے اس ظلم میں ہم برابر کے شریک ہیں۔ کلمہ گو بھائی ہونے کے ناتے ہم پر فرض تھا کہ تمہارے لیے ہتھیار اٹھاتے،لیکن ہم تمہارے لیے آواز بھی نہ اٹھا سکے۔ ہماری زبانوں پر مصلحت کے تالے لگے رہے۔ ہم پابہ زنجیر ہیں۔ ہم پر ہمارے حکمران قابض ہیں اور ہمارے حکمرانوں کے دلوں پر طاغوت اور دماغوں پر خناس کا قبضہ ہے۔ کہنے کو ہم آزاد ہیں لیکن ہماری آزادی گروی رکھی ہوئی ہے۔ ہم بین الاقوامی ساہوکاروں کی مرضی کے خلاف ایک قدم نہیں چل سکتے… ہمیں اندیشہ ہے کہ تمہارے حق میں آواز بلند کرنے پر ہمیں قرقی کا نوٹس مل جائے گا۔ فی الوقت معاشیات ہماری ترجیح اوّل ٹھہر چکی ہے۔ ہم نے دل کی آزادی، شہنشاہی کی بجائے شکم ، سامانِ موت کا انتخاب کر لیا ہے۔ اس لیے اب ہمارا ضمیر بتدریج خاموش ہوتا جا رہا ہے۔ 
اہلِ غزہ! ہماری مجبوریوں عذر قبول کرو! ہمیں بددعائیں نہ دو، ہمیں ملامت نہ کرو ،ہمارے نیم مردہ ضمیر پر کچوکے نہ لگاؤ۔ تمہارا ضمیر اور خمیر پیغمبروں کی زمین سے اٹھا ہے۔ تمہارا بچہ بچہ صبر ، استقامت اور حریت کا پیغام بر ہے۔ ہم ٹھہرے صدیوں کے غلام… خوئے غلامی ہمارے روئیں روئیں میں بس گئی ہے۔ ہم سمجھ رہیتھے کہ ہم آزاد ہو چکے ہیں اور تم ابھی غلام ہو… لیکن تم نے ثبوت دے دیا ہے کہ صرف تم آزاد ہو… ہم ستاون ممالک غلام ہیں… مجبوریوں کے غلام، خوف کے غلام، اپنی علاقائی عصبیتوں اور مالی مفادات کے غلام… اور سب سے بڑھ کر لذات ِ کام و دہن کے غلام!
اہل غزہ ! تم نے دنیا کو بتلا دیا ہے کہ لڑنے والا آزاد ہوتا ہے، خواہ وہ مغلوب ہی کیوں نہ ہو چکا ہو… خواہ اس سے اس کی زمین ہی کیوں نہ چھن چکی ہو، وہ آزاد ہے۔ آزاد ہتھیار نہیں ڈالتا… جو ہتھیار ڈال دیتا ہے ، وہ غلام بن جاتا ہے۔ تم نے ہتھیار نہیں ڈالے … تم آزاد ہو۔ ہم ہتھیار ڈال چکے ہیں… ہم غلام ہیں۔ ہم ہتھیاروں کی نمائش کرنے والی قوم بن چکے ہیں… فقط نعرے لگانے والی قوم… لیکن ہمارا دعویٰ ہے کہ " ہم زندہ قوم ہیں" ہماری زندہ دلی دیکھنی ہو تو کسی فوڈ سٹریٹ میں ٹوٹ پڑنے والے رش میں دیکھو، کسی تھیٹر، سینما اور اسٹیڈیم کے گرد منڈلاتے ہوئے ہجوم میں دیکھو… 
دیکھو! کہ ہم کیسی "زندہ دل" قوم ہیں۔ 
اہلِ غزہ ! ذرا سی دیر کے لیے بھی نہ سمجھنا کہ ہم دین سے محبت نہیں کرتے… ہم دین سے بہت محبت کرتے ہیں… ہم صرف اپنے دینی بھائیوں سے محبت نہیں کرتے… دیکھو! ہماری مسجدیں نمازیوں سے بھری ہوئی ہیں۔ ہم اپنی منقش مرمر کی سلوں والی مسجدوں میں لاؤڈ سپیکروں میں ایک دوسرے کو سنانے کے لیے تمہارے لیے ہر روز دعائیں کرتے ہیں… لیکن ہمارے گھروں پر کوئی افتاد پڑتی ہے تو ہم دعا سے پہلے دوا کی طرف بھاگتے ہیں۔ ہم اپنے دشمن کو اسلحے سے مارتے ہیں لیکن تمہارے دشمن کو مارنے کے لیے ہم دعاؤں کا سہارا کافی سمجھتے ہیں۔ پیاس سے جاں بلب بھائی کے لیے ہمارے پاس پانی نہیں فقط تسلی اور دعا کے الفاظ ہیں۔ لفظوں کی ارزانی کوئی ہم سے سیکھے۔ ہم ستاون اسلامی ممالک ہر سال پچیس لاکھ حاجی اپنے ملکوں سے روانہ کرتے ہیں… یہ ستاون ممالک اگر صرف ایک ایک ہزار سپاہی بھی تمہاری مدد کو بھیج دیں تو مظلوموں کی مدد کے لیے اٹھنے والے پانچ لاکھ ستاون ہزار فوج کے قدموں کی آواز سے تمہارے دشمن کے دل دہل جاتے ، لیکن افسوس ہم متحد ہو کر کسی فیصلے اور کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔
ہمارے حوصلے کی داد دو! ہمارے دسترخوانوں سے ایک ڈش بھی کم نہیں ہو پاتی! ہمارے افطار دسترخوان ان ہی ملٹی نیشنل کمپنیوں کی مصنوعات سے سجاے جاتے ہیں جو تمہارے قاتلوں کی علی الاعلان مالی امداد کرتے ہیں۔ ہم اپنے خبرناموں میں ہر روز تمہاری گلیاں اور بازار کھنڈر وں میں بدلتے ہوئے دیکھتے ہیں، لیکن ہمارے بازاروں کی رونق ذرا کم نہیں ہوتی، ہماری عید کی خریداری بھی کم نہیں ہوئی۔ ہم بالکل پہلے کی طرح سوتے اور جاگتے ہیں۔ہماری تعیش زدہ زندگی کے شب و روز میں ذرہ برابر فرق نہیں آیا۔ غفلت کی نیند ہمیں سلا دیتی ہے اور ضرورت کی چبھن ہمیں ہماری آرام گاہوں سے اٹھا کر بازاروں اور دفتروں میں لا پھینکتی ہے۔ ہماری یوں صبح سے شام ہوتی ہے… اور زندگی تمام ہوتی ہے۔
اے اہلِ غزہ! تم پر ہونے والے پے در پے ظلم کی منظر کشی اور لائیو نسل کشی نے انسانوں سے انسان ہونے کا اور مسلمانوں سے مسلمان ہونے کا شرف چھین لیا ہے۔ پچھلے ادوار میں اگر کسی جگہ ظلم و بربریت کا بازار گرم ہوتا تھا، کہیں نسل کشی کی بھیانک واردات ہوتی تھی تو اس کی اطلاع باقی دنیا تک بہت دیر سے پہنچتی ، یوں ہمارے بزرگوں کے پاس یہ عذر ہوتا کہ جب تک ہمیں اس ظلم کی اطلاع پہنچی ، بہت دیر ہو چکی تھی۔ برق رفتار اطلاعاتی دنیا میں آج ہم سب ظلم و بربریت کا بھیانک منظر ہم روزانہ لائیو دیکھ رہے… ہمارے پاس یہ عذر ختم ہو چکا ہے کہ ہمیں اطلاع نہ تھی۔
 اہل غزہ! تم نے ہمیں بتا دیا ہے کہ ہم ابھی تہذیب سے کوسوں دور ہیں۔ ہم نے صرف ترقی کی ہے…ہم نے باہر روشنی ایجاد کی ہے ، لیکن ہمارے اندر اندھیرا ہے۔ ہماری تہذیب نے ترقی معکوس کی ہے۔ انسانیت مجموعی طور پر انسانی اقدار کے میدان میں ابھی عہدِ طفولیت میں ہے، اخلاق ، ایثار اور اجتماعی عدل و انصاف کے باب میں ابھی ہم گھٹنوں کے بل رینگ رہے ہیں۔ ہم پیغمبروں کے نام لیوا ضرور ہیں لیکن پیغمبرانہ تعلیمات سے ہمارا تمسک نام کا ہے۔ سرزمین ِ فلسطین وہ قد آور آئینہ ہے جس میں انسانیت اپنے ضمیر کاقد کاٹھ دیکھ سکتی ہے۔ ہمارا اجتماعی ضمیر کبھی اس طرح ہڑبڑا کر نہیں جاگا کہ ہمارا قول ہمارا عمل بن جائے ، ہماری امن کی قرار دادیں فی الفور نافذ العمل ہو جائیں۔ ہم اچھے انسان رہے ، نہ اچھے مسلمان! خدا اور خلقِ خدا کے سامنے پیش کرنے کے لیے ہمارے پاس کوئی بھی معقول عذر نہیں۔ 
ہم بھول گئے کہ ہمیں جہاد کا حکم دیا گیا تھا۔ ہمیں اس باب میں قرآن میں تنبیہ کی گئی تھی:
’’کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اْن ناتواں مردوں عورتوں اور ننھے ننھے بچوں کے چھٹکارے کے لئے جہاد نہ کرو،جو دعائیں مانگ رہے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! ان ظالموں کی بستی سے ہمیں نجات دے اور ہمارے لئے خاص اپنے پاس سے حمایتی مْقّرر کر دے اور ہمارے لئے خاص اپنے پاس سے مددگار بنا۔‘‘
اے اہلِ غزہ! ہمیں معاف کر دو! ہمیں زعم تھا کہ ہم مسلمان ہیں، ہم ہی مومن ہیں… لیکن ہماری بے حسی نے ہمیں بتلا دیا کہ ہم کتنے مسلمان ہیں اور کتنے مومن۔ اگر ہم مومن ہوتے تو جسدِ واحد کی طرح ہوتے… اَز روئے حدیث… اگر جسم کا ایک حصہ تکلیف میں ہو تو پورا وجود تکلیف محسوس کرتا ہے۔ تکلیف محسوس کرنا جسمانی زندگی کی علامت ہے اور درد … دوسروں کی تکلیف کا احساس … روحانی زندگی کا ثبوت ہے۔ ایسے معلوم ہوتا ہے جیسے ہم جسمانی اور روحانی دونوں اعتبار سے مردہ ہیں!! خود غرض مردہ ہوتا ہے۔ کتابِ زندگی میں صرف بے لوث انسان ہی قابلِ ذکر ہوا کرتے ہیں۔ خود غرض اس طرح پیوندِ خاک ہوجاتا ہے کہ اس کا ذکر کرنے والا کوئی نہیں ہوتا… اس پر رونے والا کوئی نہیں ہوتا۔ 
اہلِ غزہ! ہم شرمندہ ہیں… ہم ملّت سے نکل کر قومیتوں میں بکھر گئے۔ ہماری وحدت پارہ پارہ ہو چکی! ہمارا بیانیہ ملّت کا بیانیہ نہیں رہا … ہمارا بیانیہ استعماری طاقتوں سے مستعار لیا ہواہے۔ کوئی حریت پسند ہے یا دہشت گرد؟… یہ بیان قصرِ سفید کے مکین جاری کرتے ہیں۔ آزاد قومیں اپنا بیانیہ خود بناتی ہیں۔ ہم اپنوں کو غیروں کی نظر سے دیکھتے ہیں اور غیروں کا اپنا سمجھ لیتے ہیں۔ جب تک ہم "ہم" نہ بنیں …باہم ایک دوسرے کی مدد کیسے کر سکتے ہیں!۔

مزیدخبریں