پمز نرسری آتشزدگی، 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کی انکوائری رپورٹ جاری

03:53 PM, 15 Sep, 2026

اسلام آباد: پمز کی ایم سی ایچ نرسری میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کے واقعے کی انکوائری رپورٹ جاری کردی گئی۔ وزیراعظم شہباز شریف کے حکم پر قائم تحقیقاتی کمیٹی نے آتشزدگی کی وجہ، حفاظتی انتظامات اور ادارہ جاتی ذمہ داریوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔

 رپورٹ کے مطابق واقعے کے وقت نرسری میں 15 نومولود بچے زیر علاج تھے، جن میں سے 14 جاں بحق جبکہ ایک بچہ محفوظ رہا۔ سی سی ٹی وی ریکارڈ کے مطابق شام 6 بج کر 38 منٹ کے قریب آگ شدت اختیار کرچکی تھی۔

 تحقیقاتی کمیٹی کے مطابق فرنٹ لائن عملے نے بچوں کو بچانے کی بھرپور کوشش کی، جبکہ نرس رضیہ نورین ایک نومولود کو بحفاظت نکالنے میں کامیاب رہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دستیاب شواہد سے عملے کی جانب سے بچوں کو بے یار و مددگار چھوڑنے کی تصدیق نہیں ہوتی۔

 نیشنل فرانزک ایجنسی کے تکنیکی شواہد کے مطابق آگ لگنے کی سب سے زیادہ ممکنہ وجہ اے سی یونٹ نمبر 2 کی بجلی کی کیبل میں برقی خرابی تھی۔ آتش گیر مواد اور آکسیجن کی موجودگی نے آگ اور دھوئیں کی شدت میں اضافہ کیا۔

 رپورٹ میں نرسری میں مؤثر فائر ڈیٹیکشن، الارم، اسپرنکلر اور نومولود بچوں کے انخلا کے لیے باقاعدہ مشق شدہ نظام نہ ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ بیرونی امدادی نظام بھی آگ لگنے کے تقریباً 16 منٹ بعد فعال ہوا۔

 کمیٹی نے پمز اور اعلیٰ انتظامیہ پر بنیادی ادارہ جاتی ذمہ داری عائد کرتے ہوئے انفرادی ذمہ داری کے تعین کے لیے مزید تحقیقات کی سفارش کی ہے۔

 تحقیقاتی رپورٹ میں فائر سیفٹی اور برقی حفاظتی آڈٹ، مؤثر فائر الارم و فائر فائٹنگ سسٹم، خصوصی ایس او پیز اور نومولود بچوں کے محفوظ انخلا کے لیے باقاعدہ فائر ڈرلز کرانے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

مزیدخبریں