لاہور : اردو ادب کی معروف افسانہ نگار ہاجرہ مسرور کو ہم سے رخصت ہوئے 13 برس بیت گئے، لیکن ان کی تحریریں آج بھی دلوں کو چھوتی ہیں اور قاری کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔
ہاجرہ مسرور 1930 میں لکھنؤ (بھارت) میں پیدا ہوئیں۔ بچپن ہی سے لکھنے کا شوق تھا، اور یہ شوق بعد میں ان کی پہچان بن گیا۔ تقسیم کے بعد وہ پاکستان آ گئیں اور یہاں انہوں نے کہانی نویسی اور افسانہ نگاری کے میدان میں قدم رکھا۔
ان کے افسانوں میں خاص طور پر عورتوں کے مسائل، سماجی سچائیاں اور انسانی جذبات کی خوبصورت عکاسی ملتی ہے۔ ان کا اندازِ بیان سادہ، مگر اثر انگیز تھا۔ وہ احمد ندیم قاسمی کے ساتھ مشہور ادبی رسالہ "نقوش" کی اشاعت میں بھی شریک رہیں، جو اردو ادب کا ایک بڑا نام ہے۔
ہاجرہ مسرور کے کئی افسانوی مجموعے شائع ہوئے، جیسے "چاند کے دوسری طرف", "اندھیرے اجالے", "چوری چھپے", اور "وہ لوگ"۔ اس کے علاوہ انہوں نے فلموں اور ڈراموں کے لیے بھی اسکرپٹ لکھے، اور اپنی کہانیوں کے ذریعے فلمی دنیا میں بھی اپنا نام بنایا۔
ان کی ادبی خدمات پر انہیں کئی ایوارڈز ملے، جن میں "نگار ایوارڈ" اور صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی (1995) شامل ہیں۔
ہاجرہ مسرور 15 ستمبر 2012 کو کراچی میں وفات پا گئیں، لیکن ان کا لکھا ہوا آج بھی پڑھا جاتا ہے، سمجھا جاتا ہے، اور محسوس کیا جاتا ہے۔ وہ چلی گئیں، مگر ان کا لفظ زندہ ہے۔