افسروں کا افسر

09:22 AM, 15 Sep, 2025

          ایک بہترین  افسر نبیل اعوان کوچیئرمین پی اینڈ ڈی  پنجاب کی  اہم  ترین پوسٹ سے ہٹا کر  انہیں   صوبے  کی سیاسی حکمران  الیٹ  کی طرف سے  یہ پیغام  دیا گیا تھا کہ ہمیں  قانون ضابطے کو پسند کرنے والے افسروں کی  ضرورت نہیں مگر  وفاقی  حکومت نے  چند  ہی  ہفتوں بعد اسے  پورے پاکستان کے افسروں کا افسر یعنی وفاقی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ  لگا کر  اسکی صلاحیتوں اور ضرورت کا اعتراف  کر لیا ہے  ،  پنجاب میں چیف سیکرٹری زاہد زمان ،ایڈیشنل چیف سیکرٹری احمد رضا  سرور، چیئرمین پی اینڈ ڈی  بیرسٹر نبیل اعوان کی ٹرائیکا   بہترین کام کر رہی تھی ،گڈ گورننس کم از کم  انتظامی  معاملات میں تو نظر آ رہی تھی۔بیرسٹر نبیل پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس سے تعلق رکھنے والے گریڈ بائیس کے افسر ہیں،گریڈ بائیس سے اوپر کوئی گریڈ نہیں اور سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ سے بڑا کوئی افسر نہیں ،ان کی   صلاحیتوں پر کسی مخالف کو بھی شک نہیں مگر اس  اچھے  افسر کے ساتھ پنجاب حکومت نے اچھا سلوک نہ کیا ،بیرسٹر نبیل انتظامی صلاحیتیں رکھنے کے ساتھ ساتھ  موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف اور سابقہ وزیر اعظم میاں نواز شریف کے بھی انتہائی معتمد افسر گردانے جاتے ہیں ،  شریف فیملی کے قریبی سمجھے جانے کی وجہ سے جب  فواد حسن فواد اور احد  چیمہ کو نیب نے گرفتار کیا تھا تو اس وقت نبیل اعوان بھی اسی وجہ سے نیب کی تحقیقات کا سامنا کرتے رہے تھے۔         
 نبیل اعوان نے اپنی اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیتوں، دیانت داری اور شاندار انتظامی مہارت کی بدولت سول سروس میں ایک منفرد مقام بنایا ہے اور اپنے کیریئر کے مختلف ادوار میں اہم انتظامی عہدوں پر خدمات انجام دیں اور ہمیشہ میرٹ، شفافیت اور اچھی گورننس کو ترجیح دی، وہ وزیر اعلیٰ پنجاب  شہباز شریف  کے دفتر  میں ایڈیشنل سیکرٹری ، وزیر اعظم  نواز شریف  کے ساتھ پی ایس او اور ایڈیشنل سیکرٹری اسی طرح پنجاب میں وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز ، گورنر پنجاب کے ساتھ پرنسپل سیکرٹری  اور مختلف صوبائی محکموں کے سیکرٹری بھی رہے ،    ان کا شمار ان افسران میں ہوتا ہے جنہوں نے نہ صرف اپنی ذمہ داریاں بہترین انداز میں نبھائیں بلکہ نظام کو مؤثر بنانے کے لیے مثبت اصلاحات اور جدید انتظامی طریقہ کار کو بھی متعارف کرایا،سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کا عہدہ پاکستان کی بیوروکریسی میں کلیدی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ اس کے ذریعے وفاقی سول سروس کی پالیسی سازی، افسران کی ترقی اور تعیناتی کے اہم فیصلے ہوتے ہیں، نبیل اعوان جیسا وژن رکھنے والا اور اعلیٰ صلاحیتوں کا حامل افسر اس منصب پر انا اس بات کی ضمانت ہے کہ شفافیت، میرٹ اور کارکردگی کو مزید فروغ ملے گا۔ان کی شخصیت کا خاص پہلو یہ بھی  ہے کہ وہ ایک دور اندیش، معاملہ فہم اور ٹیم ورک پر یقین رکھنے والے  ہیں،ان کا اسلوبِ کار افسران کے لیے حوصلہ افزائی اور رہنمائی کا ذریعہ بنتا ہے، توقع کی جا رہی ہے کہ ان کی قیادت میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن مزید فعال اور مؤثر ہوگا اور پاکستان کی سول سروس میں اصلاحات اور پیشہ ورانہ ترقی کے نئے در  وا  ہوں گے،بلا شبہ نبیل اعوان کی تعیناتی پاکستان کے انتظامی ڈھانچے کے لیے ایک خوش آئند اور مثبت پیش رفت ہے، ان کی خدمات اور وژن آنے والے دنوں میں بیوروکریسی کے معیار کو مزید بلند کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
مرکز اور صوبوں میں مختلف  سیاسی جماعتوں کی حکومتیں ہونے کی وجہ سے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کا کردار اور بھی  اہم ہو جاتا ہے،ایسے  ہی  حالات  میں، آپ کو ایک  سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کے کردار اور دور اندیشی کے حوالے سے  واقعہ  بتاتا  ہوں ،دوہزار آٹھ سے تیرہ  میں وفاق میں پیپلز پارٹی اور پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت تھی ،اس دوران پنجاب میں ایک جج خواجہ شریف پر ان کے گھریلو ملازم نے حملہ کر کے انہیں زخمی کر دیا تو  اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب  میاں شہباز شریف  کے سیکرٹریٹ  کی طرف  سے الزام لگایا گیا کہ یہ حملہ اس وقت کے صدر آصف زرداری نے کرایا ہے ،اس کی انکوائری کرائی گئی تو یہ الزام غلط  اور صرف سیاسی الزام تراشی نکلا،اس پر اس وقت کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ سے کہا کہ اس الزام تراشی پر اس وقت کے پرنسپل سیکرٹری برائے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر توقیر شاہ کو معطل کر کے انکوائری کرائی جائے ،وہ   ڈاکٹر توقیر شاہ کے خلاف ایف آئی آر درج کرا کے  انہیں  گرفتار کرنے کا پلان بنائے ہوئے تھے جبکہ وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف  ایسا کوئی بھی ایکشن نہیں چاہتے تھے، اگر اس وقت کے  سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ   اس وقت کے وزیر داخلہ کی بات مانتے    تو ملک کی دو بڑی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن)  میں محاذ آرائی بڑھ سکتی تھی مگر انہوں نے   اس وقت کے وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کو اعتماد میں لے کر ایسی کسی  بھی کاروائی کا رستہ روک دیااور یوں    سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کی دور اندیشی اور تحمل کی وجہ سے دونوں جماعتوں میں یہ محاذ آرائی ٹھنڈی ہو گئی۔   
پاکستان میں وفاقی سطح پر بیوروکریسی کے ڈھانچے میں سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کو  ’’افسروں کا افسر‘‘  کیوں کہا جاتا ہے؟اس کی  وجہ یہ ہے کہ   اسٹیبلشمنٹ ڈویژن وفاقی ملازمین کے تقرر، تبادلے، ترقی اور سروس اسٹرکچر سے متعلق سب سے اہم ادارہ ہے، وفاقی سیکرٹریز سمیت تمام اعلیٰ سول افسران کے کیریئر معاملات کا اختیار اسی ڈویڑن کے پاس ہوتا ہے،  اسی بنا پر سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو بیوروکریسی میں سب سے طاقتور اور مؤثر سمجھا جاتا ہے۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ سیکرٹری کابینہ ڈویژن بھی بہت اہم ہوتا ہے مگر اسے افسروں کا افسر نہیں کہا جا سکتا،ستر کی دہائی میں جب ذوالفقار علی بھٹو وزیر اعظم تھے اس وقت سیکرٹری کابینہ زیادہ بااختیا راور مؤثر یا افسروں کا افسر کہلاتا تھا اور اسے وفاق کا چیف سیکرٹری بھی کہا جاتا تھا اور اس پوسٹ پر سینئر موسٹ افسر کو ہی لگایا جاتا تھا  مگر بعد ازاں سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ اپنے کاموں اور عہدہ کی وجہ سے افسروں کے افسر کہلانے لگے۔اب بھی اگر جائزہ لیا جائے تو سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ،پی اے ایس ،سیکرٹریٹ گروپ اور پی ایس پی سمیت دیگر سروسز کے گریڈ بیس کے افسروں تک  بلا شرکت غیرے مکمل اتھارٹی ہیں ،وہ جس کو جب چاہیں معطل کر سکتے ہیں،اس کے خلاف انکوائری شروع کرا سکتے ہیں ،جبکہ گریڈ اکیس اور بائیس کی اتھارٹی گو وزیر اعظم ہیں مگر ان کے تمام معاملات بھی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کے ذریعے ہی وزیر اعظم تک پہنچتے ہیں ،کچھ لوگ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کو افسروں کا ’’مائی باپ‘‘ بھی کہتے ہیں، براہِ راست افسران کے کیریئر پر اثر انداز ہونے کی وجہ سے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کو    بیوروکریسی کی ریڑھ کی ہڈی تصور کیا جاتا ہے کیونکہ  پاکستان کی سول بیوروکریسی ایک پیچیدہ لیکن مضبوط ڈھانچے پر مشتمل ہے جو ریاستی نظام کو چلانے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے،اسے  بیوروکریسی کا دل بھی کہا جاتا ہے، ایک جملے میں کہا جائے تو یہ ڈویژن بیوروکریسی کی زندگی اور مستقبل کا تعین کرتا ہے، سول سروس رولز اور سروس اسٹرکچر میں کوئی بھی تبدیلی ہو تو اس کا مسودہ بھی یہ ڈویژن تیار کرتا ہے،   بیوروکریسی کے اندر کارکردگی جانچنے کا نظام  بھی اسی ڈویژن کے تحت چلتا ہے۔

مزیدخبریں