فطرت دراصل ایک خاموش مکاشفہ ہے ، ایک ایسا غیر مکتوب صحیفہ جس کی ہر سطر میں حکمت کی رمق اور ہر ورق میں سرمدی اسرار پوشیدہ ہے۔ فضا کی لطافت، بادِ صبا کی سرگوشیاں، بارش کی رم جھم، کہساروں کی ہیبت ہو یا سبزہ زاروں کی شادابی سب کائنات کی وہ نعمتیں ہیں جنہیں خالقِ ازل نے انسانی روح کے سکون اور جسمانی بقا کے لیے ہم آہنگ کیا۔ لیکن بدقسمتی سے انسان نے ان نعمتوں کو کبھی ان کی اصل وقعت سے نہیں پہچانا۔ انہیں ہمیشہ محض اپنی ضرورت اور خواہش کے تابع سمجھا اور اسی بے قدری نے ہمیںآج اس نہج پر لا کھڑا کیا جہاں نہ صرف فضا مسموم ہے بلکہ روح بھی مضطرب ہے۔ جب انسان نے کرہ ارض پر پہلا قدم رکھا تو فطرت نے اسے بانہوں میں بھر لیا۔ درختوں نے سایہ دیا، دریاؤں نے پانی دیا، پہاڑوں نے تحفظ دیا اور زمین نے گزر بسر کا سامان مگر رفتہ رفتہ انسان نے فطرت کو ایک ماں کے بجائے خادم سمجھنا شروع کر دیا اور پھر یہیں سے اس کی تباہی کا آغاز ہوا۔ درخت صرف لکڑی نہیں بلکہ کائنات کے معالج، مظاہرِ قدرت کے درویش ہیں یہ فضا کو صاف کرتے ہیں زمین کو مضبوط کرتے ہیں اور ہماری سانسوں کو زندگی عطا کرتے ہیں، آج ہماری آریوں کے سامنے بے بس ہیں۔ کہسار جو صدیوں کی خاموشی میں استقامت کا استعارہ تھے اب بارود اور مشینوں کے شور سے زخمی ہو چکے ہیں۔ چشمے جو کبھی سکوتِ شب میں تسکین کا نغمہ چھیڑتے تھے آج زہر آلود شور اور کثافت میں دم توڑ رہے ہیں۔ یہ سب محض ماحولیاتی بحران نہیں بلکہ انسانی تہذیب کے اخلاقی زوال کی عکاس ہے۔ رومی یونانی، مصری اور انڈس ویلی سب عظیم تہذیبیں اپنے ماحول سے ہم آہنگ تھیں ان کے معمار درختوں کے سائے میں بیٹھ کر منصوبے بناتے تھے ان کے شعرا پہاڑوں اور دریاؤں کو استعارہ بناتے تھے۔ کوئی بھی تمدن اس وقت تک قائم رہتا ہے جب تک وہ اپنی زمین اور فطرت کے ساتھ وفادار رہتا ہے لیکن جب انسان اپنی دھرتی کو ایک مادی شے سمجھ کر لوٹنے لگے تو اس کا انجام تاریخ کے صفحات پر محض کھنڈرات کی صورت میں رہ جاتا ہے۔ بابل کی شاداب فضا، ماچو بچو کی خاموش وادیاں اور سندھ کی تہذیب کے اجڑے کھنڈرات آج اسی حقیقت کے مظہر ہیں۔ فطرت احتجاج نہیں کرتی وہ عدالتوں میں نہیں جاتی، وہ نعروں سے نہیں للکارتی بلکہ وہ خاموشی سے اپنا توازن بحال کرتی ہے۔ کبھی سیلاب کا ریلا بن کر، کبھی زلزلے کی تھرتھراہٹ میں، کبھی خشک سالی کی تپش میں اور کبھی طوفان کی شدت میں۔ یہ انتقام یا سزا نہیں بلکہ انصاف اور توازن ہے لیکن انسان اب بھی اسے سمجھنے سے قاصر ہے۔ زمین، درخت، پہاڑ، ندیاں سب ہمارے لیے ملکیت نہیں بلکہ امانت ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے فطرت کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کی وہ ترقی اور سکون کی شاہراہ پر گامزن ہوئیں مگر آج انسان اپنی تہذیب کو کنکریٹ کے جنگلات میں دفن کر رہا ہے۔ ہم وہ عجیب لوگ ہیں جنہوں نے سمندر کو کوڑا دان بنایا اور پھر ساحل پر بیٹھ کر گلہ کیا کہ پانی صاف نہیں، مچھلی کم ہے، ہم نے زمین کا سینہ کاٹ کر معدنیات نوچ لیں اور پھر اس بات پر حیرانی کا اظہار بھی کیا کہ زلزلے اتنے کیوں بڑھ گئے ہیں ہم وہ لوگ ہیں جو درختوں کو کاٹ کر پھر سایہ تلاش کرتے ہیں، پہاڑوں کو توڑ کر استحکام چاہتے ہیں، ندیوں کو زہر آلود کر کے شفاف پانی کی آس لگاتے ہیں۔ ہم نے فطرت کو ہمیشہ ہی لوٹا اور پھر اس سے یہ شکوہ بھی کیا کہ بارش کم کیوں ہے، ہوا زہریلی کیوں ہے، موسم بگڑے ہوئے کیوں ہیں۔ آج ہمارے شہر کچرے میں ڈوبے ہوئے ہیں، فضائیں شور سے بھری ہوئی ہیں، درخت ہماری حماقتوں کے تبرک میں جل کر خاک ہو رہے ہیں اور ہم اب بھی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم مہذب ہیں۔ یہ بے حسی محض ماحولیات کی تباہی نہیں بلکہ انسان کی روحانی گراوٹ کی علامت ہے۔ جس معاشرے میں فطرت کو اجاڑنے والے ہاتھ بے خوف ہوں پرندوں کی چہچہاہٹ کہیں دب جائے وہاں بسنے والے انسانوں کے دل بھی ویران ہو جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنی آئندہ نسلوں کے لیے صحرا اور دھواں چھوڑ جانا چاہتے ہیں یا سبزو شاداب زمین؟
ترقی یہ نہیں کہ درخت کاٹ کر سڑکیں بنائی جائیں، پہاڑ کاٹ کر کالونیاں آباد کی جائیں ندی، نالوں کے راستے بند کر کے رہائش گاہیں بنائی جائیں بلکہ ترقی یہ ہے کہ ہم اپنی آئندہ نسلوں کو زمین اسے کے اصل حسن کے ساتھ سونپیں۔ زمین انسان کی ملکیت نہیں ہے انسان محض اس کے مسافر اور امین ہیں۔ ہمیں اپنی روش تبدیل کرنا ہو گی، درخت اگانا ہوں گے، پہاڑوں کی خاموشی کو برقرار رکھنا ہو گا، دریائوں کو آلودگی سے پاک کرنا ہو گا۔ فطرت کے ساتھ محبت دراصل اپنی بقا کی ضمانت ہے۔ انسان نے اپنی کوتاہ بینی اور آسائش کے لیے فطرت کو زخمی کیا لیکن وہ بھول گیا کہ درختوں کی سبز چھائوں، پہاڑوں کی خاموش عظمت اور فضائوں کی شفاف سانس کے بغیر اس کی اپنی حیات ادھوری ہے۔ یہ کائنات محض منظرنامہ نہیں بلکہ ایک عہد ہے جو ہر نسل سے نیا معاہدہ کرتی ہے۔ وہ نسلیں جو کل اس دھرتی پر سانس لینے آئیں گی ہمارے فیصلوں کی گواہ بھی ہوں گی اور ہمارے اعمال کی منصف بھی۔ سو لازم ہے کہ ہم اپنی بے حسی کو ترک کر کے دوبارہ اس عہد کو یاد کریں جو ہمیں فطرت نے سونپا تھا۔ درختوں کی چھائوں، پہاڑوں کی عظمت اور فضائوں کی لطافت وہ ودیعتیں ہیں جو اگر ضائع ہو گئیں تو انسان اپنی تاریخ کے ملبے میں صرف ایک عبرت کی داستان بن کر رہ جائے گا۔ حقیت تو یہ ہے کہ فطرت انسانی وجود کے بغیر بھی قائم رہ سکتی ہے مگر انسان فطرت کے بغیر ایک لمحہ بھی باقی نہیں رہ سکتا۔ ممکن ہے آنے والے وقت میں ہماری کتابیں، ہمارے کالم اور ہمارے وعظ سب خاموش ہو جائیں لیکن سوکھے درختوں کی کرچیاں، خالی پہاڑوں کی بازگشت اور زہر آلود ہوا ہماری بے قدری کا اعلان کرتی رہیں گی۔
ماحولیات کا ماتم
09:20 AM, 15 Sep, 2025