قطر مغربی ایشیا کا ملک ہے، خودمختار ریاست کے طور پر جانا جاتا ہے۔ خلیج فارس اور خلیج بحرین سے متصل ہے۔ دارالحکومت دوحہ، کرنسی ریال کہلاتی ہے، اس کی آبادی قریباً تیس لاکھ اور رقبہ ساڑھے گیارہ ہزار کلومیٹر ہے۔ وزیراعظم محمد بن عبدالرحمن بن جاسم الثانی ہیں۔ امریکہ کا دوست ملک ہے۔ گزشتہ ایک دہائی سے بین الاقوامی سیاسی سرگرمیوں کا مرکز ہے۔ متحارب ممالک کے مصالحتی معاملات میں پیش پیش نظر آتا ہے، اس کی اہمیت کی بڑی وجہ امریکہ سے قربت اور خلیج میں اس کی اہمیت ہے۔ اسرائیل کی طرف سے قطر پر حملے کے حوالے دو خیال پائے جاتے ہیں۔ حملہ امریکہ کی مرضی سے ہوا اور اگر نہیں تو امریکہ نے یہ حملہ روکنے کی کوشش نہیں کی۔ حملے کے فوراً بعد امریکی صدر کا بیان حقیقت جاننے کیلئے کافی ہے، ان کے مطابق انہیں اس حملے پر افسوس ہے۔ انہوں نے قطر حکومت کو اس کی اطلاع دی لیکن قطر میں ایک ہائی ویلیو ٹارگٹ موجود تھا، پس یہ حملہ ضروری تھا۔ خطے کی صورتحال میں امریکہ کا کردار اس بات سے واضح ہو جاتا ہے کہ وہ بلند بانگ دعوئوں کے باوجود فلسطین پر اسرائیل حملے بند نہیں کرا سکا۔ اسرائیل کی خواہش پر وہ بذات خود ایران پر حملہ آور ہوا۔ ایران پر حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات ہو رہے تھے اور آئندہ تین سے چار روز میں کسی نتیجے میں پہنچنا تھا۔ قطر میں مذاکرات جاری تھے جہاں حماس و فلسطین کے نمائندے موجود تھے۔ قطر حماس لیڈروں کو سمجھا جا رہا تھا کہ یہ ان کے لئے امن کا آخری موقع ہے انہیں چاہئے کہ امریکی امن فارمولے کے مطابق ہر بات تسلیم کر لیں جبکہ حماس قیادت کا موقف وہی تھا جو بیشتر دیگر مسلمان ممالک کا ہے کہ 1973ء میں فلسطینیوں اور اسرائیل کی جن علاقوں میں موجودگی تھی اس کے مطابق دو ریاستی حل چاہتے ہیں کیونکہ وہ گزشتہ پچاس برس میں فلسطین کا بیشتر علاقہ ہتھیا چکے ہیں۔ اس پر طاقت کے بل بوتے پر قابض ہیں۔ اس نکتے پر مذاکرات رکے ہوئے تھے۔ امریکہ اور اسرائیل کے پاس جب یہ اطلاع پہنچی تو طاقت کا استعمال کر کے من مانی کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ امریکہ اس حملے کو روک سکتا تھا، وہ فلسطین میں فوری طور پر جنگ بندی بھی کرا سکتا تھا لیکن اس نے اسرائیل مفادات کی نگہبانی کی ہے۔ قطر پر حملے سے قبل وہ یہ بھول گیا کہ قطر خطے میں اس کا اتحادی ہے۔ قطر نے ٹرمپ کو گزشتہ عہد صدارت میں ایک سٹیٹ آف دی آرٹ پیش قیمت جہاز بطور تحفہ دیا۔ بیگم ٹرمپ کو کئی ملین ڈالر نقد کا تحفہ پیش کیا اور آئندہ برسوں میں قطر امریکہ میں سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا واضح پیغام دے چکا تھا لیکن یہ تحائف تعلقات اور امریکہ میں سرمایہ کاری کا پلڑا اٹھ گیا۔ اسرائیل نوازی کا پلڑا بھاری رہا۔
امریکہ کے بارے میں سابق امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر کا ایک تاریخی فقرہ ان کی سفارتی زندگی کا اہم ترین فقرہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی دشمنی خطرناک ہے لیکن اس کی دوستی بھی پُرخطر ہے۔ امریکہ نے گزشتہ پچاس برس میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ کیا کیا دنیا کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے۔ ہم امریکی اتحادی تھے۔ 1971ء میں پاکستان کو دولخت کرنے میں امریکہ کا کردار واضح ہے۔ وہ بھارت کو مشرقی پاکستان میں دخل اندازی سے روک سکتا تھا لیکن اس نے نہیں روکا۔ 1979ء میں ہم نے امریکی اتحادی ہوتے ہوئے روس کے خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کیا لیکن جب روس ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا اور امریکہ کی دلچسپی ختم ہو گئی تو پاکستان کی طرف سے آنکھیں پھیر لی گئیں پھر ہم پر پابندیاں بھی عائد ہو گئیں۔ نائن الیون ڈرامے کے بعد امریکہ کو ایک مرتبہ پھر پاکستان کی ضرورت پیش آئی۔ وہ ہمارا گرویدہ ہو گیا اور ہمارے گن گانے لگا، جب مطلب ختم ہو گیا تو پاکستان کو ایک مرتبہ پھر تنہا چھوڑ دیا گیا۔ یاد رہے امریکہ افغانستان سے انخلا کے وقت کئی ارب ڈالر کا بالکل نیا اسلحہ دیدہ دانستہ چھوڑ کر گیا۔ اب وہی اسلحہ پاکستان کے خلاف بعض تخریب کار گروپ استعمال کر رہے ہیں۔ پاکستان، امریکہ کو انخلا میں معاونت فراہم نہ کرتا تو ہزاروں امریکیوں کی لاشیں امریکہ پہنچیں لیکن پاکستان کے کسی مثبت کردار کو یاد نہیں رکھا گیا جبکہ الزام تراشیوں میں اضافہ کر دیا گیا۔
امریکہ کی شہ پر اسرائیل کی ہٹ دھرمی دیکھئے، اس کا کہنا ہے ہم نے قطر میں اپنا ہدف حاصل کر لیا ہے۔ اگر کوئی بچ گیا ہے تو ہم اس اگلے حملے میں مار دیں گے۔ اسرائیل حملے میں چھ افراد شہید ہو گئے لیکن حماس قیادت محفوظ رہی۔ قطر پر اسرائیل حملہ
کے بعد اہم مسلمان ممالک کے وزرائے خارجہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں حملے کے بعد کی صورتحال پر غور کیا گیا، جس کے بعد ایک اور اہم اجلاس آج سوموار کو جاری ہے، جس میں مسلمان ممالک کے سربراہ شریک ہیں۔ اس اجلاس کے بعد ان کے فیصلے سامنے آئیں گے کہ اب مسلمان ممالک کا طرزعمل کیا ہو گا۔ سوشل میڈیا عالم اسلام کے جذبات سے کھیل رہا ہے۔ پاکستانی یوٹیوبرز اور بعض پوڈکاسٹوں نے تو حدیں پھلانگ ڈالیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے خلاف فلاں فلاں ملک کی ائیرفورس حملے کیلئے تیار ہو چکی ہے، بس اب گھنٹوں کی بات ہے۔ اسرائیل صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا۔ کچھ نے تو مشترکہ فوجی یلغار کی خبر سنا دی ، جو کچھ کہا گیا وہ دنیا کو گمراہ کیا جا رہا تھا۔ کسی بات میں کوئی حقیقت نہ تھی۔ حقیقت صرف یہ تھی قطر ساتواں ملک ہے جس پر اسرائیل نے حملہ کیا ہے، اس کے تمام حملوںمیں اس نے اپنا ہدف حاصل کیا ہے۔ دنیا کا کوئی ملک کوئی اتحاد اسے اس سے باز نہیں رکھ سکا۔ اسلامی ممالک کے اہم سربراہی اجلاس میں کیا فیصلے ہوںگے یہ اہم سوال ہے۔ جواب آیا ہی چاہتا ہے لیکن اندازہ کیا جا سکتا ہے یہ فیصلے کیا ہوں گے۔
اسلامی ممالک، اسلامی نیٹو بنانے میں سنجیدگی اختیار کریں گے تو جواب ہے نہیں۔ کوئی اپنے ملک سے امریکی اڈے ختم کرے گا۔ کوئی ایسا نہیں کرے گا۔ کوئی امریکی مصنوعات کا بائیکاٹ کرے گا۔ جواب ہے ہرگز نہیں۔ کوئی امیر ملک امریکہ میں اپنی سرمایہ کاری روکے گا تو جواب ہے کوئی اس کا سوچے گا بھی نہیں۔ کوئی امیر ملک امریکی برطانوی بینکوں سے اپنے کئی ہزار ارب ڈالر نکلوانے کا فیصلہ کرے گا۔ اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کوئی امریکی اسلحے کی خریدار سے منہ موڑے گا۔ جواب ہے جی نہیں۔ کیا تمام اسلامی ممالک اعلانیہ یا خفیہ امریکہ کی غلامی چھوڑ کر ایشیا میں موجود روس اور چین کے قریب آئیں گے تو جواب ہے نہیں۔ سب اپنی اپنی ڈفلی بجاتے رہے ہیں تو پھر اس اجلاس کا نتیجہ کیا ہو گا صرف بھرپور مذمت جیسے ہم دیکھتے ہیں۔ نوکیلے سینگوں والے بھینسے ایک غول کی صورت جمع ہوتے ہیں۔ شیر آتا ہے، ان کے سامنے ایک بچھڑے کی گردن دبوچ لیتا ہے،اس کا خون پی جاتا ہے پھر اس کا گوشت کھانے کیلئے اسے گھسیٹ کر لے جاتا ہے۔ نوکیلے سینگوں والے خاموش کھڑے رہتے ہیں اور بذبان خاموشی درندے کی مذمت کرتے ہیں حالانکہ وہ ذرا سی ہمت کریں تو شیر کو اپنے سینگوں پر اٹھا کر موت کی دہلیز پر پہنچا سکتے ہیں۔ ہم بھی مذمت کرتے رہیں گے، شیر اپنا کام کرتا رہے گا۔
نوکیلے سینگوں والے کیا کرینگے؟
09:19 AM, 15 Sep, 2025