زوال سے استحکام تک کا سفر

09:24 AM, 15 Oct, 2025

پاکستان کی معیشت اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں سے یا تو ایک نئی صبح کا آغاز ممکن ہے یا پھر مزید تاریکی کا سفر۔ سیاسی بے یقینی، بدانتظامی، غیر متوازن پالیسیوں اور صنعتی زوال نے مل کر اس ملک کے معاشی ڈھانچے کو اس حد تک کمزور کر دیا ہے کہ عوام کا اعتماد اب محض وعدوں اور بیانات سے بحال نہیں ہو سکتا۔ پچھلی کئی دہائیوں میں پاکستان نے اپنے وسائل سے زیادہ مسائل پیدا کیے ہیں۔ ہم نے زراعت اور صنعت جیسے بنیادی ستونوں کو سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا، ملک کی اقتصادی سمت کو وقتی فیصلوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بارہا متزلزل کیا۔اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ معیشت محض اعداد و شمار کا کھیل ہے تو یہ ایک بڑی غلط فہمی ہے۔ معیشت دراصل سیاسی بصیرت، انتظامی دیانت اور صنعتی نظم و ضبط کا مجموعہ ہے، اور یہی وہ تین ستون ہیں جن پر ایک مستحکم قوم کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔پاکستان کی موجودہ صورتحال کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ سیاسی غیر یقینی کے اثرات کو نظرانداز نہ کیا جائے، کیونکہ معیشت ہمیشہ سیاسی ماحول کی پیداوار ہوتی ہے۔ اگر سیاست انتشار کا شکار ہو تو سرمایہ کاری غیر یقینی میں پڑ جاتی ہے، اگر حکومتوں کی تبدیلی کا خوف ہو تو صنعتکار منصوبہ بندی نہیں کر سکتا، اور اگر پالیسیوں کا تسلسل نہ ہو تو ترقی کا خواب محض ایک نعرہ بن کر رہ جاتا ہے۔بدقسمتی سے ہمارے ہاں یہی ہوا۔ ہر آنے والی حکومت نے پچھلی حکومت کے منصوبے روک دیئے، ہر نئے وزیرِ خزانہ نے پچھلے بجٹ کو تنقید کا نشانہ بنایا، اور نتیجہ یہ نکلا کہ ملکی معیشت ایک دائرے میں گھومنے لگی۔ جب بھی پاکستان میں تھوڑا استحکام آیا، سیاسی بحران نے اسے نگل لیا۔ سرمایہ کار کے لیے سب سے بڑا اطمینان پالیسی کا تسلسل ہوتا ہے، مگر یہاں فیصلے اداروں کے بجائے بیانات کے ذریعے کیے جاتے ہیں۔ جب ریاست کا نظم کمزور ہو جائے تو معیشت کا پہیہ رک جاتا ہے۔صنعتی شعبہ، جو کسی بھی ملک کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے، آج خود سب سے زیادہ زوال پذیر ہے۔ توانائی کے بحران، غیر مستحکم ٹیکس پالیسی، درآمدی انحصار اور کرپشن نے صنعت کو اس حال تک پہنچا دیا ہے کہ نئی فیکٹریاں لگنا بند ہو گئیں، پرانی فیکٹریاں بند ہونے لگیں، مزدور بے روزگار اور سرمایہ دار بددل ہونے لگے۔ ایک وقت تھا جب پاکستان کے ٹیکسٹائل اور اسپورٹس گڈز کی دنیا میں پہچان تھی، آج ہم انہی مصنوعات کے لیے بیرونی منڈیوں میں اپنا مقام برقرار رکھنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔حکومتیں اگر بروقت فیصلے نہ کریں تو معیشت کے پہیے سست پڑ جاتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہم نے اپنے صنعتی شعبے کو کبھی بنیادی اہمیت نہیں دی۔ ہماری معاشی پالیسی ہمیشہ مالیاتی خسارے کو کم کرنے پر مرکوز رہی جبکہ ترقیاتی سوچ پس منظر میں چلی گئی۔ ہم نے صنعتکار کو مراعات دینے کے بجائے اسے ٹیکس کے بوجھ تلے دبا دیا، برآمدات بڑھانے کے بجائے درآمدات کو آسان بنایا، پیداواری لاگت کم کرنے کے بجائے قیمتوں کا تعین انتظامی احکامات سے کرنے کی کوشش کی یہی وہ غلطیاں ہیں جنہوں نے ہماری معیشت کو مفلوج کر دیا۔آج جب دنیا چوتھے صنعتی انقلاب کی طرف بڑھ رہی ہے، ہم اب بھی بجلی کی فراہمی، گیس کے نرخ اور ایکسپورٹ ریفنڈز کے چکروں میں الجھے ہوئے ہیں۔ یہ وہ قوم ہے جس کے پاس نوجوان آبادی سب سے زیادہ ہے، مگر انہیں روزگار دینے کے لیے صنعت نہیں، ہنر سکھانے کے لیے نظام نہیں، اور رہنمائی کے لیے قیادت نہیں۔ سیاسی جماعتیں اپنے منشور میں معیشت کا ذکر ضرور کرتی ہیں مگر عملی طور پر ان کی ترجیحات اقتدار کے کھیل تک محدود رہتی ہیں۔ایک بالغ نظر ریاست وہ ہوتی ہے جو پالیسیوں کو شخصیات کے تابع نہ کرے بلکہ شخصیات کو اداروں کے تابع بنائے۔ پاکستان میں اگر معیشت کو استحکام دینا ہے تو سب سے پہلے سیاسی نظام میں اعتماد پیدا کرنا ہوگا، کیونکہ جب تک سیاست میں شفافیت نہیں آئے گی، معیشت میں استحکام ممکن نہیں۔ ہم نے ہمیشہ بیرونی قرضوں کو وقتی سہارا سمجھا، مگر یہ سہارا اب بوجھ بن چکا ہے۔ جب کسی ملک کا بجٹ قرضوں کے سود میں ڈوب جائے تو ترقیاتی خواب محال ہو جاتے ہیں۔ہم اپنی معیشت کو خودکفالت کے اصول پر استوار کریں۔ زراعت کو جدید ٹیکنالوجی سے جوڑیں، صنعت کو برآمدی مرکز بنائیں، ٹیکس نظام کو سادہ اور منصفانہ کریں، اور سب سے بڑھ کر پالیسیوں کا تسلسل برقرار رکھیں۔ ایک مضبوط صنعتی بنیاد ہی ملک کو خودمختار بنا سکتی ہے۔ہمیں اپنی توانائی پالیسیوں کو ازسرِنو ترتیب دینا ہوگا تاکہ صنعتوں کو سستی بجلی اور گیس میسر آ سکے۔ اسی طرح تعلیم اور ہنر کو صنعت سے جوڑنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ نوجوان محض ڈگری یافتہ نہ رہیں بلکہ پیداواری قوت بنیں معیشت کی بہتری کے لیے سیاسی استحکام ناگزیر ہے۔ اس کے بغیر نہ سرمایہ کاری ممکن ہے، نہ ترقی۔ سیاست کو نفرت، انتقام اور مفادات کی جگہ حکمت، اتفاقِ رائے اور قومی خدمت کا مرکز بنانا ہوگا۔ اداروں کے درمیان ہم آہنگی اور عوام کے اعتماد کی بحالی کے بغیر کوئی معاشی پالیسی کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اگر ہم نے یہ نہ سمجھا تو آنے والی نسلیں بھی انہی مسائل کی دلدل میں الجھی رہیں گی۔لیکن اگر آج ہم نے نیت، نظم اور نیک نیتی سے فیصلے کیے تو پاکستان کو دوبارہ اقتصادی طاقت بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ترقی محض سڑکوں اور عمارتوں سے نہیں بلکہ سوچ کی پختگی، پالیسیوں کے تسلسل اور نیت کی سچائی سے آتی ہے۔ اس وقت پاکستان کو کسی ایک مسیحا کی نہیں بلکہ اجتماعی دانش، عملی قیادت اور صنعتی انقلاب کی ضرورت ہے۔اگر ہم اپنی سیاست کو قومی خدمت کے سانچے میں ڈھال لیں، صنعت کو سرمایہ کاری کے لیے محفوظ ماحول فراہم کر دیں، اور معیشت کو خود انحصاری کی راہ پر ڈال دیں تو یہ ملک نہ صرف اپنے قرضوں سے آزاد ہو سکتا ہے بلکہ ایک مضبوط اور خوددار ریاست کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھر سکتا ہے۔آج وقت کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ ہم اپنے قومی مفاد کو ذاتی مفاد سے بالاتر رکھیں، سیاسی انا کے بجائے اقتصادی ایجنڈے کو مرکزِ نگاہ بنائیں، اور ان نوجوانوں کے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے عملی اقدامات کریں جو آج مایوسی کے اندھیروں میں روشنی کی تلاش میں ہیں۔پاکستان کی بقا اور ترقی کا راستہ صرف ایک ہے: سیاسی استحکام، صنعتی احیا اور معاشی خود انحصاری۔ اگر ہم نے یہ راستہ اختیار کر لیا تو زوال سے استحکام تک کا سفر ناممکن نہیں بلکہ یقینی ہے۔

مزیدخبریں