عہدے سے بڑا آدمی

09:23 AM, 15 Oct, 2025

ٹی وی انڈسٹری سے وابستہ ہوئے لگ بھگ 18سال ہوگئے ہیں اوربہت ہی کم ایسے موقع ہوں گے کہ کسی شخصیت نے متاثر کیاہو،حکومتیں بنتی اور گرتی دیکھی،بہت سے سیاستدان کرسی سے جیل جاتے دیکھے،ہیروز کو زیرو ہوتے دیکھا،دبنگ سیاستدان اور سرکاری افسر بھی دیکھے مگر کسی سے مرعوب نہیں ہوا کبھی سنا تھا کہ کمزور لوگ کسی کے عہدے دولت یا شہرت سے متاثر ہوتے ہیں لیکن کسی سے متاثر ہونا ہے تو وہ اُس کا کام ہے کہ وہ معاشرے کی فلاح میں کتنا حصہ ڈال رہا ہے،ماسٹر اور گریجویشن کے میرے بہت سارے کلاس فیلوز پی ایم ایس اور سی ایس ایس کرکے سرکاری عہدوں پرفائز ہیں،اپنے دوستوں کے علاوہ کبھی کسی سرکاری افسر سے ملنے یا تعلق بنانے کی خواہش نہیں ابھری،نیو نیوز میں کام کرتے ہوئے تقریبا ًدس سال ہونے کو ہیں ،ایک سال قبل نیو نیوز کے ساتھ مجھے لاہور رنگ کے پروگرامنگ ہیڈ کی ذمہ داری بھی دی گئی تو میں نے لاہور کی خبروں واقعات اور مسائل کو بغور مانیٹر کرنا شروع کیا ،23اپریل2024ء کو آصف چوہدری جو ایک انگریزی اخبار میں رپورٹر ہیں اُن کی خبر نظر سے گزری کہ پنجاب حکومت نے 36ویں کامن کے 19گریڈ کے افسر فیصل کامران کو 20ویں گریڈ کی سیٹ پر ڈی آئی جی آپریشن لاہور تعینات کردیا گیا ہے تب یہ تعیناتی میرے سمیت بہت سے ایسے لوگ جو میرٹ اور انصاف پر یقین رکھتے ہیں ان کو ناگوار گزری کہ حکومت کیسے ایک ڈی پی او سرگودھا کو جو ایک جونیئر افسر ہے اُن کو گریڈ 20کی سیٹ پر بٹھا کر سینئر افسران کا حق مارسکتی ہے مگر ہمارے ہاں ایک خبر کی عمر دوسری خبر آنے تک کی ہے اُس کے بعد میں نے ڈی آئی جی آپریشنز کو مختلف مواقع پر دیکھنا اور سننا شروع کیالب و لہجے میں شائستگی متانت اور ہر مشکل سوال کا جواب انتہائی پروفیشنلزم اور مہارت سے دیتے دیکھا ،میچز کی سکیورٹی ہو محرم یا ربیع الاول کے جلوس ہوں یا کوئی احتجاج ہوہر موقع پر ڈی آئی جی آپریشنز متحرک نظر آئے،لاہور میں تقریباً ایک سال کے اندر دس ہزار کے قریب ایسے ایونٹ ہوئے جہاں پولیس نے سکیورٹی فراہم کی اور تقریبا ًہر جگہ فیصل کامران فرنٹ لائن پر متحرک نظر آئے۔کسی کی سوچ اور پروفیشنلزم کا اندازہ تب ہوتا ہے جب اُس کو کام کرتے دیکھتے ہیں یا وہ کسی جگہ کھل کر بات کررہا ہوتا ہے،چند ماہ پہلے انہیں ایک پوڈ کاسٹ میں انتہائی غیر ضروری سوال کا جواب دیتے سناتو اندازہ ہوا یہ انسان پروفیشنل ہونے کے ساتھ ساتھ عاجز انسان بھی ہے جس کو انا کا کوئی مسئلہ نہیں،فیصل کامران اس سوال کو اگنور بھی کرسکتے تھے مگر انہوں نے جس طرح جواب دیا اور بہت سارے لوگوں نے اس پر ٹرول بھی کیا مگر انہوں نے ناقدین کو اپنی پرفارمنس سے اس کا بھرپور جواب بھی دیا ،چند دن پہلے فیصل کامران صاحب نے نیو نیوز کے شو لائیو ود نصر اللہ ملک میں شرکت کی تو مجھے اندازہ ہوا تو کسی افسر کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہوتا ہے کہ وہ پریشر میں کس طرح پرفارم کرتا ہے اور بیرونی دبائو کو کیسے مینج کرتا ہے ابھی میرے سامنے فیصل کامران صاحب کا ایک اور انٹرویو ہے جو نیو نیوز کے اینکر علی حمزہ نے کیا اور جس میں پولیس کے نظام کو لے کر کھل کر بات ہوئی مجھے انٹرویو سن کر خوشی ہوئی کہ کم از کم ایک ایسا افسر موجود ہے جو اپنی فورس کی غلطیوں اور کوتاہیوں کو اون کرتا ہے اور اُس کی بہتری کیلئے تگ و دو کررہا ہے،رپورٹس کے مطابق مقامی لاہور شہر میں کرائم انڈیکس تقریبا ًزیر وہوچکا ہے اور لاہور پیرس سے زیادہ محفوظ قرار دیا جارہا ہے جس کا کریڈٹ پولیس کی لیڈرشپ کو جاتا ہے مگر عوام کو اصل شکایت پولیس کے رویے سے ہے جب فیصل کامران صاحب سے پوچھا گیا کہ اہلکاروں کی تربیت کیوں نہیں کرتے تو اُن کا جواب انتہائی دلچسپ تھا کہ تربیت ماں باپ نے کرنی ہے میرا کام ان کو پروفیشنل بنانا ہے انہوں نے ایک لیڈر کے طور پر پولیس میں موجود خامیوں کو کھل دل سے مانا اور اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ وہ موجودہ سسٹم میں رہتے ہوئے پولیس کے رویے کو لے کر جو عوام کو شکایات ہیں اُس کو دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کررہے ہیں ،فیصل کامران صاحب نے جب پہلے دن کھلی کچہری لگائی تو ایک سو بندہ اپنی عرضی لے کر آیا اور اب ہر ماہ تقریبا ً2800بندہ ڈی آئی جی آپریشنز کے آفس اپنی شکایات لیکر آتا ہے اور سب مطمئن ہوکر جاتے ہیں،لاہور کے عوام کیلئے سب سے بڑی خوشی کی خبر یہ ہوگی کہ پولیس ناکوں کے حوالے سے عوام کو جو شکایات ہوتی ہیں فیصل کامران صاحب پولیس ناکوں کے حوالے سے ایک نئی پالیسی لارہے ہیں جس سے عوام کو صاف پتا چل جایا کرے گا کہ اصلی ناکہ ہے یا دیہاڑی کیلئے ناکہ لگایا گیا ہے،بہرحال آج اپریل 2024ء کی ایک جونیئر افسر کی تعیناتی کی خبر کو فیصل کامران نے اپنی کارکردگی اور پیشہ ورانہ دیانتداری سے Irrelevantکردیا ہے اب دعا ہے کہ یہ افسر اپنے معاشرے اور فورس کیلئے جو مثبت کام کرنا چاہتا ہے اللہ اس کو کامیابی عطا فرمائے۔

مزیدخبریں