حالیہ دنوں میں پاکستان داخلی اور خارجی محاذوں پر بڑی کامیابی سے نمٹا ہے دانستہ اتفاق یہ کہ ایک ہی وقت میں ہندوستان افغانستان طالبان اور ان کو پسند کرنے والی فورسز ایک ہی پیج پر نظر آئیں ایک طرف افغانی وزیرخارجہ بھارت یاترہ پر اپنا وفد لے کر پہنچا دوسری طرف بھارت کے ایماء پر پاکستان سرحدوں پر افغانستان نے چھیڑ چھاڑ کی جرأت کرلی بھارت کا مقصد پاکستان جیسے عظیم فاتح ملک سے اپنی گزشتہ ہزیمت کا بدلہ لینا تو تھا ہی ساتھ ہی ساتھ بطور اسلامی ملک افغانستان کی ’’پھینٹی‘‘ بھی ہندوکدورت بھرے ذہن کو نظر آرہی تھی…
دنیا جانتی ہے پاکستان نے چالیس سال افغانیوں کو پناہ دی انہیں اپنی سرزمین پر رہنے دیا نتیجہ یہ ہوا کہ ملک میں اندھا دھند نشہ اور سمگلنگ یہ لوگ پاکستان لے آئے تمام تعلیمی آماجگاہیں نشہ کا گڑھ بن گئیں…
اتنا ہی نہیں دہشت گردی کے پنپنے کیلئے افغانستان نے بھرپور کردار ادا کیا۔ سپین بولاک سیکٹر اور افغانستان میں واقع افغان طالبان کے عصمت اللہ کرار کیمپ کو دوسری ہی سٹرائیک میں تباہ کردیا گیا یہ کیمپ دہشت گردی کا اڈہ تھا۔ افغان طالبان اس کیمپ میں پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث تھے۔
عصمت اللہ کرار کیمپ میں بھی پاکستان مخالف سرگرمیاں جاری تھیں جسے ایک سٹرائیک میں نشانہ بناکر صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا اس کیمپ میںبھاری تعداد میں خارجیوں اور افغان طالبان کو نقصان پہنچا۔
زعم ویسے تو کسی بھی ملک کے یافرد کیلئے اچھا نہیں ہوتا مگر افغانستان جو پاکستان کی مددکے بھروسے پر اپنی بہادریاں دنیا بھرکودکھا تا پھر رہا تھا بری طرح ایکسپوز ہوگیا اپنی دانست میں جو سوویت یونین کوافغان سرزمین سے بھگانے کی باتیں کرتے ہیں تو پاکستان سے چھپا ہوا نہیں کہ اگر امریکہ ساتھ نہ دیتا تو افغان سوویت یونین کا بال بھی بیکانہیں کرسکتے تھے کیا افغانستان ’’تورابورا‘‘ کو بھول گیا جہاں سے اسے دم دباکر بھاگنا پڑا تھا۔
بہرحال افغانستان کیلئے بہت اچھا موقع ہے کہ ہم تمام افغانی یہاں سے نکالنے لگے ہیں افغانستان چاہے تو انہیں بھارت بھیج دے جس کے ساتھ تازہ تازہ تعلقات بڑھا کر پاکستان کو چڑایا جارہا ہے۔
اس موقع پر پاک افواج چوکس ہیں اور افغانستان کے لیے کھلی ’’چنوتی‘‘ ہے کہ اگر خیبرپختونخواہ یا بلوچستان میں ذرا سی بھی حرکت کی تو جواب میں افغانی پوسٹوں اور اڈوں کو اڑانے میں تاخیر نہیں کی جائے گی۔
اشرف سرپوسٹ میں بھی پاکستان مخالف کارروائیوں کو اور فتنہ الخوارج کو ختم کرنے کیلئے بھاری توپ خانے کی مددسے اڑادیا گیا۔
جہاں اتنی دہشت گرد پوسٹوں کو اڑایا گیا ہے وہیں افغان طالبان کی ’’بریکوٹ بیس کیمپ کو بھی تباہ کرکے کیمپ میں چھپے افغان طالبان اور خارجیوں کو بھاری نقصان پہنچادیا گیا ہے۔
افغانستان کا ’’منوجبا‘‘ کیمپ بھی پاکستان میں تخریب کاری میں ملوث تھا جسے روئے زمین سے اڑادیا گیا ہے ۔
اسی طرح جنوبی وزیرستان کے ملحقہ سرحدی علاقوں معتددافغان چوکیاں بھی اپنے انجام کو پہنچ چکی ہیں۔
افغان طالبان کی ’’کرزئی پوسٹ‘‘کاانجام بھی وہی ہوا جو ان کے باقی دہشت گردی کے اڈوں کا ہوا۔
پاکستانی فوج نے اس جنگ میں پاکستان میں مصیبت بنانے والے خیبرپختونخواہ اور بلوچستان میں نفرت کی آگ جلانے والے بہت سے اڈے صفحہ ہستی سے مٹا دیئے اسی طرح ’’کرم‘‘ کے سامنے ’’شپولاہلا‘‘ پوسٹ بھی نیست ونابود ہوچکی ہے۔
افغانستان مسلسل پاکستان میں دہشت گردی لانچ کررہا تھا ’’برابچا‘‘ کے علاقے میں افغانیوں کی پوری بٹالین اس کام پر لگی تھی جہاں سے خارجیوں اور فتنہ الہندوستان کے بھی بھاری جانی اور مالی نقصانات ہوئے ہیں۔
اسی طرح پاکستان نے ’’ژوب‘‘سیکٹر میں اہم پوسٹ کوفتح کرکے وہاں بھی پاکستان کا جھنڈالہرادیا۔
’’نوشکی‘‘ سیکٹر میں غزنالی ہیڈکوارٹر بھی مکمل طورپر تباہ کردی گئی۔ اس غزنالی ہیڈکوارٹر میں بیسیوں طالبان اور خارجیوں کی ہلاکتیں ہوئیں۔
اسی طرح درانی چیک پوسٹ اور دیگر چیک پوسٹوں سے افغانی پاکستانی فوج کو آتا دیکھ کر دم دباکر بھاگ گئے۔
یہ وہی لوگ تھے جو پاکستان میں دہشت گردی کاشت کررہے رہے تھے اپنے دہشت گردی کے اڈوں سے دہشت گردپاکستان میں لانچ کررہے تھے۔
کمال حیرت یہ کہ جب پاکستان کروناسے بچا ہوا تھا تو پی ٹی آئی کے توسط سے تورخم کابارڈر کھول کر تمام جنگلیوں کو پاکستان آتے دیکھنے والی ویڈیو دل دہلا دیئے تھے۔
آخر افغانستان سے ملنے والے تحفوں کے جواب دینے کا وقت آہی گیا۔
جب فیلڈ مارشل نے افغانیوں کے یہاں سے نکل جانے کا حکم صادر کیا تو بہت سے بظاہر سیاسی عناصر کو تکلیف پہنچی اور وہ بلوچستان اور خیبرپختونخواہ سے دہشت گردی اور علاقہ غیروالی حیثیت ختم ہوجانے پر نالاں تھے جن کے تعاون سے وہ اپنی جماعتیں چلارہے تھے ان کا انخلا ان سیاست دانوں کو گوارا نہیں تھا۔
خطے کو دہشت گردی کی آگ میں جھونکنے والوں سے مذاکرات کیسے ممکن ہیں مگر آج بھی چند طالع آزما مفاد پرست سیاست دان ان دہشت گردی کی مشینوں سے مذاکرات کا عندیہ دے رہے ہیں جو کسی طوربھی قابل قبول نہیں۔
افغان دہشت گرداڈوں کا خاتمہ…
09:20 AM, 15 Oct, 2025