پتہ نہیں چل رہا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے اس کے پیچھے کون ہے؟ ایسا کچھ کیوں ہو رہا ہے؟ جو آگے نظر آ رہے ہیں وہ کہتے کچھ ہیں لیکن کر کچھ اور رہے ہوتے ہیں، وہ جو کچھ کہہ رہے ہوتے ہیں بظاہر بڑا معصوم سا نظر آتا ہے لیکن عملاً ان کے کہنے اور کرنے کے نتائج بڑے خوفناک نکل رہے ہوتے ہیں۔ الیکشن 2024ء کے ساتھ ہی پی ٹی آئی نے ایک اور ملک دشمن بیانیہ تشکیل دیا کہ وہ ان جعلی انتخابات کو مانتے ہی نہیں ہیں۔ اس سے پہلے 9 مئی کے واقعات پی ٹی آئی کے ریاست دشمن بیانیے کا نتیجہ ظاہر ہو چکے ہیں۔ ریاست دشمن بیانیے پر پُرتشدد واقعات ہوئے وہ کام جو ہمارے دشمن دہائیوں سے کرنے کی کاوشیں کرتے رہے ہیں، پی ٹی آئی نے کر دکھایا۔ اب پی ٹی آئی ایک اور ریاست دشمن بیانیہ تشکیل دے چکی ہے کہ ٹی ٹی پی اور افغان حکومت جو ان کی سہولت کاری کر رہی ہے کے خلاف ایکشن لینا درست نہیں ہے، ان سے مذاکرات کیے جانے چاہئیں۔ یہ بات بظاہر بڑی معصومانہ سی لگتی ہے لیکن فی الاصل ریاستی کاوشوں کو نقصان پہنچانے کے لئے کی جا رہی ہے۔ پی ٹی آئی کے خود ساختہ نئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے ریاست کو للکارنا شروع کر دیا ہے۔ ابھی علی امین گنڈا پور کا استعفیٰ منظور بھی نہیں ہوا۔ وہ بطور وزیراعلیٰ ڈی نوٹی فائی بھی نہیں ہوئے کہ پی ٹی آئی نے عمران خان کے نامزد کردہ سہیل آفریدی کو منتخب بھی کر لیا ہے۔ انہوں نے اسمبلی میں خوفناک قسم کے باغیانہ بیان بھی داغ دیئے ہیں کہ انہیں ریاست کا اپنے دشمنوں کے خلاف ملٹری آپریشن قابل قبول نہیں ہے۔ عمران خان جیل میں بیٹھ کر یہ کام بڑی مہارت اور مستعدی کے ساتھ سرانجام دے رہے ہیں۔
کچھ ہی روز پہلے آزاد کشمیر میں ایک انتشاری تحریک چلی تھی، ان کے عجیب و غریب مطالبات تھے کہا گیا کہ انہیں بھارتی ایجنسیوں کی معاونت حاصل ہے پھر ہماری حکومت ان کے ساتھ بیٹھی، مذاکرات ہوئے ان کے 90/95 فیصد مطالبات مان لیے گئے۔ ان کے کئی مطالبات عجیب و غریب قسم کے تھے، انہیں بھی تسلیم کر لیا گیا۔ اس بارے میں، قوم کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ کشمیر حساس ایریا ہے یہاں جو کچھ ہوا خطرناک ہے، بہت ہی خطرناک ہے۔ معاملہ
سردست دب چکا ہے لیکن حالات کسی بڑے حادثے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔
ہماری سویلین اور ملٹری قیادت نے مل جل کر امریکہ کو اپنی سائیڈ پر کر لیا ہے۔ بھارت کے ساتھ جنگ میں ہمیں جو فتح ملی اسے ہم سے زیادہ امریکی صدر نے پوری دنیا کو بتایا۔ بھارتی عسکری ہزیمت کا ڈھنڈورا، ہم سے زیادہ امریکی صدر نے پیٹا۔ غزہ میں جنگ بندی کے لئے بھی پاکستانی قیادت کی کاوشیں قابل ستائش قرار دی جا رہی ہیں۔ شرم الشیخ میں معاہدے کے وقت پاکستانی قیادت کی موجودگی سے نہ صرف عالم اسلام میں بلکہ عالمی سطح پر ہمارے قومی وقار میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان عالمی سطح پر ایک موثر کھلاڑی کے طور پر اپنی پوزیشن منوا چکا ہے۔
اندرون ملک معاملات درست نہیں ہیں۔ پاکستان کے دشمن پاکستان کو دہشت اور وحشت کا شکار بنا رہے ہیں۔ افغانستان کی سرزمین ہمارے لئے دشمنوں کی آماجگاہ بن چکی ہے۔ کے پی میں دہشت گردی ہو یا بلوچستان میں بغاوت، تحریک طالبان پاکستان ہو یا بلوچ لبریشن آرمی افغانستان کی سرزمین استعمال ہو رہی ہے۔ بھارت ایسی تمام تنظیموں کا سرپرست اور معاون ہے جو پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کاوشیں کر رہی ہیں۔
دوسری طرف ہماری سیاسی قیادت ہے جو اس فرنٹ پر کامیاب نظر نہیں آرہی ہے۔ عمران خان جیل میں رہ کر انتشار کو ہوا دے رہے ہیں، ان کے پیغامات کے ذریعے داغے جانے والے بیانات ملک میں افتراق و انتشار کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔ عمران خان ریاست کے خلاف مسلسل گولہ باری کر رہے ہیں۔ افغانستان اور تحریک طالبان پاکستان کے خلاف پاکستان کے کریک ڈائون کی مخالفت کر رہے ہیں، وہ ہر وہ بات کرتے ہیں جس سے ریاست اتفاق نہیں کرتی۔ حکومت تو ان کا مسئلہ ہی نہیں۔ شہباز شریف حکومت کوتو وہ قانونی مانتے ہی نہیں ہیں ویسے 2018ء کی ان کی اپنی حکومت میں بھی شہباز شریف کو بطور اپوزیشن لیڈر مانتے ہی نہیں تھے۔ میں نہ مانوں کی طرز فکر و عمل کے ساتھ وہ ریاست کو مسلسل للکار رہے ہیں۔ ہماری فوج طے کردہ طرز فکر و عمل کے مطابق معاملات کو آگے بڑھا رہی ہے، قربانیاں دے رہی ہے۔ دوسری طرف ن لیگ، پیپلز پارٹی، ق لیگ و دیگر سیاستدان جو حکومت میں شامل ہیں، عمرانی طرز فکر و عمل کے خلاف سنجیدہ انداز میں صف آرا نظر نہیں آرہے ہیں۔ عمران خان نے اپنے دور حکمرانی میں عوامی فلاح و بہبود کا کوئی قابل ذکر کام نہیں کیا لیکن اپنے بیانیے کے بل بوتے پر الیکشن 2024ء میں انہوں نے خاصی کامیابی حاصل کی۔ اگر پی ٹی آئی الیکشن کمیشن کے ساتھ پھڈا نہ کرتی، ضوابط کی پابندی کرتے ہوئے پارٹی الیکشن کراتے تو ان کا پاپولر ووٹ الیکٹورل ووٹ میں تبدیل ہو جاتا اور وہ مرکز اور پنجاب میں بھی حکمران ہوتی لیکن عملاً ایسا نہیں ہو سکا۔
پی ٹی آئی مکافات عمل کا شکار ہے، مایوسی کا شکار ہے، جھنجلاہٹ کا شکار ہے۔ عمران ایک کیس میں سزا کاٹ رہے ہیں، کئی اور مقدمات میں سزا ہو سکتی ہے۔ پی ٹی آئی ہر طرح کا حربہ آزما چکی ہے، وہ ریاست کو جھکا نہیں سکی۔ عمران خان اپنی دو تولہ زبان کی وجہ سے ناقابل قبول ہو چکے ہیں۔ اب وہ ہر ایسی بات کر رہے ہیں جس سے ریاست کو پریشانی ہوتی ہے۔ کے پی میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں اور افغانستان پر براہ راست حملوں کے ذریعے ریاست دہشت گردوں کا مکمل صفایا کرنے کے لیے یکسو ہو چکی ہے۔ عمران خان ریاست کو زچ کرنے کے لئے اس جنگ کی مخالفت کر رہے ہیں۔ سہیل آفریدی کی کے پی وزیراعلیٰ کے طور پر نامزدگی اسی انتشار کو بڑھاوا دینے کے لئے ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاست کھل کھلا کر اندرون ملک دشمنوں کے خلاف اعلان جنگ کر دے۔ وہ لوگ جو سیاست کی آڑ میں، آئین پاکستان کی آڑ میں ریاست دشمنوں کی حمایت کر رہے ہیں، ان کے خلاف اعلان جنگ کر دیا جائے، بالکل اسی طرح جس طرح 9/11 کے بعد امریکی صدر نے دہشت گردوں کے خلاف اعلان جنگ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’اس جنگ میں یا تو آپ ہمارے ساتھ ہیں یا ہمارے دشمن‘‘ بالکل اسی طرح ریاست پاکستان اعلان کرے کہ یا تو آپ ہمارے ساتھ ہیں۔ دہشت گردوں کے خلاف ہماری جنگ میں ہمارے ساتھ ہیں یا ہمارے دشمن۔ ویسے پی ٹی آئی تو کھلے عام ریاست دشمنوں کی حمایتی ہے، اب جو کرنا ہے ریاست نے ہی کرنا ہے۔
سٹیٹس کو نہیں فیصلہ کن ایکشن
09:19 AM, 15 Oct, 2025