ٹرمپ اور نیتن یاہو کا شیطانی کھیل

09:19 AM, 15 Oct, 2025

مشرق وسطیٰ اور اس سے ملحقہ خطے میں بڑی طاقتوں کی گریٹ گیم کے خدوحال تیزی سے واضح ہورہے ہیں۔جورازِ نہاں اب تک پوشیدہ تھا وہ منکشف ہونے کوہے۔ تاہم افسوسناک امر تو یہ ہے کہ اغیار کو اپنا منحوس ایجنڈا پورا کرنے کے ساتھی مل گئے ہیں ’صنم خانے ‘ سے ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے معاہدہ پر ہونے والی حالیہ پیش رفت نے ثابت کردیا ہے کہ اسرائیل اب پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہوچکا ہے اورآزاد فلسطینی ریاست کا خواب اب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکے گا۔کم ازکم موجودہ عالمی طاقتیں تو ہرگز بھی نہیں۔ بلکہ گریٹر اسرائیل کا وہ ایجنڈا اور نقشہ جو نیتن یاہو نے کئی بار عالمی فورمز پر دکھایا اور اس کا اظہار کیا ہے وہ اب پایہ تکمیل ہونے کے اگلے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ اسرائیل کے اندر ہر طرح کی مزاحمت ختم کردی گئی ہے ۔ابراہیم اکارڈ کے تحت غزہ میں تشکیل پانے والی ٹیکنو کریٹس پر مشتمل اتھارٹی کے سربراہ خود امریکی صدر ہونگے اور ٹونی بلیر جیسے سابق وزیراعظم سمیت دیگر یورپی نمائندے ہونگے ۔واضح رہے کہ ٹونی بلیر وہ شخص ہیں جنہوں نے یورپ میں نہ صرف اسلام فوبیا پھیلانے میں مرکزی کردار ادا کیا بلکہ عراق اور دیگر اسلامی ممالک میںلاکھوں مسلمانوں کے قتل عام میں براہ راست ملوث رہے۔ 
ایسے میں اسرائیلی پارلیمنٹ میں ٹرمپ کا خطاب کئی جہتوں پر مشتمل تھا۔ ایک طرف اس نے 70ہزار فلسطینیوں کے قاتل نیتن یاہو کی کھل کر تعریف کی بلکہ اسکی جانب سے بعد ازاں غزہ میں کیے گئے انسانیت سوز مظالم اور فلسطینیوں کی نسل کشی جیسے سنگین جنگی جرائم کے مرتکب نیتن یاہو جیسے انسانیت کے قاتل کے لیے عام معافی دینے کی اپیل بھی کردی۔ ایسے میں اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب کے دوران ٹرمپ نے سب کو یہ بتا کر حیران کردیا کہ انکی بیٹی نے بھی عیسائی مذہب چھوڑ کر یہودی مذہب اختیار کرلیا ہے۔ٹرمپ نے بڑے فخر سے یہ بتایا کہ انکی بیٹی یہودی مذہب اختیار کرکے بہت خوش ہے جس پر ہال تالیوں سے گونج اُٹھا ۔ امریکی صدر نے یہ بھی بتایا کہ غزہ جنگ کے دوران معصوم فلسطینیوں پر جن میں نوزائید بچے اور خواتین کی ایک بڑی تعداد شامل ہے پر برسانے کے لیے مختلف نوع کے بم اور دیگر اسلحہ امریکہ نے تب تب تل ابیب کو فراہم کیا جب جب اس نے اسکا مطالبہ کیا۔ اسرائیل نے تو کئی بار ایسا مہلک اسلحہ بھی امریکہ سے مانگا جس کا بقول ٹرمپ انہیں بھی پتا نہیں تھا۔
یعنی نیتن یاہو کے ساتھ ملکر فلسطینیوں کی نسل کشی میں ملوث ٹرمپ اب غزہ اور ویسٹ بینک کا بھی حکمران ہو گا۔ امن کے نام پر ویسٹ بینک اور غزہ پر اب اصل حکمرانی ٹرمپ کے شکل میں اسرائیل ہی کی ہوگی۔  قیدیوں کے تبادلے کرکے اور جنگ بندی کا ڈرامہ رچا کر درحقیقت آزاد فلسطینی ریاست کا خواب ہمیشہ کے لیے دفن کردیا گیا ہے ۔ ایسے میں چند مسلم ممالک کے حکمران جو قطر میں حملے کے بعد نتین یاہو اور ٹرمپ کے خوف میں مبتلا ہیں کہ کہیں وہ انکی حکمرانی بھی نہ چھین لے، بچھے جار ہے ہیں ۔ 
یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ معاملات یہاں نہیں رکیں گے ۔اسرائیل کے اندر قبضہ مکمل ہونے اور حالات قابو میں آنے کے بعد نیتن یاہو گریٹر اسرائیل کے ایجنڈے کو پورا کرنے کے لیے دیگر مسلم ممالک جن میںمصر، ترکیہ ،اُردن اور سعودی عرب کے جانب بڑھے گا۔ ٹرمپ اپنے خطاب میں ایک ایسے خطے کی جانب اشارہ دے چکا ہے جہاں تل ابیب سے لیکر دبئی تک امن ہوگا یعنی امن اسرائیلیوںاور اسکے اتحادیوں کے لیے گریٹر اسرائیل کی شکل میں ہوگا۔ ایسے میں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کے جانب سے انہیں ایک بار نوبل پرائز کے لیے نامزد کرنے اور کئی عالمی رہنمائوں کے سامنے سلیوٹ کرنے جیسی افسوسناک حرکات و سکنات مسلم امہ کے مفاد سے وابستہ افراد کے لیے کسی صدمہ سے کم نہیں۔ ایسے وقت میں پاکستان کو مصروف اورپریشان رکھنے کے لیے افغانستان کی جانب سے جارحیت کرائی گئی جبکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کے مشرق کی جانب سے حملہ کرنے کے لیے بھارت بھی پر تول رہا ہے۔ یعنی پاکستان دُشمن قوتیں پاکستان کو سینڈوچ بنانا چاہتی ہیں۔
افواج پاکستان کے جانب سے افغان فوج اور دہشت گرد گروپوں کی زبردست دھلائی اور ٹھکائی اور افغانستان کی سرحدی چوکیوں پر بروقت کارروائی کر کے قبضہ قابل ستائش ہے ۔ مغربی سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے ایسا ہی ہونا چاہیے تھابلکہ اگر ضرورت پڑے تو دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر کارروائی کرنے کے لیے اگر افواج پاکستان کو افغانستان جس کا بھارت کے ساتھ گٹھ جوڑ سب کے سامنے ہے ، حملہ کرکے کچھ شہروں پر قبضہ بھی کرنا پڑے تو کرلینا چاہیے۔
یہ امر بھی قابل غور ہے کہ داخلی محاذ پر بھی پاکستان کو اس وقت کئی چیلنجز کا سامنا ہے ۔ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے افغان پالیسی پر کھلا چیلنج دے رہی ہے۔ٹکرائو کی کیفیت سب کے سامنے ہے ۔پی ٹی آئی کی جانب سے سہیل آفریدی کا بطور وزیر اعلیٰ چنائو نئے سیاسی وسکیورٹی بحران کو جنم دے چکا ہے ۔ ایک انٹرویو میں اے پی ایس پشاور سانحہ میں ملوث ایک دہشت گرد جماعت سے تعلق رکھنے والے مرکزی ملزم احسان اللہ وقاص نے جسے پی ٹی آئی کے دور حکومت میں سکیورٹی اداروں کی حراست سے فرار کرایا گیا تھا بانی پی ٹی آئی عمران خان کی نہ صرف کھل کر تعریف کی ہے بلکہ ان کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ ان حالات میں جبکہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے پنجاب بالخصوص لاہور میں ایک مذہبی جماعت کے احتجاج کو جس غیر پیشہ ورانہ انداز میں پولیس اور دیگر اداروں کی جانب سے ڈیل کیا گیا ہے اور افسوسناک ہے ۔ اس سے نہ صرف ناحق خون بہا ہے بلکہ امن و مان کی صورت حال بھی مخدوش ہوکر رہ گئی ہے۔ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔

مزیدخبریں