بات تو سچ ہے؟

09:17 AM, 15 Oct, 2025

پاکستان تحریک انصاف 12برس سے زائد صوبہ خیبرپختونخوا میں برسرِاقتدار ہے ۔ بارہ برس کسی جماعت کی حکومتی کارکردگی جانچنے کیلئے تھوڑا عرصہ نہیں ہوتا اور عوام یہ پوچھنے میں حق بجانب ہوتے ہیں کہ کیا اتنے طویل اقتدار کے بعد وہاں خوشحالی کا دور دورہ ہو چکا ہے‘ عام آدمی کو انصاف مل رہاہے‘ بنیادی اشیائے ضروریہ سستے داموں مل رہی ہیں‘ صوبہ کے تمام بچے زیورِ تعلیم سے آراستہ ہو چکے ہیں‘ شہریوں کو صحت کی بنیادی سہولیات میسر ہیں‘ کرپشن ختم ہوگئی ؟آئیے ان سوالوں کے جواب جاننے کیلئے ہم کسی اور نہیں تحریک انصاف سے ہی رجوع کرتے ہیں ۔ کچھ عرصہ قبل پشاور میں تحریک انصاف کے زیر اہتمام منعقدہ کانفرنس کے اختتام پر جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا تھا ’’ صوبہ میں مسلسل تیسری مرتبہ بھاری مینڈیٹ کیساتھ تحریک انصاف کی حکومت ہے لیکن پارٹی اراکین اور عوامی رائے صوبائی حکومت سے متعلق اچھی نہیں کیونکہ پشاور شدید مسائل سے دوچار ہے، شہر کی ترقی کے معاملات کو نظر انداز کیا جارہا ہے ، چند مخصوص افراد کی ایما پر مختلف بورڈ آف گورنرز اور اعزازی عہدوں پر من پسند تقرریاں ہورہی ہیں ۔ صوبائی دارالحکومت کی حیثیت سے پشاور کا اسلام آباد ، لاہور اور کراچی جیسے بڑے شہریوں کیساتھ موازنہ کیا اور ایک ماڈل شہر کے طور پر پیش ہونا چاہئے مگر بدقسمتی سے پشاور بدترین مسائل سے دوچار ہے، ترقیاتی کام بند، نکاسیٔ آب کا نظام خراب اور سڑکوں کا برا حال ہے۔‘‘ یہ ایک ایسی جماعت کا اعلامیہ ہے جو خود بارہ برس سے اقتدار میں ہے‘ اس سے آپ وہاں حالات کا اندازہ گا سکتے ہیں۔ اسی طرح دو ماہ قبل گیلپ کی جانب سے کیے گئے سروے کے دوران رائے عامہ کے جائزہ میں 58 فیصد عوام کا کہنا تھا صوبائی حکومت کے ترقیاتی فنڈز میں کرپشن کی جارہی ہے، 40 فیصد شہریوں نے پنجاب کے مقابلے میں خیبرپختونخوا میں زیادہ کرپشن کا دعویٰ بھی کیا تھا۔ 73 فیصد شہریوں کی رائے میں سرکاری نوکریاں میرٹ پر نہیں مل رہیں جبکہ 59 فیصد نے بیروزگاری میں اضافے کی نشاندہی کی۔ 60 فیصد شہریوں نے رائے دی کہ خیبرپختونخوا حکومت کام کے بجائے احتجاج میں وقت ضائع کر رہی ہے، 73 فیصد شہریوں نے صوبے میں سفارشی کلچر پروان چڑھنے کی شکایت کی جبکہ 66 فیصد ووٹرز نے منتخب نمائندوں سے وعدہ خلافی کا شکوہ کیا۔ اس گیلپ رپورٹ میں 3 ہزار افراد سے رائے لی گئی تھی۔
تحریک انصاف کے مخالفین کا کہنا ہے12 سال سے زائد صوبہ میں برسراقتدار تحریکِ انصاف کی حکومت نے وعدوں کے برعکس عوام کو محرومیوں کے اندھیروں میں دھکیلا۔ پی ٹی آئی کی 12 سالہ حکومت نے خیبرپختونخوا کو معاشی، تعلیمی اور صحت کے میدان میں تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔مخالفین تو یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ خیبرپختونخوا میں 218 صنعتیں بند اور بیشتر پنجاب منتقل ہوچکی ہیں۔صوابی میں 98، پشاور میں 48 اور حطار اکنامک زون میں 45 صنعتیں بند ہو چکی ہیں اور یہ صرف کارخانے نہیں بند ہوئے بلکہ ان کے ساتھ ہزاروں مزدور بھی بیروزگار ہو چکے ہیں جو روزگار کی تلاش میں دوسرے صوبوں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں۔مخالفین کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا کے عوام کو خیرات، زکوٰۃ یا سبسڈی کی بجائے پائیدار روزگار اور صنعتی ترقی کی ضرورت تھی لیکن پی ٹی آئی حکومت نے نہ صرف اس پہلو کو نظر انداز کیا بلکہ جو موجودہ صنعتی ڈھانچہ تھا، اسے بھی تباہ کر دیا۔صحت کا نظام تباہ ہو چکا ہے، ہسپتالوں میں دوائیاں نہیں ملتیں، سرنج تک باہر سے لانا پڑتی ہے۔ نئے تعلیمی ادارے نہیں بن رہے، موجودہ جامعات کی اراضی بیچی جا رہی ہے اور چھوٹے اضلاع جیسے کوہستان میں صرف ایک منصوبے میں 40 ارب روپے کی کرپشن کے انکشافات ہوئے ہیں۔ان کا ماننا ہے صوبہ کے عوام کی یہ حالت اس لیے ہے کہ انہیں خوشحالی، ترقی اور خدمت کی بجائے جھوٹ، فریب اور کرپشن دی گئی۔ دوسری طرف تحریک انصاف کے حمایتی ان تمام الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اگر اس جماعت کی کارکردگی اتنی بری ہے تو وہ مسلسل تیسری بار اقتدار میں کیسے آ گئی ۔ یہ سب جانتے ہیں کہ اس صوبہ کی عوام نے کسی جماعت کو مسلسل دو بار بھی حکومت کرنے کا موقع نہیں دیا ۔ پی ٹی آئی کا یہ موقف بالکل درست ہے ۔ آ پ حالیہ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں تو 1988ء کے انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی کے آفتاب احمد خان شیرپائو وزیراعلیٰ بنے ‘ 1990ء کے انتخابات میں کامیابی کے بعد اسلامی جمہوری اتحاد کے میر افضل خان اس عہدہ پر براجمان ہوئے۔ 1993ء کے انتخابی نتائج کے بعد پہلے مسلم لیگ (ن) کے پیر صابر شاہ اور بعدازاں پیپلز پارٹی کے آفتاب احمد خان شیرپائو وزیر اعلیٰ بنے۔ 1997ء کے الیکشن نتائج آئے تو مسلم لیگ (ن) کے مہتاب احمد خان وزیر اعلیٰ کی کرسی پر بیٹھے۔ 2002ء میں ہونیوالے انتخابات کے بعد جمعیت علمائے اسلام کے محمد اکرم درانی نے وزارت اعلیٰ کا عہدہ سنبھالا۔ 2008ء میں انتخابات ہوئے تو وزارت اعلیٰ کا قرعہ عوامی نیشنل پارٹی کے امیر حیدر خان ہوتی کے نام نکلا۔ 2013ء کے انتخابات میں تحریک انصاف پہلی بار حکومت میں آئی اور پرویز خٹک نے عنان اقتدار سنبھالا‘ 2018ء کے انتخابات میں کامیابی کے بعد تحریک انصاف نے دوسری بار صوبہ کا اقتدار سنبھالا اور محمود خان وزیراعلیٰ بن گئے۔ 2024ء میں ہونیوالے عام انتخابات کے بعد تحریک انصاف نے مسلسل تیسری بار کامیابی حاصل کی اور علی امین گنڈا پور وزیراعلیٰ بنے۔ 
صوبہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی 12برس سے زائد حکومتی کارکردگی کو بعض عناصر اس زاویہ سے بھی جانچتے ہیں کہ اگر یہاں ان کی کاکردگی اتنی ہی بہترین ہے تو پنجاب میں اس جماعت کے کتنے حامی ایسے ہیں جو مردان،  صوابی، کرک، کوہاٹ، مانسہرہ، ڈیرہ اسماعیل خان، چارسدہ، ہنگو، نوشہرہ و صوبہ کے دیگر علاقوں میںرہائش یا حصول روزگارکیلئے گئے یا جانا چاہتے ہیں ؟ علاوہ ازیں صوبہ خیبر پختونخوا سے کتنے لوگ لاہور، گوجرانوالہ، فیصل آباد، راولپنڈی و پنجاب کے دیگر شہروں میں رہائش یا روزگار کیلئے آئے یا آنا چاہتے ہیں ؟ان عناصر کا کہنا ہے اگر آپ پوری ایمانداری سے جواب دیں گے تو آپ یہی کہیں گے صوبہ خیبرپختونخوا ایسا مثالی صوبہ نہیں بنا کہ پنجاب سے کوئی وہاں جانے کی خواہش رکھے‘ اسکے برعکس اس صوبہ سے ہزاروں نہیں لاکھوں افراد رہائش یا حصولِ روزگار کیلئے پنجاب میں سکونت اختیار کیے ہوئے ہیں۔ پی ٹی آئی کے ہمدرد انہیں یہ مشورہ دیتے ہیں کہ وہ الزامات کی سیاست سے باہر نکلیں اور صوبہ کے چار کروڑ عوام کی فلاح وبہبود کیلئے عملی اقدامات اٹھائیں ۔

مزیدخبریں