ایران کے ایٹمی پروگرام پر لچک اور تائیوان پالیسی: صدر ٹرمپ کا دورۂ چین کے بعد طیارے میں صحافیوں سے اہم خطاب

04:20 PM, 15 May, 2026

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دورہ چین کے اختتام پر وطن واپسی کے دوران طیارے میں صحافیوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ایران کے جوہری پروگرام پر امریکی موقف میں بڑی لچک کا مظاہرہ کیا ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر ایران اپنا ایٹمی پروگرام معطل کرنے پر آمادہ ہو جائے تو امریکا کو اس معطلی پر 20 سال تک کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی انتظامیہ نے ایران کے محاذ پر تاریخی کامیابی حاصل کی ہے، جبکہ سابق صدر بائیڈن نے ایران کے ساتھ انتہائی ناقص اور بری ڈیل کی تھی۔

چینی قیادت سے ہونے والی ملاقاتوں کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے بتایا کہ انہوں نے چینی صدر سے تائیوان کے معاملے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تائیوان کے معاملے پر چین کا موقف انتہائی مضبوط ہے اور وہ اس پر سختی سے کھڑا ہے۔ تائیوان کو ہتھیاروں کی فراہمی کے سوال پر امریکی صدر نے نپا تلا جواب دیتے ہوئے کہا کہ "ہم تائیوان کو ہتھیار دے بھی سکتے ہیں اور نہیں بھی۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا کہ دورے کے دوران چینی صدر سے ٹیرف کے معاملے پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی، تاہم تجارتی تعلقات میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے اور چین اب امریکا سے اربوں ڈالر مالیت کا سویابین خریدے گا۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ چینی صدر سے ملاقات کے دوران کئی اہم عالمی اور تجارتی معاملات پر دونوں ممالک کے درمیان اتفاقِ رائے ہوا ہے۔

مزیدخبریں