افغانستان میں نجی املاک کے تحفظ کا خاتمہ: طالبان رجیم نے عوام کی زمینیں ضبط اور فروخت کرنے کا نیا قانون نافذ کر دیا

11:20 AM, 15 May, 2026

کابل : افغانستان میں طالبان حکومت نے عوام کی سماجی اور معاشی آزادیوں کو محدود کرنے کے بعد اب ان کی نجی جائیدادوں کو قانونی طور پر تحویل میں لینے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ افغان میڈیا کے مطابق طالبان انتظامیہ نے ایک نیا فرمان جاری کیا ہے جس کے تحت اب شہریوں کی رہائشی املاک اور زمینوں کو سرکاری قرار دے کر ضبط کیا جا سکے گا، جس نے افغان رئیل اسٹیٹ اور عوامی حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔
معروف افغان جریدے "افغانستان انٹرنیشنل" کی رپورٹ کے مطابق اس نئے قانون کا مقصد حکومت کے کنٹرول کو وسعت دینا ہے۔ قانون کے تحت  طالبان رجیم کسی بھی ایسی رہائشی یا تجارتی زمین کو سرکاری املاک میں شامل کر سکے گی جسے وہ مناسب سمجھے۔ ان ضبط شدہ جائیدادوں اور پلاٹوں کو حکومت اوپن مارکیٹ میں کسی بھی دوسرے خریدار کو دوبارہ فروخت (Re-sell) کر کے فنڈز اکٹھے کر سکے گی۔
معاشی ماہرین کے مطابق اس قانون کا سب سے بڑا نشانہ وہ افغان شہری بن سکتے ہیں جو ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں یا جن کی جائیدادیں سابقہ حکومت کے دور میں رجسٹرڈ ہوئی تھیں۔ اس قانون کے نافذ ہونے سے افغانستان میں کسی بھی نجی جائیداد کی ملکیت محفوظ نہیں رہی، جس سے رئیل اسٹیٹ سیکٹر مکمل طور پر بیٹھ جانے اور بڑے پیمانے پر جبری بے دخلیوں کا سنگین خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

مزیدخبریں