مغربی بنگال انتخابات میں دھاندلی

09:06 AM, 15 May, 2026


بھارتی جریدے نے ریاستی انتخابات میں بی جے پی کے جیت کے جشن کے پیچھے چھپی بدعنوانی اور دھاندلی بے نقاب کر دی کہ مغربی بنگال میں تقریباً ایک کروڑ نام ووٹرلسٹ سے خارج کرتے ہوئے انھیں حقِ رائے دہی سے محروم کر دیاگیا۔دوسری جانب تضادات کی بنیاد پر 27 لاکھ شہریوں کوخارج کردیا گیا حتمی لسٹ کے بعد 6 لاکھ ووٹربنانے پر سوالات اٹھ گئے۔مودی انتہا پسند غنڈوں کے ذریعے مغربی بنگال میں بھی غزہ جیساوحشیانہ نظام مسلط کرنے کو تیار ہیں۔ محض تضادات کی بنیاد پر 27 لاکھ شہریوں کو خارج کرنے اور حتمی فہرست کے بعد 6 لاکھ ووٹروں کے اضافے نے سنگین سوالات اٹھا دیئے ہیں۔ صیہونیت اور ہندوتوا کا پیروکار مودی اپنے غنڈوں کے ذریعے مغربی بنگال میں بھی غزہ جیسا وحشیانہ نظام مسلط کرنے کے درپے ہے۔ وزیراعلی مغربی بنگال نے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں کو ویسا ہی سبق سکھانا چاہیے جیسا اسرائیل نے غزہ میں سکھایا۔ بی جے پی کے دیگر وزرائے اعلی یوگی آدتیا ناتھ، ہمانتا بسواسرما بھی مسلم مخالف بیانات دیتے رہے ہیں۔
مودی کی الیکشن میں جیت بھارت کے مسلمانوں کے مستقبل کے لئے سب سے بڑا چیلنج بن گئی۔ جس بات کو بین الاقوامی سطح پر کم توجہ ملی،وہ حقیقت یہ ہے کہ سنگھ پریوار جو راشٹریہ سویم سیوک سنگھ یار (آر ایس ایس) کی زیر قیادت عسکریت پسند ہندوتوا تنظیموں کا مجموعہ ہے، ہندوستان کو ایک ہندو راشٹر کے طور پر دیکھنا چاہتا ہے ،ایک واضح طور پر ہندو ملک بننا ہندوستانی ریاست کو اس کے آئین میں تصور کئے جانے والے مخالف میں بدل دے گا۔اس سے کروڑوں ہندوستانیوں کو خطرہ لاحق ہو جائے گا کیونکہ اس کا مطلب بنیادی اداروں، اصولوں اور ان قوانین کو معطل کرنا ہے جو سیکولرازم اور جمہوریت کی خصوصیت رکھتے ہیں ، مودی کے اقتدار پر بیٹھنے سے یہ خطرہ بڑھ جائے گا کہ گزشتہ دس سال سے ہندو قوم پرست ذہنیت اپنے نامکمل ایجنڈے کو مکمل کرے گی۔حیدرآباد کے رہائشی رونق شاہی نے غیر ملکی میڈیا سے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں مسلمان ماضی کے مقابلے میں اب زیادہ غیر محفوظ ہیں ، جو حالا ت مودی سرکار نے بنا دیئے ہیں مجھے یقین ہے کہ برا ہی ہو گا۔
 مودی کے برسراقتدار آنے کے بعد بھارت میں موجود اقلیتیں بالخصوص مسلمان اس خوف میں مبتلا ہیں کہ مودی اپنے ہندوتوا نظریے کی تکمیل کیلئے ایک بار پھر ظلم و بربریت کا بازار گرم کرے گا۔ مودی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد مسلمانوں سے پہلے شہریت کے حقوق چھینے گئے تھے ،اب یہ خطرہ بڑھ گیا ہے کہ ان کے بنیادی زندگی کے حقوق بھی سلب کرلئے جائیں گے،بی جے پی جیسی انتہا پسند جماعت کے اقتدار میں آنے کا یہ مطلب بھی واضح ہے کہ خطے میں امن و سلامتی کے امکانات معدوم ہو جائیں گے۔ مودی سرکار نے دور اقتدار میں پڑوسی ممالک کے ساتھ تنازعات بڑھائے اور اس بار امکانات ہیں کہ وہ اس حد سے آگے جائیں گے، مقبوضہ کشمیر جس کی خصوصی حیثیت مودی کے اقتدار میں ہی ختم کی گئی تھی ان کیلئے بھی مودی کے دوبارہ اقتدار میں آنے سے حالات مزید بگاڑ کی جانب سے جائیں گے۔
 مودی کے اقتدار میں آنے سے حالات مزید خراب ہونے کے امکانات واضح ہیں، اس صورتحال میں بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کو اب بھارت میں اقلیتوں کے حقوق پر باریک بینی سے نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
گذشتہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو صرف 77 جبکہ ممتا بینرجی کی قیادت والی پارٹی ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کو 213 نشستوں پر کامیابی ملی تھی۔ تاہم اس بار ٹی ایم سی صرف 81 نشستوں پر کامیاب ہوئی ہے۔
 ممتا حکومت کے خلاف ووٹر کی ناراضی اور سپیشل انٹینسیو ریویڑن (ایس آئی آر) کے عمل کے دوران بڑی تعداد میں ووٹرز کا نام لسٹ سے نکالا جانا۔‘ ممتا بینرجی کی گذشتہ 15 سالہ حکومت کے دوران بڑھتی ہوئی بدعنوانی اور تشدد کے واقعات نے انھیں ریاست میں غیر مقبول بنا دیا تھا، جس کا فائدہ بی جے پی نے اس انتخاب میں اٹھایا۔ بی جے پی نے اپنی انتخابی مہم کے دوران اپنے مرکزی ایجنڈے، یعنی فرقہ پرستی اور مسلم مخالف پروپیگنڈا کا بہت زیادہ استعمال کر کے بھی فائدہ حاصل کیا۔ اس ضمن میں انھوں نے سینیئر بی جے پی رہنما اور ریاست کے متوقع وزیرِ اعلیٰ سویندو ادھیکاری کے اس تازہ ترین بیان کی طرف اشارہ کیا جس میں ادھیکاری نے بی جے پی کی حالیہ کامیابی کو ہندو ووٹوں کے اتحاد کا نتیجہ بتایا۔
تاریخی طور پر بھی پارٹی کے لیے یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ حالیہ دنوں تک بہار اور مغربی بنگال ہی مشرقی انڈیا کی دو ایسی ریاستیں تھیں جہاں تمام تر کوششوں کے باوجود بی جے پی کی حکومت نہیں بن سکی تھی۔ لیکن گذشتہ دنوں بی جے پی بہار میں حکومت بنانے میں کامیاب رہی اور اب مغربی بنگال میں۔

مزیدخبریں