دنیا اس وقت سیاسی، معاشی اور عسکری بے یقینی کے ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں ایک چھوٹی سی غلطی بھی عالمی تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کو خوف، اضطراب اور غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر رکھا ہے۔ عالمی ماہرین بارہا خبردار کرتے رہے ہیں کہ اگر یہ تنازع ایک طویل مدتی مکمل جنگ کی شکل اختیار کر لیتا ہے تو دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر پہنچ سکتی ہے۔ ایسے نازک حالات میں پاکستان نے ایک ذمہ دار، باوقار اور امن پسند ریاست کے طور پر انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے اور اپنی دانشمندانہ سفارت کاری سے دنیا کو ایک بڑے سانحے سے بچانے میں مثبت کردار ادا کیا ہے۔
دنیا جانتی ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان اختلافات کوئی نئی بات نہیں۔ دونوں ممالک کے تعلقات کئی دہائیوں سے تناو¿ کا شکار ہیں، مگر حالیہ برسوں میں ان اختلافات نے خطرناک شدت اختیار کر لی۔ امریکہ کی جانب سے ایران پر دہائیوں سے مسلسل سخت معاشی پابندیاں، ایران کے جوہری پروگرام پر یک طرفہ اور غیر ضروری تحفظات، خلیجی خطے میں اڈوں اور عسکری سرگرمیوں میں اضافہ اور ایک دوسرے کے خلاف سخت بیانات اور پھر صیہونی ریاست کے اکسانے پہ اسرائیل اور امریکہ کے ایران پہ حملے اور ایران کے رہبر اعلی کی شہادت نے حالات کو مزید خراب بنا دیا۔ دنیا بھر کے مبصرین اس خدشے کا اظہار کرتے نظر آئے کہ اگر تنازعہ بڑھا تو اس کے اثرات صرف ایران، امریکہ یا مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا اس آگ کی لپیٹ میں آ جائے گی۔
اس جنگ کے منفی اثرات عالمی معیشت پر بھی نظر آئے کیونکہ مشرقِ وسطیٰ دنیا میں تیل اور گیس کی فراہمی کا سب سے بڑا مرکز ہے، اور اس خطے میں کسی بھی قسم کا تنازعہ نا صرف عالمی تیل منڈی کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔ بلکہ حالیہ تنازعہ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ دنیا بھر میں مہنگائی کے طوفان کا سبب بنتا نظر آ رہا ہے۔ اس صورتحال میں ترقی پذیر پاکستان جیسے ممالک، سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں کیونکہ ان کی معیشت پہلے ہی بیرونی دباو¿ اور درآمدی اخراجات کے بوجھ تلے دبی ہوتی ہے۔ اور ان میں مزید بوجھ برداشت کرنے کی سکت بھی نہیں ہوتی۔
عالم نے دیکھا کہ اس تنازعے کے نتیجے میں جہاں عالمی تجارت متاثر ہوئی، وہیں ترقی پذیر ممالک میں صنعتیں بند ہونے لگیں، سرمایہ کاری رک گئی اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا۔ دوسری طرف دنیا کی بڑی معیشتیں بھی اس بحران سے متاثر ہوتی نظر آ رہی ہیں۔ جہاں ایک طرف جنگی اخراجات بڑھے تو دوسری طرف بنیادی انسانی ضروریات پوری کرنا مشکل ہو گئیں۔ اس جنگ کے انسانی اثرات زیادہ ہولناک نظر آئے۔ لاکھوں لوگ بے گھر ہوے، ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں اور پورا خطہ انسانی المیے کی تصویر بن گیا۔ مشرق وسطی جہاں پہلے ہی شام، عراق، فلسطین اور یمن جیسے ممالک جنگوں کے باعث تباہی اور بدحالی کا شکار ہیں، ایسے میں ایک نئی علاقائی یا عالمی جنگ پوری انسانیت کے لیے تباہ کن ثابت ہوتی نظر آ رہی ہے۔
ایسے خطرناک حالات میں پاکستان نے نہایت ذمہ داری، بصیرت اور حکمت کا مظاہرہ کیا۔ حکومتِ پاکستان نے واضح اور دوٹوک مو¿قف اختیار کیا کہ پاکستان کسی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا اور نا اپنی سرزمین کو کسی ملک کے خلاف استعمال ہونے دے گا بلکہ اس کے برعکس ہمیشہ امن، مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل کے حل کی حمایت کرے گا۔ پاکستانی قیادت نے ایران ، امریکہ اور دیگر عالمی رہنماو¿ں سے رابطے کیے، کشیدگی کم کرنے پر زور دیا اور فریقین کو تحمل، برداشت اور مذاکرات کی راہ اپنانے کا مشورہ دیا بلکہ موقع بھی دیا۔ پاکستان کی یہ پالیسی نہ صرف قومی مفاد بلکہ عالمی امن کے لیے بھی نہایت اہم ثابت ہوئی۔ پاکستان نے ثابت کیا کہ ایک مضبوط ریاست صرف عسکری طاقت سے نہیں بلکہ دانشمندانہ فیصلوں اور متوازن سفارت کاری سے بھی پہچانی جاتی ہے۔
دنیا بھر میں پاکستان کی امن کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ بین الاقوامی سطح پر یہ احساس اجاگر ہوا کہ اگر خطے کے اہم ممالک تحمل اور دانشمندی کا مظاہرہ نہ کرتے تو حالات کسی بھی وقت قابو سے باہر ہو سکتے تھے۔ پاکستان نے نہ صرف اسلامی دنیا میں اتحاد اور امن کا پیغام دیا بلکہ عالمی برادری کو یہ باور کرایا کہ مذاکرات ہی اس خطے میں پائیدار امن کا واحد راستہ ہیں۔ تاہم اس کشیدگی کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہوئے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے نے پاکستان میں مہنگائی کا طوفان برپا کر دیا۔ چونکہ پاکستان ایک درآمدی معیشت رکھتا ہے، اس لیے عالمی بحرانوں کا اثر براہِ راست عوام پر پڑتا ہے۔ ایسی صورتحال میں سب سے زیادہ متاثر غریب اور متوسط طبقہ ہوتا ہے، جو پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور کم آمدنی کے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ اس مشکل وقت میں حکومتِ پاکستان کی اولین ذمہ داری یہ ہونی چاہیے کہ وہ عوام کو ہر ممکن ریلیف فراہم کرے اور مہنگائی کو قابو میں رکھنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔
حکومت کو چاہیے کہ آٹا، چینی، گھی، دالیں اور دیگر بنیادی اشیاءپر سبسڈی فراہم کرے۔ غریب خاندانوں کے لیے خصوصی ریلیف پیکجز متعارف کروائے جائیں تاکہ وہ اس معاشی دباو¿ کا مقابلہ کر سکیں۔ اسی طرح بجلی، گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ براہِ راست عوام پر منتقل کرنے کے بجائے متبادل معاشی حکمتِ عملی اختیار کی جائے۔ عوامی ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر اور سستا بنانا بھی نہایت ضروری ہے تاکہ عام شہری کم خرچ میں سفر کر سکیں۔
زرعی شعبے پر خصوصی توجہ دینا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر کسانوں کو سستی کھاد، معیاری بیج اور جدید سہولیات فراہم کی جائیں تو زرعی پیداوار میں اضافہ ہوگا، خوراک کی قلت کم ہوگی اور مہنگائی پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو غیر ضروری اخراجات کم کر کے کفایت شعاری کی پالیسی اپنانی چاہیے تاکہ قومی وسائل کو اس مشکل وقت میں عوامی فلاح پر خرچ کیا جا سکے۔
آج دنیا کو طاقت کے نہیں بلکہ امن، اتحاد اور دانشمندی کے فیصلوں کی ضرورت ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی نے دنیا کو ایک بار پھر یہ احساس دلایا کہ جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں۔ پاکستان نے اپنی مثبت سفارت کاری اور متوازن پالیسی کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ وہ عالمی امن کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر حکومتِ پاکستان عالمی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے عوام دوست معاشی پالیسیاں اختیار کرے، مہنگائی پر قابو پائے اور غریب طبقے کو ریلیف فراہم کرے تو نہ صرف عوام کا اعتماد بحال ہوگا بلکہ پاکستان عالمی سطح پہ ایک مضبوط، مستحکم اور خوشحال ریاست کے طور پر ابھرے گا۔
ایران امریکہ کشیدگی، اور پاکستان
09:06 AM, 15 May, 2026