رشتے ضرورت کے تحت بنتے ہیں یا ضروریات رشتوں سے جنم لیتی ہیں ؟ انسان کا کردار اس کے سماجی مقام و مرتبے سے بنتا ہے یا اس کے سماجی مقام کی وجہ سے اس کا کردار تشکیل پاتا ہے ؟ یہ کچھ اہم سوالات ہیں جن کے جوابات تلاش کرنا ضروری ہیں۔ مارکسی دانشور کیپٹل کے کردار اور اس کی اہمیت کو ہر دو طرح پیش کرتے آئے ہیں۔ خصوصاً سرمایہ دارانہ نظام میں انسانی معاشرے کے ایسے بنیادی سوالات کی تربیت بدل جاتی ہے اور یقیناً جواب بھی۔
پاکستانی معاشرے کے خدو خال تیزی سے بدل رہے ہیں۔ ہم نے خاندانی ساخت کو تیزی سے بدلتے، ٹوٹتے اور نئے انداز سے بنتے دیکھا ہے۔ جس تیزی سے ہم نے یہ سفر طے کیا ہے اس نے ہماری نئی نسل کو ایک "ایلینشن" کا شکار کر دیا ہے۔ یہاں مسئلہ صرف فیشن یا کلچر کا نہیں ہے۔ غیر محسوس طریقے سے پورا تمدن تبدیل ہو چکا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے بزرگوں کی زندگی کا کوئی بھی حصہ ہم سے نہیں ملتا۔ اس بات کو یوں سمجھیے کہ ہم ان کے برسوں پر محیط زندگی کے تجربے سے ٹوٹ کر الگ ہو گئے ہیں۔ وہ ہمارے لیے پرانے ہو چکے ہیں اور ہم ایک نئے سیارے پر زندگی بسر کرنے کی تیاری کر رہے ہیں جس کا کوئی تجربہ خود ہم بھی نہیں رکھتے۔ ہماری نئی زندگی اس تحقیق کے سہارے چل رہی ہے جس کی دریافت میں ہمارا کوئی براہ راست حصہ نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ دس بارہ برس گزرنے کے بعد جب کوئی تحقیق غلط ثابت ہوتی ہے تو ہم بھی کئی برس پیچھے آ کر کھڑے ہوتے ہیں۔ بعض اوقات کچھ ملٹی نیشنل کمپنیاں ایک خاص طرح کی تحقیق پیدا کرتی ہیں پھر اشتہارات اس تحقیق کو عام کرتے ہیں بلکہ لوگوں کے ذہن میں راسخ کر دیتے ہیں۔ یہ تحقیق دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں کا لائف سٹائل مکمل طور پر تبدیل کر دیتی ہے۔ لیکن ہمارے سادہ لوگ اس وقت حیرت اور افسوس کی کیفیات سے دو چار ہوتے ہیں جب دس پندرہ برس بعد ایک نئی تحقیق یہ ثابت کردیتی ہے کہ پرانی تحقیق ٹھیک نہیں تھی یا اس میں فراہم کردہ معلومات گھڑی گئی تھیں۔ ہم نے اسی سلسلے کی بدولت اپنے لوگوں کو دیسی گھی سے کلنگ آئل پر شفٹ ہوتے ہوئے دیکھا اور دس پندرہ برس بعد نئی تحقیق کے سامنے آنے کے بعد دوبارا دیسی گھی کا گرویدہ ہوتے دیکھا ہے۔ دن رات دانتوں کی صفائی کے صحت افزا پیسٹ اور مواد کے اشتہارات کو ہم نے کئی عشروں تک ایمان کا حصہ بنایا ہے اب بہت سے ڈاکٹرز ان کے مضر صحت اثرات بیان کرتے نظر آتے ہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ تجربے کی روایت سے ہٹنے کی بنیاد اشتہار پر رکھی گئی ہے اور یہ اشتہار ایسی معلومات اور تحقیق کو فروغ دیتے ہیں جس کا نہ تو ہمارے ماحول سے کوئی تعلق ہوتا ہے اور نہ ہماری زمین سے۔ ہم قدرتی طور پر پودوں، درختوں حتی کہ جانوروں کی پرورش بھی ان کے ماحول اور زمین سے الگ تھلگ رنگ روپ سے نہیں کر سکتے لیکن ہمارے اپنے لیے دنیا کے برفانی، صحرائی اسی طرح آزاد یا غلام معاشروں کی تحقیق کار آمد تصور کی جاتی ہے بلکہ نجات کا واحد رستہ بنا کر پیش کی جاتی ہے۔
کافی عرصہ پہلے استعمال کی چیزوں سے لے کر انسانی رشتوں تک کو ہم نے دوسرے معاشروں کی ایجاد کردہ تھیوریز پر استوار کرنا شروع کر دیا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم نہ اس طرف کے رہے ہیں نہ اس طرف کے۔ اس کا حتمی نتیجہ یہ نکلنا تھا کہ ہماری ایک نسل کا گزشتہ نسلوں سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ یہ بات اتنی سادہ نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم سینکڑوں برس کے علمی ذخیرے سے لاتعلق ہو کر کھڑے ہو گئے ہیں۔ مغرب نے جن کلاسیکی بنیادوں سے استفادہ کر کے نئے علوم دریافت کیے ہیں ہم نے اپنی انھی بنیادوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ یہ رہن سہن کا مسئلہ شناخت کا مسئلہ بن کر سامنے آیا ہے۔ میری ناقص رائے میں جب کسی معاشرے کے لوگوں کے زیر استعمال چیزیں ان کی شناخت سے بالکل الگ تھلگ نظر آنے لگیں تو شناخت کا مسئلہ فطری طور پر پیدا ہو جاتا یے۔ اسی مسئلے کو دیکھتے ہوئے دنیا کے بہت سے علاقوں میں جدیدیت کے بعد لوکلائزیشن کے تصور نے زور پکڑا۔ قوموں نے محسوس کیا کہ ہم اپنے ماحول اور اپنی زمین سے جڑی ہوئی چیزوں کے ذریعے سے فطری طور پر آگے بڑھ سکتے ہیں۔ اپنی مادی ترقی اور اور تعمیر کے لیے صرف بے ربط امپورٹڈ چیزوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔
ہمارے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ اب ہم اشتہاری تحقیق پر انحصار کرتے رہتے ہیں یا پھر اس سے ہٹ کر اپنی شناخت اور اپنے پشتینی تجربے کی بنیاد پر آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اشتہاری تحقیق اور شناخت کا مسئلہ
09:05 AM, 15 May, 2026