دیہی زندگی میں دن بھر کی تھکن اتارنے کا ایک طریقہ تیل مالش ہے جو برسوں سے دیکھنے میں آرہا ہے۔ سرسوں کے تیل سے مالش کرنے والے مالشیے اب شہروں میں بھی نظر آتے ہیں جبکہ شہروں کے ساتھ ساتھ کم ترقی یافتہ علاقوں میں اب ماڈرن مالش خانے کھل گئے ہیں جنہیں مساج پارلر کہتے ہیں۔ یہاں مردوں کے مساج کے لئے خواتین اور خواتین کے مساج کے لئے مرد حضرات خدمات انجام دیتے نظر آتے ہیں جبکہ حجاب اور پردے پر یقین رکھنے والے مرد مردوں سے اور خواتین خواتین سے مساج کرا کے تازہ دم ہو سکتی ہیں۔ خفیہ نصب شدہ کیمروں سے خوفزدہ عقلمند خواتین و حضرات مساج پارلر جانے کی بجائے یہ اہتمام اپنے گھر پر کرتے ہیں کیونکہ اس حوالے سے ”ہوم سروس“ بھی مہیا کی جاتی ہے۔ انسانوں نے تو بذریعہ مساج ترو تازہ ہونے کا طریقہ ابھی کچھ عرصہ قبل ہی سیکھا ہے۔ جانوروں اور خاص طور پر بار برداری کے لئے استعمال ہونے والے جانوروں کی تھکن اتارنے کی ضرورت اور طریقہ زمانہ قدیم سے چلا آرہا ہے۔ اسے دیسی اور مقامی زبان میں ”خرخرا“ کہتے ہیں۔ ایک سخت ترین بالوں والے برش سے جانور کے تمام جسم کو سہلایا جاتا ہے۔ ہاتھی گھوڑے اور گدھے کے لئے ایسے برش بھی استعمال کئے جاتے ہیں جن میں برش کے ریشوں کی جگہ چھوٹے چھوٹے کیل لگے ہوتے ہیں۔ جانوروں کو اپنی موٹی کھال پر پھرنے والے کیلوں والے برش سے جو چسکا ملتا ہے وہ جانور ہی بتا سکتے ہیں۔
بچوں کے ادب میں ملا دو پیازا ایک دلچسپ اور قدیم کردار ہے جو اپنی حرکتوں اور باتوں سے مزاح پیدا کرتا ہے۔ وہ ایک شخص سے گھوڑا ادھار مانگ لاتے ہیں۔ جب مالک اس کی واپسی کا تقاضا کرتا ہے تو وہ اسے گھوڑے کی جگہ گدھا پیش کر دیتے ہیں۔ مالک پریشان ہو کر پوچھتا ہے ملا جی میں نے آپ کو گھوڑا دیا تھا آپ مجھے گدھا لوٹا رہے ہیں۔ ملا جی اسے کہتے ہیں بھائی یہ ہے تو تمہارا دیا ہوا گھوڑا میں نے اسے خرخرا کہا بس اس لئے یہ کچھ چھوٹا لگ رہا ہے۔ امریکی صدر کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہے۔ وہ ریس جیتے ہوئے گھوڑے کی حیثیت سے امریکہ کا دورہ کرنا چاہتے تھے لیکن ایرانی میزائلوں نے ان کا خرخرا کر کے ان کا قد نصف سے بھی کم کر دیا ہے، رہی
سہی کسر چینیوں نے پوری کر دی۔ ڈونلڈ کا خیال تھا وہ بیجنگ ائیرپورٹ پر اتریں گے تو چینی صدر چینی وزیراعظم چین کی تینوں مسلح افواج کے چیف اور چینی کابینہ کے ارکان مع اپنی بیگمات لائن میں لگے ہوں گے۔ وہ چینی زمین پر قدم رکھیں گے تو ان پر پھول نچھاور کئے جائیں گے۔ وہ آگے بڑھ کر چینی صدر سے مصافحہ کریں گے اور ان کے قدم اکھاڑنے کے لئے ان کا ہاتھ زور سے کھینچیں گے پھر وہ چینی صدر اور چینی وزیراعظم کی بیویوں پر ٹھرک جھاڑیں گے اور اپنے استقبال کے لئے آئے دیگر اہم افراد سے ملنے کے بعد ایک فاتح کی طرح ہاتھ ملاتے اپنی گاڑی میں بیٹھ کر اپنی قیام گاہ کی طرف روانہ ہو جائیں گے۔
امریکی صدر نے چینی زمین پر قدم رکھا تو ان کے تمام خواب ایک چھناکے سے ٹوٹ گئے۔ ایک لمحے کے لئے تو انہیں اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا۔ انہوں نے میزبانوں کی قطار کی طرف غور سے دیکھا جہاں چینی صدر وزیراعظم ان کی بیگمات اور چینی مسلح افواج کے سربراہوں میں سے کوئی ایک بھی موجود نہ تھا۔ اپنے آپ کو کنگ کانگ یا ٹارزن سمجھنے والے امریکی صدر کی زندگی میں یہ شاید پہلی مرتبہ ہوا کہ وہ کسی ملک کے سرکاری دورے پر گئے ہوں اور اس ملک کی اعلیٰ ترین قیادت ان کے استقبال کے لئے ائیرپورٹ پر نہ آئی ہو۔ امریکی صدر کو جب یقین ہو گیا کہ انہیں ریسو کرنے کے لئے ان کے ہم منصب موجود نہیں تو انہوں نے دل ہی دل میں انہیں خوب برا بھلا کہا۔ آپ سوچیں گے کہ ہمیں ہزاروں کلومیٹر دور بیٹھے کیسے علم ہو گیا کہ وہ کسی کو برا بھلا کہہ رہے ہیں تو جناب بات یہ ہے کہ ہمارے دل امریکہ اور صدر امریکہ کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ ہم اور امریکہ وقتی طور پر ہی سہی ہم یک جان دو قالب ہیں۔ دل کو دل سے راہ ہوتی ہے۔ امریکی صدر کے دل میں جو کچھ تھا وہ ان کے چہرے پر آچکا تھا۔ سو وہ ہم نے ہی نہیں دنیا نے پڑھ لیا۔ چین نے ڈونلڈ ٹرمپ کا ایسا بے مثال استقبال کیوں کیا۔ یہ جاننے کے لئے ذرا پیچھے چلتے ہیں۔ امریکہ نے ایران سے ہر محاذ پر شکست کھانے کے بعد آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا فیصلہ کیا تو چین نے اسے اس ارادے سے باز رہنے کا کہا لیکن وہ باز نہ آیا اور اپنے درجن بھر تباہ کن بحری جہاز اور ائیرکرافٹ کرئیر وہاں لے آیا۔ اس نے وہاں سے گزرنے والے بحری جہازوں کو روکنا اور ان کے عملے کو تنگ کرنا شروع کر دیا۔ امریکی جہازوں نے ”توساکا“ نامی ایک چینی جہاز کو روکا جو تجارتی سامان لے کر وہاں سے گزر رہا تھا۔ امریکیوں نے اس تجارتی جہاز کے کپتان کی ایک نہ سنی اور اس کو روکنے کے لئے اس پر حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں جہاز کا انجن تباہ ہو گیا اور جہاز رک گیا۔ امریکی میرین اس چینی جہاز پر اتر گئے۔ انہوں نے عملے کو یرغمال بنا لیا اور جہاز کی تلاشی لینی شروع کر دی۔ چین کی طرف سے امریکہ کو پیغام دیا گیا کہ اس قسم کی اوچھی حرکتوں سے باز رہے لیکن ایسا سامان بھیجا جا رہا تھا جس سے میزائل تیار کئے جاتے ہیں۔ چین نے اس الزام کی تردید کی۔ امریکہ دنیا کو اس جہاز سے ملنے والی کوئی قابل اعتراض چیز نہ دکھا سکا۔ وہ تو صرف اس جہا ز پر قبضہ کر کے چین کو اپنے مسلز دکھا رہا تھا۔ چین نے اس واقعے پر خاموشی اختیار کر لی لیکن فیصلہ کر لیا کہ وہ امریکی صدر کو ایسا سبق سکھائیں گے کہ دنیا دیکھے گی، پس دنیا نے دیکھ لیا۔ چین نے امریکی صدر اور اس کے وفد کو کہاں لکھا ہے۔ چین کی طرف سے امریکہ کو متعدد مرتبہ پیغام دیا گیا کہ وہ چین آنے سے پہلے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم اور ایران کے ساتھ معاملات طے کر کے آئیں لیکن انہوں نے کسی بات کو قابل توجہ نہ سمجھا۔ ذرائع بتاتے ہیں اس اہم موقع پر انہیں ان کی انٹیلی جنس نے خبردار کیا تھا کہ چینی ان سے خوش نہیں بلکہ بہت ناراض ہیں۔ وہ سرد مہری سے پیش آئیں گے لیکن ٹرمپ کی کچن کیبنٹ کے ارکان انہیں کہتے رہے کہ ٹرمپ دنیا کے طاقتور ترین شخص ہیں، کوئی انہیں نظرانداز کرنے کی جرا¿ت نہیں کر سکتا۔ چین نے انہیں ان کی اوقات یاد کرا دی ہے کہ وہ ہارے ہوئے شخص ہیں، وہ چین کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے لئے آرہے ہیں۔ ہتھیار ڈالنے کے لئے آنے والوں کا استقبال اسی طرح کیا جاتا ہے جیسے چین نے کیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ چین پہنچے تو انہیں دو پریشان کن خبریں ملیں۔ کانگریس میں بتایا گیا کہ اس جنگ میں امریکہ کے انتالیس جہاز تباہ ہوئے ہیں جبکہ ایران میں دو دن میں دو مرتبہ زلزلہ آیا ہے جو اصفہان سے قریب ہے، گمان ہے ایران نے ایٹمی دھماکہ یعنی زیر زمین نیوکلیئر ٹیسٹ کئے ہیں۔ شکست خوردہ امریکی صدر اپنی شکست ماننے کے لئے تیار نہیں، انہیں مزید خرخرے کی ضرورت ہے جو ایران پوری کر دے گا۔
امریکہ کو خرخرے کی ضرورت
09:04 AM, 15 May, 2026