انمول پنکی کے گرد قانون کا گھیرا تنگ: منشیات نیٹ ورک کا ایک اور کچا چٹھا کھل گیا، مقدمات کی تعداد 4 تک جا پہنچی

10:49 AM, 15 May, 2026

لاہور: لاہور پولیس نے بدنام زمانہ منشیات فروش انمول عرف پنکی کے خلاف تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے اس کے جرائم کی تاریخ کا ایک اور بڑا ریکارڈ تلاش کر لیا ہے۔ پولیس مانیٹرنگ کے مطابق ملزمہ کے خلاف درج مقدمات کی مجموعی تعداد اب 4 ہو گئی ہے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ملزمہ گزشتہ دو دہائیوں سے بین الصوبائی منشیات اسمگلنگ کے نیٹ ورک کی ایک اہم کڑی رہی ہے۔
پولیس کے انوسٹی گیشن ونگ نے انکشاف کیا ہے کہ ملزمہ انمول پنکی کا نام پہلی بار سن 2004 میں لاہور کے ایک بڑے مقدمے میں باقاعدہ ریکارڈ کا حصہ بنا تھا۔ سن 2004 میں پولیس نے تھانہ وحدت کالونی کی حدود میں کارروائی کرتے ہوئے 'صابراں بی بی' نامی خاتون کو گرفتار کیا تھا۔
 صابراں بی بی کے قبضے سے اس وقت 20 گرام انتہائی مہنگی منشیات 'کوکین' برآمد ہوئی تھی۔صابراں بی بی نے دورانِ تفتیش پولیس کے سامنے انکشاف کیا تھا کہ وہ تو صرف ایک مہرہ ہے، جبکہ کوکین کی یہ کھیپ اسے کراچی میں 'انمول عرف پنکی' نے لاہور میں سپلائی کرنے کے لیے دی تھی۔
کرائم انوسٹی گیشن کے حکام کے مطابق، اس پرانے ریکارڈ کے سامنے آنے سے اب استغاثہ (Prosecution) کا کیس عدالت میں انتہائی مضبوط ہو گیا ہے۔ پولیس اب اس زاویے پر کام کر رہی ہے کہ انمول پنکی نے کراچی سے لاہور کے درمیان جو نیٹ ورک قائم کر رکھا تھا، اس کے تانے بانے اور کن کن بڑے شہروں یا بااثر افراد سے ملتے ہیں، تاکہ اس پورے گینگ کا صفایا کیا جا سکےُ۔

مزیدخبریں