بھارت تیراشکریہ…؟؟؟

09:34 AM, 15 May, 2025

1954 سے 1975 تک امریکہ اور ویتنام کی جنگ رہی 21سال جنگ رہی اس میں 33 لاکھ ویت نامی مارے گئے اور صرف 58 ہزار امریکی ہلاک ہوئے تھے اس کے باوجود ویتنام جنگ جیتا تھا کیونکہ وہ کسی مقصد کے تحت جنگ لڑ رہا تھا اس کا جذبہ تھااپنی بقا کیلئے جنگ لڑ رہا تھا اور امریکہ اپنی چودھراہٹ اور بلے بلے کے لئے جنگ لڑ رہا تھا جب جذبہ جواں اورجیت کی لگن ہو تو پھر جنگ وہی جیتتا ہے اسی طرح جیسے پاکستان نے 10 مئی کو بھارت کی اینٹ سے اینٹ بجادی کیونکہ بھارت کو اپنے بڑے ملک ہونے کا غرورتھا مودی کو بڑی معیشت ہونے کا گھمنڈ تھا اسلحہ اور فوج زیادہ ہونے پر ناز تھا جبکہ پاکستان کو صرف ایک ہی بات پر پکا یقین تھا کہ اللہ کی مدد ہمارے ساتھ ہے اور پھر دنیا نے د یکھا کہ اللہ کی نصرت کس طرح آئی کہ پورا بھارت پاک فوج کی جوابی کارروائی سے لرز اٹھا اور بھارت کو منہ کی کھانا پڑی دوسری طرف پاکستان مسئلہ کشمیر اٹھانے میں کامیاب ہوگیا ،پاکستان کی خواہش کے مطابق امریکا بھی مسئلہ کشمیر میں کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہوگیا ، پہلگام ڈرامہ نے مقبوضہ کشمیر کا تصور بدل کر رکھ دیا، طاقت اور بالادستی دکھانے کی کوشش نے بھارت کوکہیں کا نہیں چھوڑا اور وہ دنیا میںذلیل وخوار ہو گیا اور مار کھانے کے بعدجنگ بندی کیلئے بھاگ کرٹرمپ کے قدموں میں جا گرا ، امریکہ بھارت کوچین کے مقابلے میں علاقے کا چودھری بنانا چاہتا تھا مگر وہ گھر کا رہا نہ گھاٹ کا؟ الجزیرہ کے مطابق بھارتی حکومت نے واضح طور پر اپنے رافیل طیاروں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا ،بھارت نے طویل عرصے سے اقتصادی ترقی اور جوہری طاقت کے ذریعے علاقائی غلبہ کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کے بارے میں غلط اندازہ لگایا اسی لئے رسوائی امریکہ اور بھارت کا مقداربنی ، 22 اپریل کو پہلگام واقعے کے بعد اس کے اقدامات نے اس کی کمزوریوں کو بے نقاب کیا، طاقت جتانے کے چکرمیں بھارت کا ردعمل لڑکھڑا گیا، جس سے پاکستان کی علاقائی حیثیت کواللہ نے مزید تقویت دی،ایک وقت آئے گا کہ دنیا دیکھے گی کہ پاکستان عالمی فیصلے کرے گا ، بھارت کا آپریشن سندور آپریشن مجبور اور تندورمیں بدل گیا،پاکستانی فوج نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے مودی کی عقل ٹھکانے لگا دی ، روسی دفاعی میزائل نظام ایس 400 کی تباہی بھارت کیلئے بڑا دھچکا ہے جو کئی سال تک یاد رہے گا، انتہائی اہم ائیر بیس پر روسی سسٹم کی تباہی سے بھارتی دفاع کمزور پڑ گیا،ہمارے شاہینوں نے دشمن کی سوچ اور حکمتِ عملی کو نہ صرف ناکام بنایا بلکہ اسے عالمی سطح پر ایک سبق بھی دیا،سب نے دیکھا ہم سے کئی گنا بڑے دشمن نے جسے اپنی طاقت افرادی قوت اور اسلحہ پر بڑی فوج پر گھمنڈ تھا جب پاکستان کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کیا تو ہمارا ایک ایک سپاہی خیبر شکن بن گیا اور چند گھنٹوں میں بھارت کو پتہ چل گیا کہ وہ کتنی بڑی غلطی کر بیٹھا ہے، رافیل طیارے جن کے بل بوتے پر اس نے جارحیت کا تانا بانا بنا تھا اس کیلئے سفید ہاتھی ثابت ہوئے، انکی اڑان کے ساتھ ہی ہمارے تھنڈر طیاروں نے جست بھرتے ہوئے ان کو انکی ہی سرزمین پر زمین بوس کر دیا، ہمارے میزائلوں کے ایک ہی وار نے بھارت کی کمر توڑ دی، بھارتی فوجی افسران پہلے ہی پاکستان سے ٹکر نہ لینے کا مشورہ دے رہے تھے جس پر قاتل مودی نے کان نہ دھرا کیونکہ جب ذلت اپنے ہاتھوں لکھی گئی ہو تو کوئی کیا کر سکتا ہے،منہ توڑ جواب سے بھارت میں آزادی کی جنگ لڑنے والی ریاستوں کے لوگوں کے دل میں امید کی ایک جوت ضرور جاگی ہے ، بھارت نے اپنی سفاکی کے ذریعے ان علیحدگی پسند ریاستوں میں جن میں میزورام میگھالے تری پورہ ناگا لینڈ،آسام کشمیر اور خالصتان شامل ہیں میں ظلم و ستم کا جو بازار گرم کررکھا ہے پاکستانی فوج کے کٹاپے سے ان علیحدگی پسند گروپوں کی طاقت اور ہمت مزید بڑھا دی،افواج پاکستان کے بہادر جوانوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے ہمیشہ وطن عزیز کے دفاع میں جانوں کی قربانیاں دے کر دشمن کے عزائم کو خاک میں ملا یا، جس طرح ہمارے جوانوں نے بھارت کو دھول چٹائی وہ ہمیشہ اسرائیل، بھارت، روس، فرانس اور امریکہ کو یاد رہے گی جنگ بے شک تباہی لاتی ہے لیکن جو قومیں اپنی سالمیت، خودمختاری اور قومی غیرت کو مقدم نہیں رکھتیں ان کے لیے نہ امن ممکن ہوتا ہے اور نہ عزت، تاریخ گواہ ہے جو قومیں بزدلی دکھاتی ہیں، وہ غلامی اور ذلت کا شکار ہو جاتی ہیں بھار ت بھی انہی قوموں میں شامل ہے ہمیں اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں،جو جنگ ہم میدان میں جیت رہے ہیں، وہ ہمیں مذاکرات کی میز پر ہرگز نہیں ہارنی چاہیے، پاکستان نے ہمیشہ امن کی بات کی ہے، لیکن بھارت نے ہٹ دھرمی، جارحیت اور معصوم شہریوں پر حملوں سے خطے کے امن کو خطرے میں ڈالا ہے، بھارت نہتے شہریوں پر حملے کی معافی مانگے، سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی بند کرے اور مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل پر بات کرے، تب ہی پائیدار امن ممکن ہو گا کہا جاتا ہے کہ ہماری فضائیہ نے جب آپریشن شروع کیا توایئر چیف اپنے جاں نثاروں سمیت فجرکی نمازکیلئے سجدہ ریز ہو گئے اور مالک سے مددکی دعا کی جسے میرے اللہ نے فوری قبول فرمایا ،ان بیس دنوں میں ہمارے سپہ سالار نے اپنے اور ہمارے جوانوںسمیت اپنے بوٹ تک اتارے نہ وہ گھروں کو گئے سستانے کیلئے اگر پندرہ بیس منٹ ملتے تووہ وہیں فرش پر ہی لیٹ جاتے یہی وہ جذبہ ہے جو بھارت کے پاس نہیں ہمارے پاس ذوق شہادت کا جذبہ ہے جو انڈیا کے پاس نہیں ہم موت کو گلے کا ہار بنائے پھرتے ہیں لیکن ہندو بنیا موت سے ڈرتا ہے بھارتی فوج آر ایس ایس اور بی جے پی کی سوچ سے لڑتی ہے اور پاکستانی فوج اللہ کی رضا کیلئے اللہ ہی کی مدد سے میدان میں اللہ اکبر کا 
نعرہ لگا کردشمن کا غرور خاک میں ملاتی ہے یہی ہم میں اور بھارت میں فرق ہے،ہم بھارت کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ ٹکڑوں میں بٹی قوم کو متحدکردیا ہم اس لئے بھی شکریہ ادا کرتے ہیں کہ مودی کی بڑا ملک ہونے کی خام خیالی دور ہو گئی ہم اس لئے بھی شکریہ ادا کرتے ہیں کہ پاکستان کواللہ نے عزت دی اور رسوائی بھارت کا مقدر بنی ہم اس لئے بھی خوش ہیں کہ تمام سیاسی جماعتیں اپنے اختلافات بھلا کر بھارت کو چھتر پولے کیلئے ایک ہو گئیں اس لئے بھارت تیرا شکریہ،سورۃآل عمران 16 میں ہے کہ اللہ تمہاری مدد پر ہو تو کوئی طاقت تم پر غالب آنے والی نہیں اور وہ تمہیں چھوڑ دے، تو اس کے بعد کون ہے جو تمہاری مدد کرسکتا ہو؟ پس جو سچے مومن ہیں ان کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے،جبکہ سورۃ الانفال 45 میں ہے اے ایمان والو جب کسی فوج سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہا کرو اور اللہ کو کثرت سے یاد کیا کرو تاکہ تم فلاح پا جاؤ۔

مزیدخبریں