ہمارا سپہ سالار جنرل عاصم منیر

09:16 AM, 15 May, 2025

پہلگام واقعہ کے بعد بھارت کی جانب سے دھمکی آمیز بیانات اور حال ہی میں بھارتی حملوں کے تناظر میں جو شخصیت سب سے سر بلند کھڑی نظر آتی ہے وہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر ہیں۔ پاکستان نے بھارت کا غرور سے پُر سر کچل دیا۔دنیا بھر میں پاکستان کی مسلح افواج اور آرمی چیف کے چرچے ہیں۔آج تک پاکستان کا ایسا سپہ سالار نہیں آیا جو پہلے آیت کی تلاوت کرتا ہو، ترجمہ پڑھتا ہو اور پھر اسے موضوع سے ملاتا ہو۔مجھے وہ ملاقات یاد ہے جس میں آرمی چیف نے یہ شعر پڑھا تھا : 
تندی باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لئے
آج ان کی قیادت میں پاکستانی قوم اونچا اڑ رہی ہے۔
29 نومبر 2022ء کو آرمی چیف بنتے ہی سب سے پہلے سید عاصم منیر نے فوج کو ملک کے سیاسی معاملات سے الگ کرنے کا عزم اور ارادہ کیا۔ ہوتے ہوتے وہ فوج کو ملک کے سیاسی عمل سے دور لے گئے۔ آرمی چیف نے دہشت گردوں کا سر کچلنے کے لیے آپریشن ردالفساد کو جاری رکھا اور دہشت گردوں کے قلع قمع اور افغانستان کی جانب سے دہشت گردوں کی در اندازی روکنے کے لیے کامیاب کارروائیاں کیں۔ سیاسی بے یقینی کو ختم کرنے کے لیے ملک میں عام انتخابات کرانے میں سہولت فراہم کی۔ ان کی مخلصانہ کاوشوں کا ہی نتیجہ ہے کہ آج ملک سیاسی لحاظ سے مستحکم ہے۔وہ ایک مخصوص پارٹی جو ملک کے دیوالیہ ہونے اور جمہوریت کے تباہ ہونے کا شور کرتی تھی اب گنگ ہے،حالیہ جنگ کے دوران بھی یہ زبانیں خاموش رہیں، پاک فوج کے لئے نعرہ بلند نہ کیا ۔ 
آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے اپنے پہلے سال (2023ئ) میں بہت سی کامیابیاں سمیٹیں۔ یہ ایک مشکل دور تھا اور بولڈ فیصلے کرنے کی ضرورت تھی۔ ان مسائل کو حل کرنے کے لیے آرمی چیف نے کامیاب ملٹری ڈپلومیسی کے تحت سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چائنہ سے معاشی، عسکری اور سماجی شعبوں میں تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے اور معیشت کی بحالی کے امکانات کو پیش نظر رکھ کر سعودی عرب، چین، ایران، ازبکستان، آذربائیجان کے دورے کیے۔ 2023ء میں امریکی سینٹ کام کے کمانڈر جنرل مائیکل ایرک کوریلا، چین کے نائب وزیر اعظم ہی لی فینگ، جرمن فوج کے چیف لیفٹیننٹ جنرل الفوناس میس، سعودی عرب کے جنرل فائد بن حامد الرویلی، عمان رائل آرمی کے میجر جنرل متار بن سلیم بن راشد البلوشی، سری لنکن آرمی کے کمانڈر، سعودی عرب کی بری افواج کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل فہد بن عبداللہ المتیر، امریکہ کے خصوصی نمائندے برائے افغانستان تھامس ویسٹ کی آرمی چیف سے ملاقاتوں میں خطے کے امن و استحکام بالخصوص دہشت گرد ی کے خلاف جنگ میں پاکستان آرمی کے کردار کو سراہا گیا۔
 پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے 2024ء میں دہشت گردوں کے خلاف مختلف نوعیت کے 77559 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے، جن میں 925 دہشت گردوں کو ہلاک، سیکڑوں کو گرفتار کیا گیا۔ ان آپریشنوں کے دوران 73 انتہائی مطلوب دہشتگرد ہلاک ہوئے۔ 23 جون 2024ء کو وزیراعظم محمد شہباز شریف نے انسداد دہشت گردی کی قومی مہم کو از سر نو متحرک کرنے کے لیے آپریشن عزمِ استحکام شروع کرنے کی منظوری دی۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی نگرانی میں آپریشن پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد کو یقینی بنایا گیا۔ جنرل عاصم منیر کی قیادت میں 2024ء کے دوران پاکستان نے ملٹری ڈپلومیسی کے تحت ایس سی او (شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن) کی میزبانی کی، جس میں چین، روس، بیلاروس، قازقستان، کرغزستان اور دیگر اہم ممالک کے وزرائے اعظم نے شرکت کی۔ 2024ء میں کئی ممالک کے سربراہان نے پاکستان کا دورہ کیا اور متعدد اہم معاہدوں پر دستخط کیے۔یہ انہی کی کاوش تھی کہ سپیشل انوسٹمنٹ اینڈ فیسلی ٹیشن کونسل جیسا شاندار ادارہ بنا۔اس کونسل نے ملک میں بین الاقوامی سرمایہ کاری لانے کے لئے کام کیا،سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھایا،ضابطہ جاتی عمل آسان کیا اور سرمایہ کاروں کو تحفظ کا احساس دیا۔دو ہزار چوبیس میں پاکستان نے ایس آئی ایف سی (سپیشل انوسٹمنٹ فیسلی ٹیشن کونسل) کی کامیاب حکمت عملی کی وجہ سے معاشی میدان میں کئی کامیابیاں حاصل کیں جن کے نتیجے میں قومی معیشت بہتر ہوئی اور اس میں استحکام آیا۔ ایس آئی ایف سی کی معاونت سے کئی بین الاقوامی تجارتی تعلقات مستحکم ہوئے اور ترسیلات زر میں اضافہ ہوا۔ یاد رہے کہ ملک میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے ایک باقاعدہ ادارہ بنانے کا مشورہ ستمبر 2023ء میں آرمی چیف سے ہونے والی اپنی ملاقات میں، میں نے دیا تھا۔ میں نے اس وقت یہ تجویز بھی پیش کی تھی کہ ملک کو ترقی سے ہمکنار کرنے کے لیے ضروری ہے کہ کسی شعبے میں وہی افراد لیے جائیں جو اس شعبے کا تجربہ رکھتے ہوں کیونکہ ایک تجربہ کار شخص ہی اس شعبے کے تمام امور اور منفی و مثبت پہلوئوں سے واقف اور آگاہ ہو سکتا ہے۔
2025ء کی بات کی جائے تو اپریل کے دوسرے ہفتے میں اسلام آباد میں پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم کا اہتمام کیا گیا جس کا مقصد پاکستان کے معدنی ذخائر میں سرمایہ کاری کے مواقع اجاگرکرنا تھا اور جس سے وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ ہمیں پائیدارمعاشی استحکام کے لیے اپنے معدنی وسائل کو بروئے کار لانا ہو گا۔ فورم میں 3 سو سے زائد غیر ملکی نمائندوں نے شرکت کی۔
اس کے بعد 13 سے 15اپریل تک اسلام آباد میں اوورسیز کنونشن منعقد کیا گیا۔ اس کنونشن کے دو بڑے مقاصد میں سے ایک اوور سیز پاکستانیوں کو یہ اطمینان دلانا تھا کہ وہ ہمارے یعنی پاکستانیوں کے دلوں کے قریب ہیں اور ہمارے دلوں میں ان کے لیے بے پناہ عزت اور پیار ہے، دوسرا مقصد اوورسیز پاکستانیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی ترغیب دینا تھا۔ 
اس وقت آرمی چیف کی ساری توجہ بھارت کی جانب سے حملوں پر مبذول ہے اور ان کی بہترین حکمت عملی کے نتائج بھی پوری قوم کے سامنے آ رہے ہیں۔ان کی کامیابیاں حیران کن ہیں، ہر شعبہ آرمی چیف کی طرف دیکھ رہا ہے۔کئی لوگ حسد کا شکار ہو رہے ہیں ۔کامیاب لوگوں کے حاسد ہوتے ہیں لیکن کوئی فکر نہیں:
حسد کی آگ تھی اور داغ داغ سینہ تھا
دلوں سے دھل نہ سکا وہ غبار کینہ تھا

مزیدخبریں