پاکستان کا سرحد پار بھرپور جواب: قندھار میں دہشت گردوں کی حساس تنصیبات اور سرنگیں تباہ، عطا تارڑ 

05:57 PM, 15 Mar, 2026

اسلام آباد:وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کے خلاف پاک فوج کے بھرپور جواب اور آپریشن ’غضب للحق‘ کے تباہ کن نتائج کی تصدیق کر دی ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے دشمن کے نقصانات کے ہوش ربا اعداد و شمار پیش کیے ہیں۔
عطا اللہ تارڑ کے مطابق پاکستانی فورسز کی کارروائیوں میں افغان طالبان رجیم کو درج ذیل نقصانات اٹھانا پڑے۔ اب تک 684 کارندے ہلاک جبکہ 912 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ دشمن کی 252 چیک پوسٹیں تباہ کر دی گئی ہیں اور 44 پوسٹوں پر پاکستانی فورسز نے مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
کارروائیوں کے دوران 229 ٹینک اور مسلح گاڑیوں کو نشانہ بنا کر تباہ کیا گیا۔وزیر اطلاعات نے بتایا کہ 14 اور 15 مارچ کی درمیانی شب قندھار میں دہشت گردوں کے اسلحہ خانوں اور ٹیکنیکل سپورٹ سینٹرز پر کاری ضرب لگائی گئی۔ خاص طور پر قندھار میں ایک خفیہ سرنگ (Tunnel) کو تباہ کیا گیا جو حساس تکنیکی آلات چھپانے کے لیے استعمال کی جا رہی تھی۔
علاوہ ازیں، چترال سیکٹر کے سامنے افغانستان کی ’بدینی پوسٹ‘ پر قائم دہشت گردوں کے اس مقام (Jump-off Point) کو بھی ملیا میٹ کر دیا گیا ہے جہاں سے پاکستان میں دراندازی کی منصوبہ بندی کی جاتی تھی۔
عطا اللہ تارڑ نے افغان حکام اور میڈیا کے دعوؤں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ  پاکستانی فورسز کی تمام کارروائیاں صرف دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف ہیں۔ کسی بھی شہری آبادی یا سویلین انفراسٹرکچر کو نقصان نہیں پہنچایا گیا۔ پاکستان اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لیے پرعزم ہے اور دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والوں کو معاف نہیں کیا جائے گا۔

مزیدخبریں