جنگ سے زیادہ مہلک خاموش آفات

09:12 AM, 15 Mar, 2026

پاکستان میں بدلتے ہوئے موسموں کی شدت اب محض ایک موسمیاتی تبدیلی نہیں رہی بلکہ یہ ایک ایسی خاموش آفات کی صورت اختیار کر چکی ہے جو انسانی بقا، معاشی استحکام اور سماجی ڈھانچے کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہی ہے۔ لاہور کے مضافات میں بیٹھ کر جب میں عالمی تپش کے اعداد و شمار دیکھتی ہوں تو پاکستان کا نقشہ ایک سرخ لکیر کی مانند ابھرتا ہے، جہاں اس بار فروری کے مہینے ہی میں موسم سرما کی رخصتی نے ایسی عجلت دکھائی کہ معمولاتِ زندگی درہم برہم ہو کر رہ گئے۔ محکمہ موسمیات کی حالیہ وارننگ کہ رواں ماہ پاکستان کے بیشتر حصوں میں درجہ حرارت معمول سے کہیں زیادہ گرم رہے گا اور پہلی 'ہیٹ ویو' دستک دے سکتی ہے جبکہ میرے خیال میں پانچ مارچ کو لاہور میں 35 درجے حرارت سے اس کا آغاز ہو چکا ہے جو اس بات کا غماز ہے کہ قدرت اب ہمیں سنبھلنے کی مہلت دینے کے موڈ میں نہیں ہے۔ حالیہ چند برسوں میں ہم نے دیکھا ہے کہ بہار کا موسم، جو کبھی پھولوں کی خوشبو اور معتدل ہواؤں کا پیغام لاتا تھا، اب محض چند دنوں کی ایک بے نام سی منتقلی بن کر رہ گیا ہے اور سرما کے فوراً بعد تپتی دھوپ اور لو کے تھپیڑے عوام کا استقبال کرتے ہیں۔
اسلام آباد اور راولپنڈی کے جڑواں شہر، جو کبھی اپنی ہریالی اور دلکش موسم کے لیے جانے جاتے تھے، آج کل ایک نئی قسم کی 'طبی ایمرجنسی' کی زد میں ہیں۔ پولن سیزن کا باقاعدہ آغاز صرف الرجی کے مریضوں کے لیے پریشانی کا باعث نہیں ہے بلکہ یہ اس ماحولیاتی بگاڑ کی ایک کڑی ہے جس نے سانس کی بیماریوں کے گراف کو خطرناک حد تک اوپر پہنچا دیا ہے۔ اسلام آباد کی فضاؤں میں کاغذ کی طرح اڑتے شہتوت کے درختوں کے پولن ذرات اور فضا میں موجود نمی کا غیر متوازن تناسب ایک مہلک امتزاج تیار کر رہا ہے۔ یہ صورتحال اس لیے بھی زیادہ تشویشناک ہے کہ ایک طرف ہیٹ ویو کا خدشہ جسمانی مدافعت کو کمزور کر رہا ہے اور دوسری طرف پولن کی بہتات پھیپھڑوں اور نظام تنفس پر حملہ آور ہے۔ جب تپش بڑھتی ہے تو ہوا میں معلق ذرات (Particulate Matter) زمین کے قریب ہی قید ہو کر رہ جاتے ہیں، جس سے سانس لینا ایک بوجھ بن جاتا ہے جبکہ لاہور میں بھی اس کے اثرات ہیں اور میں تاحال ان سے نبردآزما ہوں۔
اس موسمیاتی بحران کے پیچھے چھپے اسباب پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ بے ہنگم شہری منصوبہ بندی اور جنگلات کا بے دریغ کٹاؤ وہ زخم ہیں جو اب ناسور بن چکے ہیں۔ پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے جو عالمی کاربن اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ڈالتے ہیں لیکن اس کے اثرات بھگتنے میں پہلے نمبروں پر ہیں۔ یہ ایک ایسی عالمی ناانصافی ہے جس کا شکار خطہ پوٹھوہار سے لے کر سندھ کے ریگستانوں تک کا ہر شہری ہو رہا ہے۔ جب ہم ہیٹ ویو کی بات کرتے ہیں تو یہ صرف پارے کا بڑھنا نہیں ہے بلکہ یہ زراعت کی بربادی، پانی کی شدید قلت اور بجلی کے بریک ڈاؤن کا پیش خیمہ بھی ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں کی آدھی سے زیادہ آبادی خطِ غربت کے قریب زندگی بسر کر رہی ہے، وہاں ائیر کنڈیشننگ یا ٹھنڈے ماحول تک رسائی ایک خواب ہے، چنانچہ تپتی دھوپ کا سب سے بڑا نشانہ وہ مزدور طبقہ بنتا ہے جو سڑکوں پر رزق تلاش کرنے پر مجبور ہے۔پولن الرجی کی شدت میں حالیہ اضافہ بھی اسی ماحولیاتی عدم توازن کا نتیجہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا ہے، پودوں کا 'پولن پروڈکشن' پیریڈ طویل اور زیادہ جارحانہ ہو جاتا ہے۔ اسلام آباد کے ہسپتالوں میں دمہ اور شدید الرجی کے مریضوں کا تانتا بندھا ہونا اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ ہماری پالیسیاں بدلتی اقلیم کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہو سکیں۔ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم نے شہروں کی تعمیر میں مقامی درختوں کے بجائے ایسے پودوں کو ترجیح دی جو آج ہمارے لیے زہر بن چکے ہیں۔شہتوت کے جنگلات جو کبھی سایہ دیتے تھے، اب لاکھوں شہریوں کے لیے ہسپتال جانے کا سبب بن رہے ہیں۔ یہ ایک واضح ڈیزائن فلا (Design Flaw) ہے جسے درست کرنے کے لیے اب شاید بہت دیر ہو چکی ہے لیکن کم از کم اس کے اثرات کو کم کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے۔
پاکستان کو درپیش یہ چیلنج محض ایک سرکاری نوٹیفکیشن یا محکمہ موسمیات کی الرٹ سے حل ہونے والا نہیں ہے۔ ہمیں ایک ایسے 'نیشنل ایکشن پلان' کی ضرورت ہے جو صحت، زراعت اور ماحولیات کو یکجا کر کے ایک جامع حکمت عملی وضع کرے۔ ہیٹ ویو سے بچاؤ کے لیے شہروں میں 'کول روفس' اور شجرکاری مہم کو دوبارہ سے زندہ کرنا ہوگا جبکہ پولن کے اثرات کو کم کرنے کے لیے جدید فلٹریشن سسٹم اور عوامی آگاہی کو عام کرنا ہوگا۔اس کے ساتھ ساتھ شہری منصوبہ بندی کو بھی موسمیاتی حقیقتوں کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔ پارکس اور گرین بیلٹس کا تحفظ، پانی کے ذخائر کی بحالی اور درختوں کی سائنسی بنیادوں پر شجرکاری وہ اقدامات ہیں جو مستقبل کی شدت کو کم کر سکتے ہیں۔ اگر یہ اقدامات فوری طور پر نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں گرمی، بیماری اور آلودگی ایک مشترکہ بحران کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔بصورتِ دیگر، ہر سال آنے والا یہ موسم ہمیں ایک ایسے چکر (Cycle) میں پھنسا دے گا جہاں بیماریاں بڑھیں گی، کام کرنے کی صلاحیت کم ہوگی اور معیشت پر دباؤ مزید بڑھے گا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ قدرت کے بدلتے تیور محض اتفاق نہیں ہیں بلکہ یہ وہ انتباہ ہیں جو ہمیں بتاتے ہیں کہ اگر ہم نے اب بھی اپنی روش نہ بدلی تو آنے والی نسلیں صرف تپتی زمین اور آلودہ ہوا کی وارث ہوں گی۔خلاصہ یہ کہ مارچ کی یہ بدلتی رت ہمیں ایک بڑے امتحان کے لیے تیار رہنے کا پیغام دے رہی ہے۔ پولن الرجی سے سسکتے مریض اور ہیٹ ویو کے سائے میں کام کرتے مزدور، یہ سب اس جدید ترقی کے وہ مظاہر ہیں جہاں ہم نے فطرت کو پسِ پشت ڈال دیا۔ اسلام آباد کے پالیسی سازوں کو اب یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ماحولیاتی تبدیلی 'مستقبل' کا مسئلہ نہیں بلکہ 'حال' کی ایک تلخ حقیقت ہے۔ اگر آج ہم نے اپنے پانی کے ذخائر، اپنے درختوں اور اپنی ہوا کی کوالٹی پر سرمایہ کاری نہ کی، تو پھر قدرت کا یہ انتقام ہمیں کسی پناہ گاہ کے قابل نہیں چھوڑے گا۔ وقت ریت کی طرح ہاتھ سے نکل رہا ہے اور تپتے ہوئے سورج کی پہلی کرنیں ہمیں یاد دلا رہی ہیں کہ اب خاموش رہنے کا وقت ختم ہو چکا ہے۔

مزیدخبریں