28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے سے شروع کی گئی ایران پر جنگ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میںلے چکی ہے،جس نے عالمی معاشی بحران بھی کھڑا کر دیا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے قریبی دوست عرب ممالک انجانے میں ہی یکایک میزائل، ڈرون کھا رہے ہیں۔ اسرائیل اس دوران نہ غزہ پر وقتاً فوقتاً حملے کرنا بھولا ہے، نہ مغربی کنارے کو بخشا ہے ،نہ لبنان کو۔ چہار جانب امریکی لاڈلا آگ برسا رہا ہے۔ ایران کے مسلمان پڑوسی، 20مسلم جانیں امریکہ اسرائیل کی چھیڑی جنگ کو نذرانہ دے چکے ہیں۔ ایرانی میزائلوں کے ہاتھوں200سے زائدز خمی ہوئے۔ امریکہ نے اپنے 13 فوجیوں کے تابوت وصول کیے ہیں۔ گریٹر اسرائیل پر با ضابطہ یہ نذرانہ: گر قبول افتد ز ہے عز و شرف، ہم کہے دیتے ہیں! اس ’ مقدس ‘جنگ میں جسے امریکہ نے اب باضابطہ آرمیگڈون، وہ جنگ قرار دے دیا ہے جس کے نتیجے میں الدجال کا ظہور ہوگا۔ نتین یا ہو اور ٹرمپ کو یہ شرف عطا ہوا ہے (بزعمِ خود) کہ وہ اب درندگی کے اس مقام کو پا چکے ہیں جہاں دنیا شیطان کے اس مظہردجال کی تجلی کے لائق ہو گئی ہے جو ہے تو انسان (یہو دی!)مگر گراوٹ، طاغوتیت میں ابلیس کا بھیانک ترین اظہار ہوگا۔
انسانیت ہر سطح پر انبیاء کی لائی، رب تعالیٰ کی عطا کردہ رحمانی تہذیب، اسلام کے مدِ مقابل ہمہ نوع اخلاقیات روند چکی ہے۔ معیشت میں سود، قمار بازی ، معاشرت میں پاکیزہ نکاح کے رشتے کو زیر و زبر کر کے ہمہ نوع غلاظت LGBTQ+ سے لے کر ایپسٹین کی اسفل ترین گراوٹوں کو جا پہنچی۔ سیاست میں جمہوریت آج سرتاسر جھوٹ، فراڈ، پیسے کی اندھی کارفرمائی اور نتیجہ ٹرمپ، نتین یا ہو، مودی! وہ جنگیں جو کبھی مردانگی، شجاعت اور رُو در رُو مقابلے پر مبنی ہوتی تھیں۔ اب ہائی ٹیک ہو کر درندگی، وحشت، کیمیائی آگ بھڑکانے اور خود محفوظ و مامون رہ کر شراب و کباب کے مزے لوٹنے والی بن چکیں۔ بصورتِ ڈرون یہ زحمت بھی ختم، صرف کمپیوٹر پر چلتی انگلیوں سے کھیل کے میدانوں میں بچے مارنے، سکولوں، ہسپتالوں پر نشا نے داغنے والے سورما ہیں!اسی دوران لبنان میں اسرائیلی حملوں سے 10لاکھ کے قریب افراد بے گھر اور 733 اموات ہو چکیں بشمول 103 بچے۔ جبکہ ایران میں 1450شہری نشانہ بنے۔ سومغربی تہذیب کا زہریلا زقوم پک کر تیار ہو چکا۔ اب دجال کے استقبال کو امریکی وزیر دفاع ہیگستھ سینے اور بازؤں پر صلیبی، دجالی ٹیٹو سجا ے ٔ کھڑا ہے۔ فخریہ اکیسویں صدی کی صلیبی جنگ پہ جنگ چھیڑ کر دجالی بارات میں جنازوں، تابوتوں کا شہ بالا بن کر دجال کے شانہ بہ شانہ مقام پانے کو۔ خاکم بدہن! یہ ہم نہیں کہہ رہے، یہ صدائیں تو اب با ضابطہ امریکی حکومت سے بلند ہو رہی ہیں۔ تفصیل ملا حظہ ہو۔
امریکی فوجیوں کی طرف سے مسلسل شکایات موصول ہورہی ہیںکہ ملٹری لیڈر، اعلیٰ افسران ایران
جنگ شروع ہونے کے ساتھ ہی ’آرمیگیڈون تصورات‘ کا پرچار کر رہے ہیں۔ 50 ملٹری یونٹوں سے چند دنوں میں 200 سے زائد پیغام موصول ہوئے کہ ٹرمپ اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر بھر پور حملہ کرنے چلا ہے۔ بظاہر ایرانی عوام کی آزادی اور حکومت کی تبدیلی کا تاثر تھا۔ نیز ایرانی بیلسٹک میزائل پروگرام، ایرانی نیوی کا خاتمہ ہو گا اور یہ کہ وہ دوبارہ کبھی نیو کلیائی ہتھیار نہ بنا سکے۔ مگر ساتھ ہی یہ بھی کہ ٹرمپ کو Jesus(عیسیٰؑ) نے روحانی طور پر نامزد (مسح) کیا ہے، کہ ٹرمپ ایران میں (علامتی) آگ بھڑکائے تا کہ آرمیگڈون شروع ہو اور وہ (عیسیٰؑ) دنیا میں واپس لوٹ سکیں۔ ہیگستھ بارے یہ بھی کہا گیا کہ اس نے عیسائی قوم پرستانہ مذہبیت کا تذکرہ پینٹا گون میں بہت بڑھا دیا ہے اور وہ وائٹ ہاؤس میں بائبل سٹڈی گروپ میں پابندی سے شریک ہوتا ہے۔ اس میں پادری تبلیغ کرتا ہے کہ اسرائیل کی حمایت مذہبی صحیفوں کا تقاضا ہے! امریکی فوج میں ان شکایات کی بھر مار ہو گئی ہے۔
تاہم حضرت عیسیٰؑ جیسے عظیم مبلغ،صلح جو نبی کی آمد کے لیے توجہ فرمائیے چند امور پر۔ ٹرمپ جیسے ایپسٹین ریکارڈ اور ’Hush money‘ اپنا جرم چھپانے کو خاتون کا منہ پیسے سے بند کرنے والا صدر؟ پورے غزہ، یروشلم، بیت اللحم کو (سیدنا عیسیٰؑ کا مقام پیدائش) اسرائیل کے ساتھ مل کر چھید ڈالنے، قتل عام کا شراکت کار ٹرمپ ہی درکار ہوتا ان کی تشریف آوری کو؟ ہماری سچی، نبیٔ صادق صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئیوں میں (احادیث میں)، آپؑ کا شام میں دو فرشتوں کے ہمراہ اترنا مذکور ہے جب ہماری نماز کی صفیں تیار کھڑی ہوں گی۔ حضرت عیسیٰؑ سے پہلے’ الدجال‘ کا آنا ہے جو شرِ محض ہوگا۔ حضرت عیسیٰؑ اس کے مکمل استیصال کے لیے تشریف لائیں گے۔ ’دین کی کمی اور علم سے رُو گردانی کے زمانے میں دجال (جھوٹے مسیح) کا خروج ہوگا۔‘(مسند احمد) وہ عین آج کے مغربی معاشرے کے انسان نما حیوانوں میں مثالی ’حیوان‘، اخلاق، شرم و حیا سے عاری، ظالم، بے رحم بھیڑیا ہو گا۔اس کی پیشانی پر ’کافر‘ لکھا ہوگا۔ یادر ہے کہ ہیگستھ کے بازو پر عربی میں اسی طرح کا’کافر‘ ٹیٹو ہے۔ اسرائیلی ایئرفورس کے ہر طیارے پر KFR اور ہر فوجی کی ٹوپی پر بھی کندہ ہوتا ہے۔ عبرانی میں جو لکھا ہے اس کے معنی بھی کفر ہی بنتے ہیں۔ آج ہم مسلمانوں کا اسرائیل یا امریکہ کا ساتھ دینا، دینی علم سے مکمل بے بہرہ ہونے اور غضب الٰہی کی طرف چل کر جانے کے مترادف ہے۔ آرمیگڈون، احادیث میں الملحمۃ الکبریٰ اور جدید علمی دنیا میں تیسری عالمی جنگ ہے۔ حضرت عیسیٰؑ کی یہ ان کی پہلی آمد پر تکذیب کر چکے ہیں۔ اور یہودی بزعمِ خود انہیں (نعوذ باللہ) سولی چڑھا چکے ہیں۔ اب جس کے منتظر ہیں وہ ’المسیح الدجال‘ ہے،حضرت عیسیٰؑ نہیں ۔
ٹرمپ کو روحانی منصب کی عطا، وائٹ ہاؤس میں مذہبی سٹڈی گروپ نیا نہیں۔ عین یہی منظر افغانستان، عراق جنگوں کے دوران ہو چکا۔ اسی آرمیگڈون پر اُس وقت لاکھوں کتب فروخت ہوئیں۔ بہت بڑی جنگ جس کے بعد حضرت عیسیٰؑ ورلڈ گورنمنٹ قائم کریں گے۔ ان کے صدور اسرائیل نوازی میں سبھی یکساں رہے۔ ریگن پابندی سے اس کنیسہ میں حاضری دیتا جہاں اسرائیل کے لیے مزید زمین کے حصول کی دعا کی جاتی۔ کلنٹن نے کہا تھا: ’میری تمنا ہے کہ اسرائیل میں مورچہ لگا کر رائفل سے اسرائیل کے دفاع کے لیے لڑنے کی سعادت حاصل کروں۔ یہ ایک نظریاتی جنگ ہے جس کا مقصد اسرائیل کا قیام و دوام ہے۔ Jesusکا حکم اور عیسائیوں کی ذمہ داری ہے گریٹر اسرائیل کا نقشہ پورا کرنے کی۔‘ ہمیں سیاسی اسلام سے مکمل پرہیز کرا کر خود مغرب، مذہبی جنونی قتل و غارت گرانہ سیاست مسلسل کرتے چلے آئے ہیں۔ جس کی انتہا آج پے در پے جنگیں ہیں۔ ہمیں حضرت عیسیٰؑ سے مسح کرا کر ورلڈ گورنمنٹ بنا رہے ہیں؟ ہمیں آپس میں لڑوانے مروانے میں جوتے رکھا۔ایران کو امریکہ نے ایرانی انقلاب پر ضبط شدہ پیسہ کئی گنا کر کے لوٹا دیا تھا وہ اربوں ڈالر اگر شام کی بشار الاسد کی حمایت میں مکمل غزہ نما تبا ہی پر استعمال نہ ہوئے ہوتے تو آج ایران کا امریکہ سے مقابلہ آسان ہو جاتا!
امریکہ نے ایران کے تیل کو قصداًحملے کا نشانہ بنایا ۔ جس سے گاڑھا سیاہ دھواں بنا اور شدید آلودہ نقصان دہ بارش برسی جو سیاہی کی مانند تھی۔ اس سے گردو پیش کے شہروں میں پانی کا نظام آلودہ اور تباہ کر کے عوام کے لیے شدید مسائل کھڑے کیے ۔ دنیا میں ایران پر حملے کے خلاف رائے عامہ ایک مرتبہ پھر امریکہ، اسرائیل سے بیزاری کی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے باہر امریکی حملے کے خلاف احتجاج میں بینر پر مؤقف واضح ہے۔ ’عراق یا درکھو! جھوٹ کی بنیاد پر مزید کوئی جنگ نہ ہو‘۔ ’مشرقِ وسطیٰ میں کوئی نئی جنگ نہ ہو‘ ۔’پیسہ ہماری ضروریات کے لیے ہے جنگجوئی کے لیے نہیں‘۔ رائٹر کے مطابق 65فی صد امریکی، ایران کے ساتھ جنگ کے خلاف ہیں۔
چینی وزیر خارجہ نے اس جنگ بارے سخت بیان جاری کیا۔ ’اسے فوری ختم کیا جائے اور مذاکرات کی میز پر آئیں۔یہ مسائل جنگی بنیادوں پر حل نہیں ہو سکتے۔ دنیا جنگل کے قانون کی طرف نہیں لوٹ سکتی۔ ایران میں تبدیلیٔ حکومت کا کوئی حقیقی مطالبہ موجود نہیں‘۔ نیز انڈونیشیا نے ایران پر حملے کے بعد (قوم کے شدید احتجاج کے تناظر میں) بورڈ آف پیس، کا حصہ بننے سے انکار کر دیا ہے۔ اِدھر ہم؟’ مسح شدہ ٹرمپ‘ کی مریدی میں رہیں گے کیا؟
برطانوی وزیر خارجہ نے ٹونی بلیئر پر شدید تنقید کی کہ ’ہمیں عراق جنگ کی غلطیوں سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم کو برطانوی مفاد میںفیصلہ کرنا چاہیے۔ سٹار مر نے درست قدم اٹھا یا عراق کی غلطی نہ دہرانے کا‘۔ جنگوں بھری اس دنیا میںپاکستان کو مخدوش معاشی، سیاسی صورت حال دیکھتے ہوئے اپنی خارجہ پالیسی پر نظر ثانی اشد ضروری ہے۔ اندرونِ ملک بھی کرپشن کا خاتمہ کر کے کفایت شعاری برتی جائے۔کرپشن زدہ، مقروض قوم اپنی خود مختاری کا تحفظ نہیں کر سکتی!۔
اوراب:’ مسح شدہ ٹرمپ‘ !
09:11 AM, 15 Mar, 2026