خواب تولوگ رات کو دیکھتے ہیں لیکن دن کی روشنی میں بھی خواب دیکھنے پرکوئی پابندی نہیں۔دن بارہ بجے اگرکوئی پاکستان کے اگلے نمبریااس پرایران جیسے کسی حملے کاخواب دیکھے تواس میں تعجب اورپریشانی کی کیابات۔؟پاکستان فتح کرنے کے خواب تومودی اورموذیوں نے بھی بہت دیکھے۔لاہورمیں صبح کے ناشتے اوراسلام آبادمیں دوپہرکے کھانے کے خواب توابھی نندن کے بھائی پاکستان بننے کے بعدسے ہی دیکھ رہے ہیں یہ الگ بات کہ غلطی سے پاکستان کارخ کرنے والے ابھی نندوں کے پینٹ پتلون آج بھی پاکستان میں گیلے لٹک رہے ہیں۔آپ کویادہوگابھارت کے علاوہ ہمارے پڑوس میں مودی کے یاروں نے بھی باب خیبرفتح کرنے کے ساتھ اٹک پل پر افغانی وطالبانی پرچم لہرانے کے بڑے خواب دیکھے تھے پھران کے خواب جس طرح خواب بن کررہے وہ ایک الگ کہانی ہے۔ اگر تاریخ اٹھا کر دیکھیں ہماری توزندگی ہی ایسے بے ہودہ خواب دیکھنے والے عجوبوں کے درمیان گزری ہے۔ایران پرامریکہ واسرائیل کے حملے کے بعدجولوگ پاکستان کے اگلے نمبرکی پیشنگوئیاں یاچہ مگوئیاں کررہے ہیں لگتاہے ان چمونوں کاتعلق بھی انہی عجوبوں کے قبیل سے ہے۔ دن کی روشنی میں ایسے خواب دیکھنے والوں کی اطلاع اورتسلی کے لئے بس اتناہی عرض ہے کہ عقل کے دشمنو۔پاکستان نہ توکوئی شام، لبنان،عراق اورلیبیاہے اورنہ ہی یہ کوئی ایران ہے کہ امریکہ اوراسرائیل ایران کے بعد ہمارا نمبر لگائیں گے۔اللہ کے فضل اورکرم سے ہمیں صرف امیدنہیں بلکہ کامل یقین بھی ہے کہ کسی ماں نے آج تک ایساکوئی بچہ نہیں جنا جونشانہ لگانے کے لئے ہمارا نمبرلگائے۔امریکہ اورایران جنگ کے تناظر میں جولوگ یہ بکواس کرتے پھررہے ہیں کہ ایران کے بعداگلانمبرپاکستان کاہوگایہ لوگ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔پاکستان کو ایران، عراق اور لیبیا سمجھنے والوں کوشائدپاکستان کی غیرت، بہادری اورقوت ایمانی کااندازہ نہیں۔ پاکستان کی ایٹمی طاقت اپنی جگہ اس ایٹم بم کے علاوہ بھی پاکستان کابچہ بچہ ہرکالے وگورے دشمن کے لئے کسی ایٹم بم سے کم نہیں۔ہمیں اللہ کی ذات سے امیدہے کہ ناپاک عزائم لیکر پاکستان آنے والاکوئی کالا اور گورا دشمن اول توہمارے جانبازوں ومجاہدوں سے نہیں بچے گالیکن خدانخواستہ اگرکوئی ان سے بچ گیابھی تووہ پھر ان شاء اللہ پاکستان پرمرمٹنے کے لئے تیار بائیس کروڑ عوام سے کبھی بچ کرنہیں جائے گا۔ امریکہ اورایران جنگ کودیکھ کرجولوگ ہمیں اگلے نمبرسے ڈرانے کی محنت کررہے ہیں وہ یہ کیوں بھول رہے ہیں کہ ایران توپھربھی دورہے ان کااباحضورامریکہ نیٹوکے پورے لاؤلشکرسمیت کئی سال تک ہمارے پڑوس میں افغانستان کے اندر موجود رہا۔ امریکہ اورروسی لشکروں کواگرافغانستان آکربھی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرأت وہمت نہیں ہوئی توہمارانمبرلگانے والے یہ بہادراپنے ناڑوں کو مضبوطی کے ساتھ باندھ کریہ تسلی رکھیں کہ ایران پہنچنے والے کسی گورے اورکالے دشمن کوبھی ان شاء اللہ پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی ہمت نہیں ہوگی۔مودی بھی روزپاکستان فتح کرنے کے خواب دیکھاکرتے تھے۔ جب بھی بھارت میں کوئی جلسہ،جلوس اور مظاہرہ ہوتا یا مودی جی کوئی انٹرویو وغیرہ دیتے تووہ حملے کی دھمکی دے کر پاکستان کو ضرور یاد کرتے۔ ان کی دھمکیوں اورباتوں سے یوں لگتا کہ جیسے پاکستان ان کے سامنے کچھ بھی نہ ہو۔ اسی خوش فہمی میں انہوں نے جب حملہ کیا تو آگے سے پاکستان نے ایساجواب دیاکہ مودی جی کوخوابوں کے ساتھ پھردن کی روشنی میں تارے بھی نظرآنے لگے۔وہ دن اور آج کادن اس کے بعدمودی جی نے کبھی منہ دھوئے بغیر پاکستان کانام نہیں لیا۔مودی تو برسوں سے دھمکیاں دیتے پھرتے تھے لیکن پاک فوج کے جوانوں نے صرف ایک جواب دیااورجواب بھی ایساکہ مودی آج تک اس کے اثرات سے نکل نہیں سکے ہیں۔آج بھی اگرمودی کے سامنے پاکستان کا نام لیاجائے تو صاحب کے ماتھے پرٹھنڈے ٹھنڈے پسینے آنے کے ساتھ اس کے جسم پر کپکپی طاری ہونے لگتی ہے۔ اسی وجہ سے مودی اب یہ نہیں کہتے کہ ہم پاکستان پرحملہ کردیں گے۔ جو لوگ پاکستان امریکہ وایران جنگ کے بعد ہمارا نمبر لگا کر پاکستان پرحملے کے اندازے لگارہے ہیں ان لوگوں کوہواؤں میں تیرچلاکرایسے اندازے لگانے سے پہلے اپنے ہندوستانی اباسے ایک بار ضرورپوچھ لینا چاہئے۔ ہم پہلے بھی کہتے اورلکھتے رہے ہیں اوراب بھی کہتے ہیں کہ پاکستان یہ کوئی عراق، شام، لیبیا اور افغانستان نہیں کہ لوگ ہمارے نمبرلگاتے پھریں گے جولوگ امریکہ ایران جنگ کے بعدہمارے نمبر اور باری کے اندازے لگارہے ہیں انہیں پاکستان کی طاقت اور یہاں کے عوام کی بہادری اورقوت ایمانی کااندازہ اورپتہ نہیں۔جن لوگوں نے آگ اورخون کے دریا عبور کر کے پاکستان بنایاان کے روحانی فرزند پاکستان کی حفاظت کرناجانتے ہیں۔ ہم مالی وجسمانی طور پر کمزوربہت ہی کمزورسہی لیکن ملک کی حفاظت،بقا وسلامتی کے معاملے پرہم اتنے طاقتورہیں کہ ان شاء اللہ دنیامیں ہماراکوئی ثانی نہیں ہوگا۔اس ملک کابچہ بچہ وطن پرقربان ہونے کے لئے کل بھی تیارتھااوریہ آج بھی تیارہے۔ہم کٹ سکتے ہیں مرسکتے ہیں لیکن اس ملک پرہم کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔جولوگ عراق، شام، لیبیا، افغانستان اورایران کی جگہ پرپاکستان کورکھ کرخوشی سے پھول رہے ہیں وہ ہماری تاریخ سے واقف نہیں۔ہم وہ قوم ہے جس قوم نے بانی پاکستان حضرت قائداعظم محمدعلی جناح کی قیادت میں کالے ہندوؤں اورگورے انگریزوں کے منہ میں ہاتھ ڈال کرپاکستان حاصل کیا۔ہم اگر پاکستان بناسکتے ہیں توہم اس کی حفاظت بھی کرنا جانتے ہیں۔پاکستان قائم اورآبادہونے کیلئے بنا ہے تباہ ہونے کے لئے نہیں۔پاکستان کے نمبر لگانے والوں سے ہمارایہ وعدہ رہاکہ اس پاک دھرتی کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والوں کی آنکھیں بھی پھر سالم نہیں رہیں گی۔خدانہ کرے اگرہم کبھی ڈوبے توپھراس زمین پربچے گابھی کوئی نہیں،یہی پاکستان پھردشمن کاقبرستان بنے گا۔
پاکستان پرحملہ۔۔دشمن ہزاربارسوچے گا
09:10 AM, 15 Mar, 2026