اس وقت امریکہ اسرائیل اور ایران کے درمیان گمبھیر جنگ چل رہی ہے جسے تیسری جنگ عظیم کہا جا رہا ہے۔ اس جنگ میں جدید طرز کے میزائل داغے جا رہے ہیں۔ دشمن کے خلاف نیوی کا بھی بھر پور استعمال کیا جا رہا ہے۔ جس کی زد میں خلیجی ممالک آ گئے ہیں جو عرصہ دراز سے نیوٹرل، پر امن اور دنیا کے پر تعیش ممالک کی فہرست میں شامل تھے۔ آگ کی طرح پھیلتی ہوئی اس جنگ نے آدھی دنیا کے ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے تو دوسری جانب باقی ممالک پر بھی منفی اثرات پڑے ہیں۔جنگ میں غیر شریک ممالک کو توانائی بحران اور مہنگائی نے گھیر لیا ہے جو فوری حل طلب معاملہ ہے۔
ایران کے ایٹمی پروگرام اور سپریم لیڈر آیت اللہ خمینی امریکہ اور اسرائیل کے نشانے پر تھے جن اہداف کو آپریشن ایپک فیوری کے ذریعے حاصل کیا جا چکا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ واشنگٹن ڈی سی میں اپنے دفتر وائٹ ہاوس اور اوول آفس میں روزانہ کی بنیاد پر پریس کانفرنسز کر رہے ہیں۔ امریکہ اسرائیل مشترکہ جنگ کی لمحہ بہ لمحہ صورتحال سے صحافیوں کو آگاہ کرنے کے لئے امریکی ڈیفنس سیکرٹری، پریس سیکرٹری، اور توانائی اور ٹریژری سیکرٹری بھی پریس کانفرنسز کر رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے جنگ جیتنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ان کے مطابق اس جنگ کے اہداف حاصل کیے جا چکے ہیں۔ امریکی ڈیفنس سیکرٹری نے بھی میڈیا گفتگو میں اس بات کو دہرایا ہے کہ ایران کو مکمل پسپائی کا سامنا ہے۔
اسی دوران جنگ کے باعث دنیا بھی میں پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیلات بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ خام تیل، پیٹرول، ڈیزل، ایل پی جی گیس کی قلت نے توانائی بحران کے جن کو بے قابو کر دیا ہے۔ اسی صورتحال میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر بھی دبائو آیا ہے۔ جس کی وجہ سے کچھ روز قبل ٹرمپ نے اس بات کو واضح کیا ہے کہ یہ جنگ چار ہفتوں تک کے لئے پلان کی گئی تھی۔ اور اب بھی امریکہ ایران کی عوام کے مفادات کی خاطر جنگ کو جلد ختم کرنا چاہتا ہے۔ توانائی تیل بحران کو بھی امریکہ نے عارضی قرار دیا ہے۔
بین الاقوامی انرجی ایجنسی (آئی اے ای) جو عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی ریگولیشن اور ترسیلات کا ادارہ ہے۔ اس نے ایک اہم اعلان کیا ہے۔ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی نے دنیا بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قلت اور قیمتوں میں ہوش ربا اضافے پر قابو پانے کے لئے پیٹرولیم مصنوعات کی تعداد بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 182 ملین بیرل پیٹرولیم مصنوعات کی اوسط ضرورت یا استعمال ہے جس کو اب تین سو سے چار سو ملین بیرل تک بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ایسا کرنے سے جنگ سے متاثرہ ممالک میں عارضی بحران ختم ہو گا اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی جا سکے کی۔ معاشی مبصرین کا کہنا ہے ایسا ہنگامی فیصلہ اس لیے کیا گیا ہے کیونکہ عالمی منڈی میں پیٹرول کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے جو اس جنگ کے بڑھنے کے ساتھ دو سو ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔ جس کے خطرناک نتائج سے بہت سی معیشتیں ڈوب سکتی ہیں۔
دنیا جانتی ہے ایران پر حملے کا مقصد ایٹمی پروگرام کی رسائی تک محدود نہیں ہے۔ ایران میں خام تیل کے ذخائر سن 1979 سے قبل امریکہ اور یورپ کے کنٹرول میں تھے. جو 1979 میں آیت اللہ خمینی کے اقتدار میں آنے کے ساتھ ہی ایران میں امریکی سفارتخانے سمیت ہر طرح کی پیٹرولیم کمپنیوں کے کنٹرول کو نیشنلائز کر دیا گیا تھا۔ جو آج تک عالمی اصل وجہ تنازع ہے۔ حالات کی کشیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ تہران میں امریکی سفارتخانے میں 77 امریکیوں کو بندی بنایا گیا تھا۔ یہ امریکہ ایران کے خراب تعلقات کے کی قبر میں آخری کیل تھا۔
ایران پر عالمی پابندیاں، معیشت کو زرب دینے کے اقدامات اور سال 2020 میں ایرانی فوج کے جرنیل قدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کی ایراق کے شہر بغداد میں امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت امریکہ کا دور حاضر میں اہم مشن تھا۔ اسی دور میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خمینی کو اگلا ہدف بتایا گیا تھا۔
اس سنگین صورتحال میں جنگ متوقع تھی اور گزشتہ ایک سال سے امریکہ اسرائیل اور ایران تیاری کر رہے تھے۔ مگر جنگ شروع ہوتے ہی ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کی مختلف ریاستوں میں امریکی ائیر بیسز کو نشانہ بنایا اور میزائل حملوں اور غیر یقینی کی صورتحال نے وہاں کا امن بھی برباد کر کے رکھ دیا ہے۔
اس بھیانک جنگ میں انسانی جانوں کا بھی ضیاع ہوا ہے جو ناقابل تلافی نقصان ہے۔ ایران میں سکول کے بچے بھی شہید ہوئے، بین الاقوامی سمندروں میں ایرانی بحری جہازوں کو بھی نہیں بخشا گیا۔ سمندری پورٹس پر ایک ہفتے سے بحری جنگ کی وجہ سے مال بردار بحری جہازوں کو روکا گیا ہے جس نے پیٹرولیم کے بحران کو جنم دیا ہے۔
اموات، افواج، عالمی طاقتیں، مسلمان ملک، مہنگائی، توانائی بحران اور غیر یقینی کی صورتحال نے پوری دنیا کو پریشانی اور خطرات سے دو چار کر دیا ہے۔ پاکستان کمزور معیشت ہونے کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔ وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ کیا ہے۔ ساتھ میں دفاتر میں حاضری کم اور تعلیمی ادارے پندرہ روز کے لئے بند کئے ہیں۔ ہمسایہ ملک بھارت میں بھی حالات خراب ہیں۔ وہاں ایل پی جی گیس بحران نے پورے ملک کے شہروں، ریاستوں اور ہوٹلوں کو تالے لگوا دیئے ہیں۔ ایل پی جی کی فی لیٹر قیمت میں ساٹھ روپے تک کا اضافہ کیا گیا مگر اس کے باوجود بھی ایل پی جی سلنڈر گیس بھارت میں ناپید ہو گئی ہے۔ شہروں میں احتجاج ہو رہے ہیں۔ فلنگ سٹیشنز پر لوگ قطاروں میں بارہ بارہ گھنٹے کھڑے ہونے پر مجبور ہیں۔ قطاروں میں بعض لوگوں کی اموات بھی رپورٹ ہو رہی ہیں۔
جنگ طاقت ور معیشتوں نے شروع کی جسے دنیا کا ہر ملک بھگت رہا ہے۔ اس وقت جنگ بندی اور ثالثی کے لئے چین کی جانب سے سنجیدہ کوششیں کی جا رہی ہیں۔ جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے نو منتخب لیڈر آیت اللہ خمینی کے صاحبزادے مجتبیٰ خمینی کو تبدیل کرنے کی شرط سامنے رکھی یے۔ دوسری جانب ایران نے مستقل بنیادوں پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ ممکنہ طور پر چار سے پانچ ہفتوں تک چلنی والی یہ تیسری جنگ عظیم انسانی اور معاشی دونوں لحاظ سے بربادی کی طرف بڑھ رہی ہے۔
تیسری جنگ عظیم
09:10 AM, 15 Mar, 2026