دنیا کی سیاست میں بعض اوقات ایسے لمحات بھی آ ہی جاتے ہیں جب کوئی سپر پاور اپنی تمام تر جارحیت کی کوششوں کی ناکامی کے بعد کسی نہ کسی ایسی صورتحال کی تلاش میں ہوتی ہے کہ اپنے سے کہیں کمزور نظر آنے والے ملک سے چھیڑی گئی جنگ سے اس کی جان چھوٹ جائے۔ آج امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلط کی جانے والی جنگ میں بھی ایسی ہی صورتحال نظر آ رہی ہے ۔ اس جنگ میں تمام ہی فریقین کا کافی زیادہ نقصان ہو چکا ہے، شائد اسی لیے ان کی نظریں کسی مفاہمت کار کی تلاش میں ہوں لیکن جانے کیوں روس، چین، یورپ اور دنیا کے دیگر ممالک میں سے کوئی بھی اس قسم کے عمل کا حصہ بننے کے لیے تیار نظر نہیں آتا۔
وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میںپاکستان نے ماضی قریب میں عسکری اور سفارتی سطح پر پوری دنیا میں اپنا لوہا منوایا ہے لہٰذا ایسی صورتحال میں کہ جب نہ صرف دنیا کاامن بلکہ معیشت اور تجارت بھی دائو پر لگے ہوں کیا ہی اچھا ہو کہ پاکستان ایک موثر ثالث کا کردار ادا کر کے بین الاقوامی طور پر اپنی پوزیشن مزید مستحکم کر لے۔
یہ تجویز اس لیے بھی زیادہ معقول نظر آتی ہے کیونکہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کے تعلقات بیک وقت مختلف طاقتوں کے ساتھ موجود ہیں۔ ایک طرف پاکستان کے امریکہ کے ساتھ سفارتی اور دفاعی روابط رہے ہیں، دوسری طرف ایران کے ساتھ اس کی طویل سرحد اور تاریخی تعلقات ہیں، اور تیسری طرف سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ اس کا ایک گہرا مذہبی، معاشی اور سٹرٹیجک رشتہ موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مشرق وسطیٰ کی کشیدگی ختم کرانے کے لیے پاکستان ایک اہم کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں نظر آتا ہے۔
اگر ہم پاکستان کی تاریخ کو دیکھیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ وہ مسلم دنیا کے اندر اختلافات کو کم کرنے میں مثبت کردار ادا کرے۔ پاکستان نے ہمیشہ یہ موقف اختیار کیا ہے کہ مسلم ممالک کے درمیان لڑائی کسی کے مفاد میں نہیں ہوتی بلکہ اس سے صرف دشمن قوتوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔ یہی سوچ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے بنیادی اصولوں میں شامل رہی ہے۔ اس وقت ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے اثرات صرف انہی ممالک تک محدود نہیں ر ہے بلکہ اس نے پور ی دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کر دیا ہے۔ اس وقت عالم یہ ہے کہ تیل کی قیمتیں تیزی سے اوپر کی طرف جا رہی ہیں، ہر قسم کی تجارت بری طرح سے خسارے میں چل رہی ہے، عرب ممالک کی ایویشن بری طرح سے متاثر ہے اور اب تو مخالفین ایک دوسرے کے بنکوں ، مالیاتی اداروں اور تمام تر ملٹی نیشنل کمپنیوں کے دفاتر کو بھی نشانہ بنانے کے درپے ہیں ۔ وہ ممالک جو کبھی رہائش اور سرمایہ کاری کے لیے محفوظ ترین تصور کیے جاتے تھے آج ان ممالک کو چھوڑ کر جانے والوں کی لائنیں لگی ہوئی ہیں۔ایسے میں اگر کوئی ملک امن اور مذاکرات کی بات کرے تو اس کی اہمیت خود بخود بڑھ جائے گی۔
پاکستان اس حوالے سے ایک متوازن آواز بن سکتا ہے کیونکہ وہ کسی بھی فریق کے ساتھ بلاوجہ دشمنی کی پالیسی نہیں رکھتا۔ پاکستان ایران کے ساتھ سرحدی اور ثقافتی تعلقات رکھتا ہے، امریکہ کے ساتھ بھی اس کے سفارتی روابط موجود ہیں اور اسلامی دنیا کے تقریباً تمام ہی ممالک کے ساتھ بھی پاکستان کے قریبی تعلقات ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ اگر پاکستا ن اسی توازن کو بروئے کار لاتے ہوئے کوئی سفارتی موقع پیدا کرے۔ اگرچہ سردست پاکستان خود بھی کئی قسم کے داخلی اور خارجی مسائل اور چیلنجز کا شکار ہے اور ایسے حالات میں کسی بڑے عالمی تنازع میں فیصلہ کن کردار ادا کرنا آسان نہ ہو گا،لیکن اس کے باوجود پاکستان کی موجودہ سیاسی اور عسکری قیادت سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ دنیا کے امن کے لیے کوئی نہ کوئی غیر معمولی کردار ادا کر یں۔ وزیر اعظم شہباز شریف اکثر یہ بات کرتے ہیں کہ پاکستان کو تنازعات سے دور رہ کر امن اور ترقی کی طرف بڑھنا چاہیے اور ان کا یہ مؤقف رہا ہے کہ پاکستان کو اپنی تمام تر توانائیاں جنگی ماحول کے بجائے معیشت اور عوامی فلاح پر لگانی چاہئیں اس کے علاوہ سفارتکاری میں بھی ان کا ویژن کسی شک و شبہ سے بالا تر ہے۔
پاکستان کی عسکری قیادت بھی خطے کی پیچیدہ صورتحال کو اچھی طرح سمجھتی ہے ۔فیلڈ مارشل عاصم منیر کو خطے کی سکیورٹی صورتحال کا گہرا ادراک رکھنے والا سپاہی تصور کیا جاتا ہے۔ ان کی قیادت میں پاکستان کی فوج نے بارہا یہ پیغام دیا ہے کہ پاکستان امن چاہتا ہے لیکن اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ یہ توازن دراصل وہ حکمت عملی ہے جو کسی بھی ذمہ دار ریاست کے لیے ضروری ہوتی ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کے لاکھوں شہری اس وقت سعودی عرب میں کام کرتے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعلقات بھی بہت مضبوط ہیں۔ دوسری طرف ایران کے ساتھ پاکستان کی سرحدی تجارت اور ثقافتی روابط بھی اہم ہیں۔ اس لیے پاکستان توازن برقرار رکھتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کم کرنے میں ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم اصول یہ رہا ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ۔ پاکستان نے خود مختلف قسم کی جارحیتوں اور دہشت گردی کے خلاف ایک طویل جدوجہد کی ہے۔ اور شائد اسی لیے وہ یہ بات بہت اچھی طرح سمجھ چکا ہے کہ کہ امن کی قیمت جنگ سے بہت زیادہ ہوتی ہے کیونکہ جنگ کا نقصان ہمیشہ عام لوگوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔
ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ امریکہ اور ایران کی اس جنگ کے اثرات اب پاکستانی عوام پر بھی پڑنا شروع ہو گئے ہیں۔ تیل کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں، سٹاک مارکیٹ بہت زیادہ گراوٹ کا شکار ہے ، کاروبار تباہ ہو رہے ہیں اور سب سے اہم بات یہ کہ ہم تو پہلے ہی شدید قسم کی بیروزگاری کا شکار تھے اور اس پر اگر اس جنگ کی وجہ سے خلیجی ممالک اور سعودی عرب سے لوگ واپس آنا شروع ہو گئے تو نہ صرف بیروزگاری کا سیلاب آ جائے گا بلکہ جو بڑی مقدار میں زرمبادلہ حاصل ہو رہا تھا اس کو بھی بریک لگ جائے گی۔ اس لیے بھی ضروری ہے کہ پاکستان کشیدگی کو ختم کرانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے میں کوئی تاخیر نہ کرے۔ بظاہر تو لگتا ہے کہ پاکستان اتنی بڑی قوت نہیں کہ وہ تنہا ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ کو رکوا سکے، لیکن حقیقت میں اس کے پاس پوری صلاحیت ہے کہ وہ اعتدال، سمجھداری اور توازن کی بات فریقین کو سمجھا سکے۔ اگر پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت اپنی فہم و فراست اور دور اندیشی کے ساتھ آگے بڑھتی ہے تو یقینا نہ صرف وہ اس جنگ کو رکوا سکتی ہے بلکہ دنیا میں مستقل امن کے راستے تلاش کرنے میں مدد گا ر بھی ثابت ہو سکتی ہے۔
اب پاکستان کو کردار ادا کرنا ہو گا
09:10 AM, 15 Mar, 2026