اسلام آباد: عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے قرض پروگرام پر سختی سے عمل درآمد کا اعتراف کرتے ہوئے ایک اعلامیہ جاری کیا ہے۔ اعلامیہ میں بتایا گیا کہ پاکستان نے منیجمنٹ، توانائی، صحت، تعلیم، سماجی تحفظ اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے اہم مسائل پر مذاکرات مکمل کیے ہیں، اور آن لائن مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا۔
آئی ایم ایف کے اعلامیے کے مطابق، نیتھن پورٹر کی قیادت میں آئی ایم ایف ٹیم نے 24 فروری سے 14 مارچ تک پاکستان کا دورہ کیا، جہاں پاکستان نے توانائی کے شعبے میں لاگت کو کم کرنے اور معاشی ترقی کی شرح میں اضافے پر بات چیت کی۔ اس کے علاوہ، صحت عامہ، تعلیم اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
آئی ایم ایف نے کہا کہ پاکستان نے قرض پروگرام کے پہلے جائزے پر اسٹاف لیول معاہدے کی طرف پیشرفت کی ہے۔ پاکستانی حکومت کے ساتھ اس بات پر بات چیت بھی ہوئی کہ حکومت نے آئی ایم ایف کے اہداف پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرائی ہے۔
آئی ایم ایف کے اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا کہ آئی ایم ایف وفد نے وزیر خزانہ کے ساتھ مذاکرات کے دوران پاکستان کی معاشی ٹیم کی کارکردگی کو سراہا اور دونوں فریقین کے درمیان تعاون کی توقعات کا اظہار کیا۔