نیویارک/اسلام آباد: اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے میں کشیدگی میں کمی اور سفارتی حل کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
انہوں نے دونوں ممالک کو معاہدے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کے امکانات بہتر ہوں گے، تاہم اس پر مکمل اور مؤثر عملدرآمد ناگزیر ہے۔
چین نے اس معاہدے کو سفارتکاری کی فتح قرار دیتے ہوئے کہا کہ بات چیت اور مذاکرات ہی بین الاقوامی تنازعات کے حل کا مؤثر ذریعہ ہیں۔ ترک صدر نے بھی اس پیش رفت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ خطے میں سلامتی اور استحکام کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔
برطانوی وزیرِاعظم نے معاہدے کو خطے میں استحکام کی سمت ایک مثبت قدم قرار دیا، جبکہ قطر کے وزیراعظم نے مذاکراتی عمل میں کردار ادا کرنے والے ممالک، بالخصوص پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔
جاپان، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے بھی فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ معاہدے پر مؤثر اور مکمل عملدرآمد کو یقینی بنائیں تاکہ خطے میں دیرپا امن قائم ہو سکے۔
دوسری جانب برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، تاہم قابلِ تصدیق اقدامات کی صورت میں پابندیوں میں نرمی پر غور کیا جائے گا۔
عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق اس معاہدے پر عالمی سطح پر مثبت ردعمل اس بات کا مظہر ہے کہ بین الاقوامی برادری سفارتکاری اور مذاکرات کو تنازعات کے حل کا بہترین راستہ سمجھتی ہے۔