خطے میں جاری امریکہ اسرائیل ایران جنگ کے حوالے سے خوشخبریاں سنائی گئی تھیں کہ آئندہ چوبیس اڑتالیس گھنٹوں میں جنگ بندی کے حوالے سے معاہدہ ہو سکتا ہے۔ اس معاہدے کے لئے امریکی صدر اب زیادہ مستعد دکھائی دیتے ہیں۔ 14جون کو ان کی سالگرہ تھی جو گزر گئی ان کی شدید خواہش تھی کہ اس روز یا اس سے ایک روز قبل یہ معاہدہ ہو جائے تاکہ وہ اسے اپنی عظیم فتح اور عظیم کامیابی کے علاوہ اپنے بہترین ڈیلر ہونے کے حوالے سے مشتہر کر سکیں۔ ایران کو ان کی منصوبہ بندی کا خوب اندازہ تھا۔ ایران نے واضح کر دیا کہ معاہدہ ان ایام میں اور امریکی صدر کی خواہش کے مطابق نہیں ہو گا۔ معاہدے میں ایک رکاوٹ ایسی ہے جسے دنیا اہمیت نہیں دے رہی لیکن امریکی صدر اور ایرانی قیادت کے نزدیک یہ بات اہم ہے۔ امریکی صدر مسلسل رٹ لگا رہے ہیں کہ انہوں نے اپنے اہداف حاصل کر لئے ہیں۔ امریکہ فتح یاب ہو چکا ہے اور ایرانی جنگ بندی کے لئے تیار ہیں جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ امریکہ یورینیم حاصل نہیں کر سکا۔ آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا اور ایران میں رجیم چینج نہیں کرا سکا۔ دنیا ان حقائق کو کھلی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے اور تسلیم کر رہی ہے لیکن امریکی صدر اپنی دروغ گوئی چھوڑنے کو تیار نہیں۔ وہ اسی طرح ایران کو چڑا رہے ہیں جیسے گزشتہ برس وہ پاکستان کے ہاتھوں بھارت کے گرائے جانے والے طیاروں کی تعداد اور اس کا ہر موقع پر ذکر کر کے بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کو چڑایا کرتے تھے۔
اس جنگ کے حوالے سے دو صحافیوں کے تجزیے اہمیت کے حامل ہیں۔ ایرانی صحافی اور تجزیہ کار محمد حسین باقری کہتے ہیں۔ میرا نہیں خیال کہ ہم جنگ بندی کی طرف جا رہے ہیں۔ ایران اور اسرائیل کا اس خطے میں ایک ساتھ رہنا مشکل ہے۔ یہ عارضی جنگ بندی تو ہو سکتی ہے۔ مستقبل نہیں آنے والے ایام میں ہم ایک مرتبہ پھر جنگ دیکھیں گے۔ امریکی صحافی اینا کیپرین کہتی ہیں اسرائیل ایک قابل نفرت اور جھوٹا ملک ہے جو خون میں ڈوبی ہوئی زمین پر قائم کیا گیا ہے۔ پوری دنیا اس کی اور اس کے پیچھے کھڑی طاقتوں کی حقیقت جان چکی ہے۔ میرے خیال میں فوری جنگ بندی اب امریکہ کی ضرورت ہے۔ اس کی ایک وجہ امریکہ کی فوجی ناکامیاں جبکہ دوسری بڑی وجہ امریکہ کی ڈولتی ہوئی معیشت ہے۔ امریکہ اس جنگ میں اب تک مختلف معاملات میں ستر بلین ڈالر سے زیادہ کا نقصان اٹھا چکا، اس کی فوجی اور کاروباری ساکھ تباہ ہو چکی ہے جبکہ آئندہ دو ماہ میں اسے تین بلین ڈالر کا ایک اور جھٹکا ملے گا۔ اس جھٹکے سے بچنے کے لئے امریکہ نے ایران پر اپنا وہ حملہ روکا ، جس کا ہمیشہ کی طرح امریکی صدر نے بڑے دھوم دھڑکے سے اعلان کیا تھا۔ ایرانی خوب جانتے تھے کہ ایک نئی گیدڑ بھبھکی ہے پس وہ قطعی پریشان نہ ہوئے لیکن انہوں ن ے اس حملے سے قبل اردن میں ایک بڑے امریکی اڈے کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ ایران نے اردن کے امریکی اڈے پر درجنوں طاقتور میزائل داغے جن میں سے اسی فیصد نشانے پر لگے یوں اس اڈے پر کھڑے اپاچی، کوبرا ہیلی کاپٹر، ایف 15، ایف سولہ اور ٹرانسپورٹ جہاز اپنے ہینگروں میں کھڑے شعلوں کی نذر ہو گئے۔ ایرانی حملہ چھ گھنٹے تک جاری رہا۔ میزائلوں نے اس اڈے پر کھڑی فولادی مشینوں کو پگھلا کے رکھ دیا۔ حملے کے بعد آنٹھ گھنٹے تک وہاں لگی آگ بجھانے کی کوششیں اور وہاں موجود انسانوں یا ان کی ڈیڈ باڈیز نکالنے کی کارروائیاں جاری رہیں۔ امریکہ ہر مرتبہ حملہ کرتا ہے اور اس کے فوراً بعد مذاکرات کی بات کرتا ہے جس پر اب ایرانی پالیسی یہ ہے کہ ہر امریکی اسرائیلی حملے کے بعد اس کا موثر ترین جواب دیا جائے گا یعنی بدلہ لیا جائے گا، اس کے بعد مذاکرات کی بات کی جائے گی۔ ایران نے میزائلوں کے علاوہ کثیر تعداد میں ڈرون بھیجے جنہیں امریکی دفاعی نظام روکنے میں ناکام رہا غالباً یہ دفاعی نظام میزائل حملوں میں تباہ ہو چکا تھا۔ امریکہ کا دوسرا ایف 35 طیارہ ایرانی میزائلوں سے ہٹ ہوا ہے جبکہ امریکہ اس کی ہنگامی لینڈنگ کی اطلاع دے رہا ہے۔ اپاچی ہیلی کاپٹر کی تباہی کے بعد پینٹاگون نے دو روز بعد اس کی تصدیق کی تھی۔
امریکہ کی طرف سے ایران پر بڑے حملے کی دھمکی پھر اسے روکنے کا فیصلہ اس لیے کیا گیا کہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو کسی حد تک کنٹرول کیا جا سکا۔ ٹرمپ اس میں کامیاب ہو گئے، حملہ روکنے کے اعلان سے تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ایک مرتبہ پھر کم ہو گئیں۔
امریکی صدر جن وجوہات کی بنا پر پندرہ جون سے قبل جنگ بندی معاہدہ چاہتے تھے، ان میں ان کی سالگرہ کے علاوہ عالمی نکتہ نظر سے ایک اہم ایونٹ تھا یعنی عالمی فٹ بال ورلڈ کپ 2026ئ، امریکی اتحادیوں نے ان پر زور دیا کہ اگر جنگ بندی معاہدہ اس عالمی ٹورنامنٹ سے قبل نہ ہوا تو امریکہ اور اس کے یورپی و عرب و خلیجی اتحادیوں کو کئی سو ارب ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے۔ گیارہ جون سے شروع ہو کر انیس جولائی تک جاری رہنے والا یہ عالمی فٹ بال ورلڈ کپ امریکہ کینیڈا اور میکسیکو کے میزبانی میں ہور ہا ہے، اس کے مختلف فیچر ان ممالک کے سولہ شہروں میں کھیلے جائیں گے۔ ان میں سے سولہ میچ امریکی تین میکسیکو اور دو میچ کینیڈا کے شہروں میں کھیلے جائیں گے۔ ان میچوں میں اڑتالیس ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں جن کا تعلق مختلف براعظموں سے ہے۔ ہر میچ میں تماشائیوں کی تعداد کا اندازہ پچاس سے ساٹھ ہزار تک ہے۔ امریکی صدر نے پاکستان کو لارا دیا تھا کہ وہ فیفا کے صدر سے کہیں گے کہ کسی ٹیم کو ڈراپ کر کے پاکستان کو اس ایونٹ میں شامل کریں گے۔ ٹرمپ کا لارا، لارا ہی رہا، ان کے لاتعداد دیگر لاروں کی طرح جبکہ اردن، ازبکستان، کیپ ودڈی اور کراکو کی ٹیمیں اس میں پہلی مرتبہ شرکت میں کامیاب ہو گئی ہیں۔
محتاط اندازوں کے مطابق تیل کی قیمتوں میں اضافے غیریقینی حالات کسی اچانک ناخوشگوار واقعے کے خدشے کے سبب تماشائیوں کی تعداد میں بیس فیصد کمی نظر آتی ہے۔ فضائی سفر مہنگا ہو چکا ہے۔ ہر وہ چیز جو آپ کو کسی فٹ بال سٹیڈیم میں نظر آئے گی، اس کی پروڈکش کاسٹ میں چالیس فیصد اضافہ ہوا ہے۔ سب سے زیادہ اضافہ فضائی سفر اور رہائشی سہولتیں مہیا کرنے والے ہوٹلز، ریسٹ ہاﺅسز، کلبز کے ریٹس میں ہوا ہے جبکہ خوراک اور اندرون ملک سفر میں قیمتیں پچاس فیصد بڑھ گئی ہیں۔ قطر میں ہونے والے ورلڈ کپ میں ساڑھے سات بلین ڈالر ریونیو اکٹھا ہوا تھا۔ 2026ءمیں جاری اس ورلڈ کپ میں قریباً بارہ بلین ڈالر اکٹھے ہونے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے لیکن جاری جنگ اور اقتصادی بحران کے سبب شاید نو بلین ڈالر کے قریب ریونیو اکٹھا ہو سکے یوں کم از کم تین بلین ڈالر کے نقصان کا احتمال ہے جس پر تمام سٹیک ہولڈر بے حد پریشان ہیں۔ کچھ عجیب نہیں چوبیس گھنٹوں سے اڑتالیس گھنٹوں میں جنگ بندی کی امید چوبیس یا اڑتالیس دن آگے چلی جائے۔ یہ معاہدہ جب بھی ہو گا امریکی شرائط پر نہیں ہو گا۔ جنگ میں ہارے ہوئے فریق کی شرط پر جنگ بندی نہیں ہوتی۔ حیرتناک بات یہ ہے کہ ایران ابھی مزید چھ ماہ پوری قوت سے جنگ لڑ سکتا ہے۔
حیرتناک
09:08 AM, 15 Jun, 2026