رواں سال فروری سے دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر ہے ۔ امریکہ ایران جنگ نے ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ دنیا کا کوئی بھی خطہ ایسا نہیں ہے جو اس آگ سے محفوظ ہو۔ امریکہ اور ایران تو براہِ راست اس جنگ کا شکار ہیں تاہم خلیجی ممالک میں اس آگ نے غیر متوقع طور پر وہ تباہی پھیلائی ہے کہ جس کے بھیانک نتائج نے خلیجی ممالک بالخصوص یو اے ای کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی توڑ دی ہے۔ مشرق وسطی کے ممالک کے ساتھ ساتھ ساری دنیا کی معیشت کا توازن بری طرح متاثر ہوا ہے۔ ساری دنیا مہنگائی کی لپیٹ میں ہے بالخصوص پاکستان کی بات کی جائے تو ہماری معیشت بنیادی طور پر تیل پر منحصر ہے۔ ملکی ضروریات کا لگ بھگ 80 فیصد سے زائد تیل برآمد کیا جاتا ہے ۔ یوں اس جنگ سے جو ملک سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں ان میں پاکستان بھی سرفہرست ہے ۔ یقینا کمزور معیشت ، برآمدات کا بوجھ زر مبادلہ کے ذخائر میں کمی یہ وہ چند اہم پہلو ہیں جن کی وجہ سے پاکستان میں مہنگائی کی شرح غیر معمولی طور پر بڑھی ہے۔ اس مہنگائی کا براہ راست بوجھ عام آدمی پر پڑا ہے ۔ حکومت وقت بالخصوص وزیراعظم میاں شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قائدانہ صلاحیتوں کی بدولت گڈ مینجمنٹ کے ذریعے ملک میں تیل و گیس کی فراہمی بلا تعطل جاری رہی مگر عام آدمی کی مہنگائی کی وجہ سے چیخیں نکل گئیں ۔ یقینا اگر یہ جنگ مزید طوالت اختیار کرتی ہے تو پھر آنے والا وقت سنگین بحرانی صورتحال اختیار کرے گا۔ اس ساری صورتحال میں پاکستان نے روز اول سے یہ کوشش کی کہ یہ جنگ ختم ہو امن کو رستہ دیا جائے یقینا یہ آگ رفتہ رفتہ ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے ۔ پاکستان براہ راست جغرافیائی اعتبار سے بھی اس جنگ سے متاثر ہے اور اب حقیقت یہ بھی ہے کہ دنیا کا ہر براعظم کسی نہ کسی طور اس آگ کی حدت محسوس کر رہا ہے۔ فروری 2026 سے لیکر آج تک پر امن دنیا کے قیام اور خطے میں استحکام کے لیے پاکستان کا کردار انتہائی اہم اور فعال رہا ہے۔ پاکستان عالمی سطح پر امن مشنز میں شمولیت اور علاقائی تنازعات کے حل کے لیے ثالثی کے ذریعے ایک ذمہ دار ملک کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اس سارے عرصے میں بہت سے نشیب و فراز آئے، مذاکراتی عمل تعطل کا شکار ہوا دونوں فریقین کے درمیان کشیدگی بڑھی مگر پاکستان کی قیادت بالخصوص وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نا امید نہیں ہوئے اور مسلسل کوشاں رہے کہ دنیا میں امن قائم ہو یہ جنگ ختم ہو اور کسی طرح امن کا سورج طلوع ہو۔ اس دوران وزیراعظم پاکستان نے دنیا کے ہر پلیٹ فارم پر اس حوالے سے پاکستان کا واضح مو¿قف پیش کیا ، بالخصوص دورہ چین اس حوالے سے انتہائی اہم تھا ۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کاوشیں اور لازوال کردار کی بات کی جائے تو حالت جنگ میں جب ایرانی قیادت بذاتِ خود مختلف جگہوں پر تھی وہ تہران میں جس دلیری اور جواں مردی سے اترے اس کی مثال رہتی دنیا تک قائم رہے گی ۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بیک وقت ایرانی اور امریکہ کی ہائی کمان کو جس طرح جوڑے رکھا وہ عالمی سفارتی مشنوں کو ایک روشن نظیر کی صورت پڑھایا جاتا رہے گا۔ پاکستان اور پاکستان کی اعلیٰ ترین قیادت نے اس صدی کی سب سے بڑی جنگ کو اپنی مدبرانہ اور مخلصانہ کوششوں سے نہ صرف روکا بلکہ دنیا کو یہ باور بھی کرادیا کہ جنگ مسائل کا حل نہیں ہوتی آپ کو ایک نہ ایک دن مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر مسائل کو حل کرنا ہوتا ہے ۔ اور یہی حتمی جنگ بندی کا واحد راستہ ہے ۔ پاکستان کی غیر معمولی سفارتی کاوش سے ”اسلام آباد ٹاک“ ممکن ہوئے اور تب سے آج تک دنیا امریکہ ایران جنگ بندی کے حوالے سے اسلام آباد امن مذاکرات کا نام اتنے اعتماد سے لیتی اور حوالہ دیتی رہی کہ یہ یقینی تھا کہ اسلام آباد سے ہی امن کا رستہ نکلے گا۔ دوسری طرف پاکستان کا یہ روشن کردار بھارت اسرائیل ، طالبان اور ملک میں موجود بھارت نواز شر پسند ٹولے پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا کو کسی طرح ہضم نہیں ہو رہا۔ بھارت نے اپنی پراکسی پی ٹی آئی سوشل میڈیا ٹیم کے ذریعے پاکستان کے اس کردار کو نہ صرف متنازع بنایا بلکہ بی ایل اے، ٹی ٹی پی، جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ذریعے پاکستان میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی خیبرپختونخوا بلوچستان اور کشمیر میں اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کیلئے اپنے کرداروں کو سامنے لاکر واضح کر دیا کہ بھارت پاکستان کے عالمی منظرنامے پر ابھرتے اعلیٰ ترین سفارتی کردار سے خائف ہے۔
بالخصوص پی ٹی آئی حمایت یافتہ کرداروں ، آفتاب اقبال ، عمران ریاض ، عدیل راجا ، معید پیر زادہ ، شہباز گل وغیرہ جیسے غداران وطن نے بھارت کے بیانیہ کو زیر زبر پیش کے ساتھ ہوبہو پیش کیا اور اب یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ ان کی لگام بھارت کے ہاتھ میں ہے ۔ پاکستان قدرت کا ایک تحفہ ہے پاکستان کا وجود میں آنا ایک غیر معمولی اور غیر یقینی عمل تھا ۔ اس ملک کے ترانے کا سب سے پہلا اور مقدس جملہ "پاک سر زمین شاد باد" ہے یہ بھی حسین اتفاق ہے کہ اس پاک سر زمین کو جس نے بھی ناشاد کرنے کی کوشش کی قدرت نے اس سے انتقام خود لیا اور دنیا کے سامنے اسے مکافات عمل کی صورت بے پردہ کر دیا۔ پاکستان کے ساتھ خدا تعالی کی خاص مدد ہے۔ اور یہ مدد ہم نے اب تو صاف ظاہر انداز میں دیکھی ہے ۔ اللہ پاک نے پاکستان کے مقدر میں عزت ہی لکھی ہے اور دنیا کی کوئی طاقت اس عزت و وقار کو چھین نہیں سکتی ۔ حالیہ جنگ کے حوالے سے بھی طویل کوشش ، امیدی، نا امیدی ، روز بروز بڑھتی کشیدگی جنگ کے گہرے ہوتے بادلوں کے باوجود الحمدللہ پاکستان اپنی مخلصانہ کوششوں میں کامیاب ہوا۔ ایران امریکہ جنگ بندی مذاکرات حتمی اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں ۔ آج ممکنہ طور پر ڈیجیٹل دستخطوں کے بعد امن کا روٹ میپ طے ہو جائے گا ۔ فریقین کے درمیان جاری عسکری کشیدگی کے مستقل خاتمے سمیت آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی بحری آمدورفت کے لیے دوبارہ کھول دیا جائے گا۔ ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار نہ بنانے کی یقین دہانی اور ممکنہ طور پر جوہری مواد کا امریکی یا کسی تیسرے فریق کے کنٹرول میں دینا، ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی اور پابندیوں میں نرمی، جو ایران کی جانب سے شرائط پوری کرنے کے بعد مشروط ہوگی۔ ان اہم نقاط کے آس پاس ہی امن معاہدہ طے ہوگا۔ اس موقع پر دونوں ممالک کو اپنی اپنی انا کو چھوڑ کر ایک قدم آگے بڑھ کر امن کو رستہ دینا چاہئے تاکہ دنیا اس کرب و بلا سے باہر آ سکے۔ یقینا یہ اس صدی کا سب سے بڑا بریک تھرو ہے۔ اور اس میں پاکستان کا کردار ناقابل فراموش ہے۔ پاکستان ایک پر امن ملک کے طور پر دنیا میں امن کی امید کا مرکز بن کر ابھرا ہے، جو نہ صرف اپنے خطے بلکہ عالمی سطح پر تنازعات کے پر امن حل کے لیے کوشاں ہے۔ وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو دنیا امن کے ضامن کی حیثیت سے ہمیشہ یاد رکھے گی۔ اسلام آباد کا نام تاریخ میں ہمیشہ روشن رہے گا۔
پاکستان پرامن دنیا کے خواب کی تعبیر ۔۔۔
09:08 AM, 15 Jun, 2026