چوپال سجی ہوئی تھی،چپ سائیں سمیت سب براجمان تھے۔۔۔آج توماسی پینو پہلے سے موجود تھیں ( ان کے بقول ان کو چوپال میں بات کرنا بہت اچھا لگتا تھا)۔ چپ سائیں توقف کے بعد بولے۔۔۔ ماسی جی سنائیں ہماری چوپال کا ماحول کیسا لگا۔۔؟ اور یہ بھی بتائیں کہ آج کیا کہنا چاہتی ہیں؟۔۔۔ ماسی پینو نے دل کا دکھڑا بیان کرنا شروع کیا۔۔۔ بولیں۔۔ بھائیو اور بچوں۔۔ میں یہ نہیں کہتی کہ مرد ظالم ہوتا ہے اور یہ بھی نہیں کہ عورت مظلوم ہے۔۔ بس یہ ضرور کہوں گی کہ۔۔۔ آج کل معاشرے میں جو ہورہا ہے۔۔ وہ اچھا نہیں ہورہا۔۔۔حالانکہ بیٹی تو باعث رحمت ہے لیکن ہر عورت، ہر ماں یہ ضرور سوچ رہی ہے کہ۔۔۔” جو مرضی کیجیو،۔۔۔ اگلے جنم بس موہے بٹیا نہ کیجیو۔۔۔۔!“ ۔۔۔ ماسی پینو بات کرتے کرتے انتہائی غمگین ہوگئیں۔۔ نتھو اور پھتو نے ان کو پانی دیا۔۔
چپ سائیں بولے۔۔ بھائیو!۔۔۔۔کہتی تو ماسی ٹھیک ہیں۔۔۔ مرد کو مضبوط ہونے کی وجہ سے محافظ سمجھا جاتا ہے لیکن۔۔۔ دوستو!۔۔ماسی پینو کا موقف یہ ہے کہ یہ معاشرہ مردوں کاہے لیکن یہ ایک ایسا جنگل ہے جہاں پر ہر طرف ہوس کے پجاری ہیں۔۔۔چپ سائیں بولتے جارہے تھے اور ماسی پینو کی آنکھ چھلک رہی تھی۔۔۔چپ سائیں آخر کار چپ کرگئے۔۔۔۔ چوپال میں سکوت طاری ہوگیا۔۔۔ ماسی پینو بولیں۔۔ بھائیو اور بچوں۔۔ نجانے یہ کیا معاشرہ ہے جہاں چھوٹی بچی۔۔۔ گھر سے تعلیمی ادارے کے لیے نکلتی ہے۔۔ لیکن ہوس کے پجاریوں کے ہتھے چڑھ کر زندگی گوا بیٹھتی ہے ۔۔۔ ماسی پینو کا لہجہ غمگین ہوگیا۔۔۔ بولیں۔۔۔یہ تو ایسا جنگل ہے جہاں لوگ بڑھیا کو بھی نہیں چھوڑتے۔۔۔افسوس کہ ہمارے معاشرے میں آج بھی بہت سے لوگ عورت کو ایک آزاداور صنف نازک کی بجائے اپنی ملکیت سمجھتے ہیں۔ جب وہ انکار کرے، اپنی مرضی کا راستہ چنے، یا اپنی شناخت قائم کرنے کی کوشش کرے تو بعض بیمار ذہن اسے سزا دینے کا حق اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں۔بھائیو! یہ بھی ہمار امعاشرہ ہی ہے جہاں پرعورت چاہے ڈاکٹر، استادیا کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتی ہو ۔۔وہ غیر محفوظ ہوتی ہے۔۔۔ یہ سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ ماسی پینو ۔۔دوبارہ خاموش ہوگئیں۔۔۔
چپ سائیں دوبارہ گویا ہوئے۔۔۔بولے۔۔۔ بچوں۔۔ماسی پینو کا جملہ۔۔۔”موہی بٹیا نہ کیجیو ۔۔۔“ دل کی گہرائیوں میں اتر جاتا ہے۔ یہ جذباتی فریاد نہیں بلکہ اس تلخ حقیقت کی طرف بھی اشارہ ہے کہ آج کے معاشرے میں بچیاں واقعی کئی سطح پر غیر محفوظ محسوس کرتی ہیں۔ یہ غیر محفوظ ہونا صرف کسی ایک واقعے یا ایک طبقے تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا ماحول ہے جو گھر سے باہر بھی ہے اور بعض اوقات گھر کے اندر بھی۔
دوستو!اگر ہم معاشرتی منظرنامے کو دیکھیں تو بچیوں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ عدم تحفظ کا وہ احساس ہے جو ان کے روزمرہ معمولات کا حصہ بن چکا ہے۔ سکول جانا ہو، بازار سے گزرنا ہو، یا کسی عوامی جگہ پر موجود ہونا،اکثر انہیں غیر ضروری احتیاط، خوف اور ذہنی دباو¿ کے ساتھ جینا پڑتا ہے۔ یہ وہ دباو¿ ہے جو ان کی آزادی کو محدود اور ان کے اعتماد کو کمزور کرتا ہے۔
اصل مسئلہ صرف جسمانی تحفظ کا نہیں، بلکہ ذہنی اور سماجی تحفظ کا بھی ہے۔ جب ایک بچی ہر قدم پر یہ سوچنے پر مجبور ہو کہ ”کہیں کچھ غلط نہ ہو جائے“، تو وہ صرف باہر کی دنیا سے نہیں بلکہ اپنی ہی فطری خوداعتمادی سے بھی فاصلے پر چلی جاتی ہے۔ یہ کیفیت ایک پورے معاشرے کے لیے تشویش کا باعث ہونی چاہیے۔
صاحبو!بدقسمتی یہ ہے کہ اکثر اوقات ذمہ داری کا بوجھ بچیوں پر ڈال دیا جاتا ہے کہ وہ خود کو محفوظ رکھیں، کم نکلیں، محتاط رہیں، اور خاموشی اختیار کریں۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ماحول کو محفوظ کون بنائے گا؟۔۔۔ ذمہ داری صرف متاثرہ فرد کی نہیں بلکہ پورے سماجی اور انتظامی نظام کی ہے۔ قانون، رویے، تعلیم اور اجتماعی شعور،یہ سب مل کر ہی ایک محفوظ فضا تشکیل دے سکتے ہیں۔
دوستو!تعلیم اس مسئلے کا سب سے مضبوط حل ہے، لیکن صرف نصابی تعلیم نہیں بلکہ وہ تربیت جو احترام، برابری اور انسانی وقار کو بنیادی قدر بنائے۔ہم سب کو ماسی پینو کے جذبات کو سمجھنا چاہئے۔۔۔ جب تک معاشرے میں یہ شعور عام نہیں ہوگا کہ بچی کی حفاظت اس کی آزادی کو قید کرنے سے نہیں بلکہ اس کے گرد ایک باعزت اور محفوظ ماحول بنانے سے ممکن ہے، تب تک یہ احساسِ عدم تحفظ مکمل طور پر ختم نہیں ہوگا۔دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ صرف خوف کے بیانیے سے مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ اگر بچیوں کو مسلسل یہ احساس دیا جائے کہ دنیا خطرناک ہے، تو وہ اعتماد کے بجائے خوف کے ساتھ بڑی ہوتی ہیں۔ ایک متوازن معاشرے کی ضرورت یہ ہے کہ حفاظت کے ساتھ ساتھ خودمختاری اور اعتماد بھی دیا جائے۔ یعنی بیٹی کو یہ یقین ہو کہ اگر وہ تعلیم حاصل کرے، باہر نکلے یا اپنی مرضی سے فیصلے کرے تو معاشرہ اس کی حفاظت بھی کرے گا اور اس کا احترام بھی۔اس مسئلے کا ایک اہم پہلو قانون کا نفاذ ہے۔ صرف قوانین کا ہونا کافی نہیں، ان پر عمل درآمد اور فوری انصاف ضروری ہے۔ جب انصاف میں تاخیر ہوتی ہے تو مجرم کے اندر خوف کم اور عوام کے اندر بے یقینی زیادہ بڑھتی ہے۔ یہی بے یقینی معاشرتی عدم تحفظ کو جنم دیتی ہے۔
صاحبو!اسی طرح میڈیا اور سماجی گفتگو کا کردار بھی اہم ہے۔ اکثر اوقات واقعات کو اس انداز میں پیش کیا جاتا ہے کہ خوف بڑھ جاتا ہے، مگر حل اور بہتری کے پہلو کم زیر بحث آتے ہیں۔ ایک صحت مند معاشرہ وہ ہوتا ہے جو مسئلے کو چھپاتا نہیں بلکہ اس کا حل تلاش کرتا ہے اور اعتماد بحال کرتا ہے۔
اگر ہم سماجی ڈھانچے کو دیکھیں تو بچیوں کے عدم تحفظ کی جڑیں صرف موجودہ حالات میں نہیں بلکہ رویوں کی تاریخ میں بھی پیوست ہیں۔ وہ رویے جو یہ طے کرتے ہیں کہ لڑکی کو کیسے بولنا چاہیے، کہاں جانا چاہیے، اور کب خاموش رہنا چاہیے،یہ سب مل کر ایک ایسا ماحول بناتے ہیں جہاں خوف ایک معمول بن جاتا ہے۔ “موہی بٹیا نہ کیجیو” اسی خوف کی آواز ہے۔لیکن یہ بھی ایک اہم حقیقت ہے کہ خوف پر مبنی معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔ جب بچیاں اور خواتین مسلسل احتیاط اور دباو¿ میں زندگی گزاریں، تو اس کا اثر صرف انفرادی زندگیوں پر نہیں بلکہ پورے معاشی اور سماجی ڈھانچے پر پڑتا ہے۔ اعتماد، شرکت، اور تخلیق کی صلاحیت کمزور ہو جاتی ہے۔اسی لیے اصل ضرورت صرف تحفظ کی نہیں بلکہ اعتماد کی فضا بنانے کی ہے۔ تحفظ کا مطلب صرف یہ نہیں کہ خطرات سے بچایا جائے، بلکہ یہ بھی ہے کہ ایسے حالات پیدا کیے جائیں جہاں خطرات کم ہوں اور اگر کوئی مسئلہ ہو تو فوری انصاف میسر ہو۔
صاحبو!یہ بھی ایک رویہ ہے کہ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ بچیوں کے عدم تحفظ کا ایک بڑا پہلو سماجی خاموشی ہے۔ بہت سے معاملات میں لوگ دیکھتے ہیں مگر بولتے نہیں، جانتے ہیں مگر آگے نہیں آتے۔ یہی خاموشی عدم تحفظ کو بڑھاتی ہے۔ اس کے برعکس اگر معاشرہ اجتماعی ذمہ داری کو قبول کرے تو ماحول بدل سکتا ہے۔چوپال کے بچوں، بھائیوں ۔۔۔ماسی پینو کی بات کا لب لبا ب یہ ہے کہ ان کی جملہ ہمیں ایک آئینہ دکھاتا ہے کہ ہم نے ایسا معاشرہ بنایا ہے یا نہیں جہاں بیٹی صرف “محفوظ” نہیں بلکہ “آزاد اور باوقار بھی ہو۔ اور یہی وہ سوال ہے جس کا جواب ہر نسل کو خود دینا ہوتا ہے۔آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ”موہی بٹیا نہ کیجیو‘محض ایک التجا نہیں بلکہ ایک اجتماعی سوال ہے کہ کیا ہم نے ایسا معاشرہ بنایا ہے جہاں بیٹیاں بے خوف ہو کر جی سکیں؟ اور اگر نہیں، تو اس سمت میں قدم اٹھانا اب صرف ضرورت نہیں بلکہ ذمہ داری ہے۔۔۔رہے نام اللہ کا !۔
اگلے جنم بس موہے بٹیا نہ کیجیو۔۔۔!“
09:08 AM, 15 Jun, 2026