بجٹ پیش کرنے کا تکلف کیوں؟

09:15 AM, 15 Jun, 2025

ایک آئیڈیل صورتحال میں تو بجٹ صرف آمدن و خرچ کا حساب نہیں ہوتا، بلکہ حکومت کے دل و دماغ کا آئینہ ہوتا ہے جو بتاتا ہے کہ ریاست کس طرف جا رہی ہے، اس کے کیا کیا منصوبے ہیں اور یہ عوام کو کہاں لے جانا چاہتی ہے۔لیکن بدقسمتی سے جب ہم وفاقی بجٹ 2025-2026 پر نظر ڈالتے ہیں تو تصویر اچھی خاصی دھندلی اور ادھوری سی محسوس ہوتی ہے یا پھر ایسے کہا جائے تو زیادہ مناسب ہو گا کہ یہ ایک ایسی کہانی ہے کہ جس کا مرکزی کردار (عوام کی بہبود اور ان کے لیے سہولیات کی فراہمی) ہی غائب ہے۔ 
یہ سچ ہے کہ بجٹ دستاویز میں اعداد و شمار، بڑے بڑے ترقیاتی منصوبے، اور مالیاتی اہداف شامل کیے گئے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ اس سب کے پیچھے انسانی چہرے کہاں ہیں؟ ایک طالب علم، ایک کسان، ایک بیروزگار نوجوان، ایک بیمار ماں، یا کسی پس ماندہ ضلع میں جینے کی جدوجہد کرتا شہری، ان سب کی زندگیاں اس بجٹ کے فیصلوں سے براہ راست جڑی ہوئی ہیں، لیکن بدقسمتی سے ان کے حصے میں جھوٹے وعدوں اور تسلیاں کے سوا کچھ نہیں آتا۔
اس بجٹ کی سب سے نمایاں کمی شاید وہ سوچ ہے، جو کسی قوم کی معیشت کا دل ہوتی ہے یعنی اس بجٹ میں کسی بھی طور یہ پیغام نہیں ملتا کہ ہم ایک ویلفیئر اسٹیٹ بننے کے خواہشمند ہیں۔ جب بنیادی تعلیم، صحت، ماحول، نوجوان، کسان اور چھوٹے کاروبار والوں کو انتہائی سفاکی سے نظر انداز کیا جائے اور صاحب حیثیت اور عوامی خدمت کے نعرے لگاکر ایوانوں میں پہنچنے والوں کو مزید نوازا جائے اور ان کی عیاشیاں پوری کرنے کیلئے پہلے سے مہنگائی میں پسے عوام سے مزید قربانی مانگی جائے تو پھر یہ سوال اٹھانا تو بنتا ہی ہے کہ بھئی کیا یہ عوامی بجٹ ہے یا پھر خود کو اور اپنے ہی جیسے پہلے سے مراعات یافتہ افراد کو نوازنے کی کوئی دستاویز؟
اس مرتبہ بھی پورے بجٹ دستاویز میں کسانوں کے لیے نہ بیج کی سہولت ہے، نہ پانی کا کوئی منصوبہ ہے، نہ منڈی تک رسائی کا کوئی وعدہ ہے اور نہ زرعی تحقیق کا کوئی پروگرام ۔ یعنی یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ایک زرعی ملک میں کسان کو صرف اخباری بیانات میں ہی یاد کیا جاتا ہے یا اس سے ہمدردی کی جاتی ہے۔
بانی پاکستان تحریک انصاف کی فین فالونگ کو متاثر کرنے کے لیے ہماری یہ موجودہ حکومت نوجوانوں کی بہبود کے بھی بہت نعرے لگاتی ہے لیکن اگر ان کی ترجیح کا اندازہ لگانا ہو تو موجودہ بجٹ کا مطالعہ کر لینا چاہیے۔ ہمارے نوجوان جو اس قوم کا مستقبل ہیں ان کے لیے بجٹ میں کیا ہے؟ چند پرانے اعلانات، روایتی یوتھ پروگرامز، اور کچھ غیر واضح اعداد و شمار لیکن کوئی ایسی پالیسی نہیں جو انہیں بااختیار بنائے، انہیں روزگار دے، ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرے۔
تعلیم اور صحت ایسے شعبے ہیں جنہیں کسی بھی معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا جا سکتا ہے۔ لیکن ہمارے ’عوام دوست‘ حکمرانوں کی جانب سے پیش کیے گئے بجٹ میں تو یوں لگتا ہے، جیسے انہیں علیحدہ سے کسی حاشیے میں لکھ دیا ہو۔ تعلیم پر صرف 1.5 فیصد جی ڈی پی خرچ کرنا گویا اپنے بچوں سے بے وفائی کے مترادف ہے۔ کیا ہم واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ ناخواندہ اور غیر تربیت یافتہ قوم مستقبل کی معیشت کا مقابلہ کر سکے گی؟ اور جہاں ہر دوسرے گھر میں بیماریاں، ادویات کی کمی، اور علاج کے نام پر مہنگائی کا عذاب ہے، وہاں صحت پر سرمایہ کاری نہ کرنا تو جیسے کسی جلتے گھر میں پانی کی بجائے پٹرول ڈالنا ہو۔
تقریبا ً ہر بجٹ کے موقع پر ہی سننے میں آتا ہے کہ عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ کم کریں گے اور ٹیکس کی بیس کو بڑھائیں گے۔ لیکن مجال ہے کہ اس سلسلہ میں کوئی عملی اقدامات کیے جائیں۔ ٹیکس اکٹھا کرنے کے بس دو ہی طریقے ہیں ایک یہ کہ جو بیچارے شرافت سے ہر سال اپنی ٹیکس ریٹرن جمع کرواتے ہیں ان پر مزید بوجھ ڈالا جائے یا پھر سرکاری ملازمین کو تختہ مشق بنایا جائے۔اس مرتبہ بھی چند رسمی جملے تو بجٹ میں شامل ہیں، مگر عملی اقدامات کی کوئی توقع نہیں۔ پاکستان کا عام شہری ہر روز بالواسطہ ٹیکس دیتا ہے، مگر اشرافیہ کی ٹیکس چھوٹیں برقرار ہیں۔
ماحولیات کے حوالہ سے بھی حکومت کی سنجید گی کا عالم باقی معاملات سے مختلف نہیں۔ شور شرابا اور بیان بازی تو بہت ہے لیکن مجال ہے کہ ٹھوس اور عملی کام کہیں نظر آتا ہو،بلکہ پنجاب حکومت نے تو رہائشی علاقوں میں انکروچمنٹ ہٹانے کے نام پر آپریشن کر کے گرین بیلٹس اور گھروں کے باہر لگے پودے تک اجاڑ ڈالے، حتیٰ کہ درختوں تک کو معافی نہ دی۔
پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو ماحولیاتی تبدیلی کے شدید خطرے سے دوچارہیں، مگر بجٹ میں اس بحران سے نمنٹنے کے لیے کوئی بڑی اسکیم، کوئی پالیسی، یا کوئی ترجیح نظر نہیں آتی۔ لگتاتو یہ ہے کہ یا تو ہمارے حکمران موسموں کی بغاوت اور اس کے نتیجہ میں ہونے والی تباہی کا ٹھیک سے اندازہ ہی نہیں لگا رہے ہیں یا پھر انہیں اس ملک کے عوام سے کوئی سروکار نہیں اور یقین ہے کہ کسی بھی قسم کے نامناسب حالات پیدا ہو جا نے کی صورت میں وہ مزے سے بیرون ملک میں بنائی گئی جائیدادوں میں شفٹ ہو جائیں گے ۔
یہ کالم تحریر کرتے وقت بار بار میرا قلم رکتا رہا، دل میں یہ خیال آتا رہا کہ شاید یہ کالم صرف تنقید کا مجموعہ لگے، لیکن حقیقت تو یہی ہے کہ اس کالم میں اٹھائے جانے والے سوالات ہر باشعور شہری کے ذہن میں جنم لے رہے ہیں کیونکہ یہ بجٹ ان سوالوں کا جواب دینے میں ناکام ہے۔
بجٹ کے بارے میں اپوزیشن پارٹیوں کی رائے زنی اور واہ ویلا اپنی جگہ لیکن حالات پر نظر رکھنے اور ان کا تجزیہ کرنے والا کوئی بھی شخص اس رائے سے اختلاف نہیں کر سکتا کہ یہ بجٹ کسی بھی طور ایک قومی مشاورت کا نتیجہ نہیں لگتا بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسے چند افراد نے بند کمرے میں بیٹھ کر تیار کیا ہے۔
حکومتی حلقے اس بجٹ کو ’محدود وسائل میں متوازن‘ بجٹ ہی قرار دیں گے اور شائد عوام سے زیادہ اپنی سیاسی پارٹی سے وفاداری نبھانے کے لیے یہ ضروری بھی ہے، لیکن ایک باشعور شہری کے لیے یہ بجٹ ایک گمشدہ خواب کی طرح محسوس ہوتا ہے جس میں وسائل تو نظر آتے ہیں، مگر ترجیحات کہیں نظر نہیں آتیں۔
ویسے میرا تو حکومت کو مشورہ ہو گا کہ ہر سال یہ بجٹ کا ڈرامہ کرنے اور اس پر قوم کا بے شمار پیسہ خرچ کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔ ہر روز مہنگائی بڑھانے، عوام کا خون نچوڑنے اور وسائل کی لوٹ مار پر تو ویسے بھی کوئی کنٹرول نہیں ہے تو یہ بجٹ کا ڈرامہ کیوں؟ بس جو جی چاہتا ہے کرتے رہیں اگر کبھی عوام کاشعور جاگاتو وہ خود ہی ان سے اگلے پچھلے حساب لے لیں گے۔

مزیدخبریں