زرداری صاحب، بلاول صاحب! مبارکیں

09:44 AM, 16 Jul, 2026

اکانومسٹ انٹیلیجنس یونٹ (EIU) نے دنیا کے 173 بڑے شہروں کی تازہ درجہ بندی جاری کی ہے۔ معیار وہی تھے جو کسی بھی مہذب معاشرے کی پہچان ہوتے ہیں: امن و استحکام، طبی سہولتیں، تعلیمی معیار، ماحول، انفراسٹرکچر اور شہری زندگی کا معیار۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ڈنمارک کا کوپن ہیگن پہلے نمبر پر آیا، آسٹریا کا ویانا دوسرے، آسٹریلیا کا میلبورن تیسرے اور سڈنی چوتھے نمبر پر رہا۔ مگر پاکستان کا سب سے بڑا شہر، ملک کی معاشی شہ رگ، کراچی، 173 میں سے 170ویں نمبر پر کھڑا ہے۔ اس پر سندھ کی اٹھارہ برس سے حکمران جماعت کو مبارک باد تو بنتی ہے۔ آخر کسی شہر کو دنیا کے آخری درجوں تک پہنچانا بھی معمولی کارنامہ نہیں ہوتا۔ یہ کام اتفاق سے نہیں، مسلسل غفلت، ناقص منصوبہ بندی، کمزور حکمرانی اور شہری مسائل سے بے اعتنائی کے نتیجے میں ممکن ہوتا ہے۔
کوپن ہیگن کی مثال دیکھیے۔ وہاں دس کلومیٹر طویل پیدل چلنے کی سڑک ہے جہاں لوگ سکون سے گھومتے ہیں، دکانیں آباد ہیں، ماحول صاف ہے اور شہری زندگی پرسکون ہے۔ ویانا میں گندے پانی کو صاف کرنے والے پلانٹ کو بھی فن تعمیر کا شاہکار بنا دیا گیا ہے۔ گویا وہاں یہ سوچ موجود ہے کہ شہری زندگی کا ہر حصہ خوبصورتی، نظم اور معیار کا مظہر ہونا چاہیے۔ میلبورن اپنے پل پر ان لاکھوں تارکین وطن کے نام ثبت کرتا ہے جنہوں نے اس ملک کی تعمیر میں حصہ لیا۔ سڈنی سمندر، پارکوں، ٹرانسپورٹ اور منصوبہ بندی کی وجہ سے دنیا کے بہترین شہروں میں شمار ہوتا ہے۔
اور ایک طرف کراچی ہے۔ وہ کراچی جو کبھی ”عروس البلاد“ کہلاتا تھا، روشنیوں کا شہر تھا، جہاں رات گئے تک زندگی رواں رہتی تھی، جہاں پاکستان کے ہر کونے سے لوگ روزگار کے خواب لے کر آتے تھے، جہاں بیرونی سرمایہ کار اعتماد کے ساتھ سرمایہ لگاتے تھے، جہاں بندرگاہ، صنعت، تجارت اور تعلیم سب ایک ساتھ ترقی کی علامت تھے۔ ستر کی دہائی تک کراچی کو ایشیا کے بہترین شہروں میں شمار کیا جاتا تھا۔ پاکستان کے قیام کے وقت یہ نسبتاً چھوٹا مگر نہایت منظم شہر تھا۔ آبادی چند لاکھ تھی، ٹریفک محدود تھی، ساحل صاف تھے، سڑکیں بہتر تھیں اور شہری نظم و نسق قابلِ رشک تھا۔ پھر آبادی بڑھتی گئی، شہر پھیلتا گیا، مگر منصوبہ بندی سکڑتی گئی۔ آج آبادی ڈھائی کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے، مگر انفراسٹرکچر، پانی، ٹرانسپورٹ، نکاسی آب، صفائی، پارک، اسپتال اور شہری سہولتیں اس رفتار سے کبھی نہیں بڑھ سکیں۔ نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ بارش ہو تو شہر ڈوب جاتا ہے۔ کچرے کے ڈھیر معمول بن چکے ہیں۔ ٹوٹی ہوئی سڑکیں شہریوں کا مقدر ہیں۔ پانی کے لیے ٹینکروں کا کاروبار چل رہا ہے۔ ٹریفک کا نظام اعصاب شکن ہے۔ سرکاری اسپتالوں کی حالت دگرگوں ہے، تعلیمی ادارے مسائل کا شکار ہیں اور ساحلِ سمندر، جو کراچی کا سب سے بڑا قدرتی تحفہ ہے، اپنی اصل خوبصورتی کھوتا جا رہا ہے۔ دنیا کا ہر بڑا سرمایہ کار کسی شہر میں سرمایہ لگانے سے پہلے صرف ٹیکس یا مزدوری نہیں دیکھتا، بلکہ یہ بھی دیکھتا ہے کہ وہاں کا ماحول کیسا ہے، سڑکیں کیسی ہیں، امن و امان کی صورتحال کیا ہے، پانی، بجلی، صحت اور تعلیم کی سہولتیں کس معیار کی ہیں۔ کراچی ان تمام حوالوں سے مسلسل پیچھے جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی درجہ بندی میں اس کی پوزیشن بھی نیچے سے نیچے ہوتی جا رہی ہے۔
یہ سوال صرف ایک جماعت سے نہیں بلکہ ہر اس حکومت سے ہے جس نے کراچی پر حکومت کی۔ تاہم گزشتہ اٹھارہ برس سے سندھ میں مسلسل حکمرانی کرنے والی جماعت اس ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتی۔ جب اختیار بھی آپ کے پاس ہو، وسائل بھی آپ کے پاس ہوں، بلدیاتی نظام بھی آپ کے زیراثر ہو اور فیصلوں کی طاقت بھی آپ ہی کے ہاتھ میں ہو، تو پھر کامیابی کا کریڈٹ بھی آپ کا اور ناکامی کی ذمہ داری بھی آپ ہی پر عائد ہوتی ہے۔
کراچی صرف سندھ کا شہر نہیں، پاکستان کی معاشی شہ رگ ہے۔ ملک کی بڑی بندرگاہیں، صنعت، بینکنگ، برآمدات اور ٹیکس آمدن کا بڑا حصہ اسی شہر سے وابستہ ہے۔ اگر کراچی ترقی کرے گا تو پاکستان ترقی کرے گا، اور اگر کراچی زوال کا شکار رہے گا تو اس کے اثرات پورے ملک پر پڑیں گے۔ ممکنہ اٹھائیسویں ترمیم میں کراچی و گوادر کو وفاق کے تحت کرنے کی تجویز اسی لئے زیر گردش ہے تاکہ ان شہروں کو معاشی ترقی کا انجن بنایا جا سکے۔ان کی حالت بہتر کی جا سکے۔ پی پی پی مخالفت کر رہی ہے کیونکہ اس طرح ان کا روزگار اور لگی ہوئی موجیں ختم ہو جائیں گی۔کراچی کے تاجروں نے مراد علیٰ شاہ کی جگہ مریم نواز کی آرزو کی تھی تو بلاول بھٹو ناراض ہو گئے تھے ، اگر وہ مریم نواز کو یہاں نہیں چاہتے تو پھر کام کر کے دکھائیں نا، غنڈہ گردی، کرپشن،بد انتظامی ختم کریں۔ وہاں سے بد دل ہو کر لوگ نکل رہے ہیں۔کچھ لاہور آگئے ،کچھ ملک سے چلے گئے۔ یہ اس لئے ہو رہا ہے کہ تاجروں اور عوام کا کراچی میں کوئی پُرسان حال نہیں۔
شہروں کی عظمت صرف بلند عمارتوں سے نہیں بنتی بلکہ بہتر حکمرانی، صاف سڑکوں، محفوظ ماحول، معیاری تعلیم، جدید ہسپتالوں، سرسبز پارکوں اور قانون کی حکمرانی سے بنتی ہے۔ یہی وہ معیار ہیں جن پر دنیا کے بہترین شہر آگے بڑھتے ہیں، اور انہی معیاروں پر کراچی مسلسل پیچھے جا رہا ہے۔ وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل صاحب کے لئے یہ سنہری موقع ہے کہ وہ کراچی کو وفاق کا حصہ بنا لیں، یہ ایران امریکہ جنگ رکوانے سے زیادہ مشکل کام نہیں۔ اس لیے ایک بار پھر دل سے کہنا پڑتا ہے: زرداری صاحب، بلاول صاحب! مبارک ہو۔آپ کے طفیل کراچی کے دنیا بھر میں چرچے ہیں۔ آپ کی سیاست اور ترجیحات نے کراچی کو کھنڈر بنا دیا ہے، یہاں اب کوئی کاروبار نہیں کرنا چاہتا ۔آپ یہی چاہتے تھے نا۔ اب یہاں بد انتظامی کی بد روحیں رہتی ہیں۔ دنیا کے 173 شہروں میں کراچی کو 170ویں نمبر تک پہنچانے کا یہ اعزاز یقیناً تاریخ میں درج رہے گا۔ اب اگر واقعی کراچی سے محبت کا دعویٰ ہے تو اگلی عالمی درجہ بندی سے پہلے تقریروں کے بجائے نتائج دکھائیے، کیونکہ شہر نعروں سے نہیں، حکمرانی سے بنتے ہیں۔

مزیدخبریں