افسوس اس امر کا ہے کہ ہم بطور ریاست، بطور معاشرہ اور بطور علمی و فکری اداروں کے ایک ایسا انسان دوست معاشرہ تشکیل دینے میں کامیاب نہیں ہو سکے جہاں صبر، برداشت، احترامِ انسانیت اور ایک دوسرے کے تحفظ کو بنیادی اقدار سمجھا جاتا ہو۔ ہم نے قانون سازی کی، سزائیں سخت کیں، بعض اوقات آئین اور عدالتی اصولوں سے ہٹ کر اقدامات کی تحسین بھی کی، لیکن اگر دیانت داری سے جائزہ لیا جائے تو سوال اپنی پوری شدت کے ساتھ ہمارے سامنے کھڑا ہے کہ کیا ان تمام اقدامات کے باوجود معاشرہ زیادہ محفوظ ہوا؟ کیا جرائم میں وہ کمی آئی جس کی ہمیں امید تھی؟
اگر جواب نفی میں ہے تو پھر ہمیں صرف مجرموں کو نہیں بلکہ اپنے اجتماعی رویوں، پالیسیوں اور ترجیحات کو بھی کٹہرے میں کھڑا کرنا ہوگا۔
لاہور پولیس کے رواں سال کے اعداد و شمار کسی بھی حساس انسان کے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔ صرف ایک شہر میں بدفعلی، زنا بالجبر اور اجتماعی زیادتی کے 739 مقدمات درج ہوئے۔ ان میں 386 بدفعلی، 329 زنا بالجبر اور 24 اجتماعی زیادتی کے مقدمات شامل ہیں۔ یہ صرف وہ واقعات ہیں جو رپورٹ ہوئے۔ سوال یہ ہے کہ جو واقعات خوف، بدنامی یا سماجی دباو کے باعث رپورٹ ہی نہیں ہوتے، ان کی تعداد کتنی ہوگی؟
یہ رپورٹ صرف لاہور کی ہے۔ اگر پورے پنجاب اور پھر پورے پاکستان کے اعداد و شمار جمع کیے جائیں تو شاید ہمارے ضمیر پر اس سے کہیں زیادہ بوجھ پڑے۔ سب سے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ ان جرائم میں بچوں کے خلاف ہونے والے جرائم اور بعض واقعات میں قتل جیسے گھناو¿نے عناصر بھی شامل ہو چکے ہیں۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں معصوم بچے بھی محفوظ نہ رہیں، وہاں صرف قانون کی سختی کافی نہیں ہوتی بلکہ پورے سماجی ڈھانچے کا ازسرِ نو جائزہ لینا پڑتا ہے۔ہمیں خود سے یہ سوال پوچھنا ہوگا کہ آخر ایسا کیوں ہے؟ کیا صرف سزائیں معاشرے بدل دیتی ہیں؟ اگر ایسا ہوتا تو دنیا میں کہیں جرم باقی نہ رہتا۔ دنیا کے مہذب معاشروں میں جب کسی جرم میں غیر معمولی اضافہ ہوتا ہے تو حکومتیں صرف گرفتاریاں نہیں کرتیں بلکہ تحقیقاتی کمیشن بنائے جاتے ہیں،
جامعات کو ریسرچ سونپی جاتی ہے، ماہرینِ نفسیات، ماہرینِ عمرانیات، قانون دان، اساتذہ، مذہبی رہنما اور سماجی کارکن ایک میز پر بیٹھ کر اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہیں کہ آخر اس خرابی کی جڑ کیا ہے؟ جرم پیدا کہاں ہو رہا ہے؟ خاندان میں؟ تعلیمی نظام میں؟ معاشی عدم مساوات میں؟ نفسیاتی مسائل میں؟ یا ہماری اجتماعی بے حسی میں؟
بدقسمتی سے ہمارے ہاں یہ روایت کمزور ہے۔ یہاں ہر نئے واقعے کے بعد صرف سخت سزا کا مطالبہ کیا جاتا ہے، جذباتی بیانات دیے جاتے ہیں اور کچھ دن بعد سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔ ہم بیماری کی تشخیص کے بجائے صرف بخار کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ قانون صرف خوف پیدا کر سکتا ہے، کردار نہیں بنا سکتا۔ عدالت انصاف فراہم کر سکتی ہے، انسان نہیں بنا سکتی۔ پولیس جرم کے بعد کارروائی کر سکتی ہے، جرم پیدا ہونے سے پہلے انسان کے ضمیر کی حفاظت نہیں کر سکتی۔
انسان سازی کا کام خاندان، تعلیمی اداروں، مذہبی مراکز، میڈیا اور معاشرے کے اجتماعی رویوں کا ہوتا ہے۔ اگر یہی ادارے اپنی ذمہ داری پوری نہ کریں تو قانون اکیلا بہت کچھ نہیں کر سکتا۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں بچوں کو معلومات تو دی جا رہی ہیں لیکن کردار سازی، برداشت، احترامِ انسانیت، خواتین اور بچوں کے حقوق، جذباتی تربیت، غصے پر قابو پانے، اختلافِ رائے کا ادب اور ڈیجیٹل دنیا کے اخلاقیات جیسے موضوعات پر سنجیدہ کام نہیں ہو رہا۔ ہم امتحان پاس کرنے والے نوجوان تو پیدا کر رہے ہیں مگر ذمہ دار شہری کم پیدا کر رہے ہیں۔
میڈیا کا کردار بھی اس بحث سے الگ نہیں۔ تشدد، سنسنی اور منفی خبروں کی مسلسل نمائش نے معاشرتی حساسیت کو متاثر کیا ہے۔ سوشل میڈیا نے معلومات تک رسائی آسان بنائی لیکن نگرانی اور اخلاقی تربیت کے فقدان نے نئی نسل کو ایسے مواد کے سامنے بھی لا کھڑا کیا جس کے اثرات ابھی پوری طرح سمجھے بھی نہیں گئے۔
اسی طرح والدین کی مصروفیات، خاندانی نظام کی کمزوری، منشیات، بے روزگاری، ذہنی دباو¿، نفسیاتی بیماریوں کے علاج کا فقدان اور معاشی ناانصافیاں بھی ایسے عوامل ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ کیا کبھی پارلیمنٹ نے صرف جنسی جرائم کی وجوہات پر قومی سطح کا تحقیقی کمیشن بنایا؟ کیا جامعات کو اس موضوع پر قومی تحقیق کی ذمہ داری دی گئی؟ کیا مدارس، جامعات، ماہرینِ نفسیات، قانون دان، خواتین کی تنظیمیں اور بچوں کے حقوق پر کام کرنے والے ادارے کبھی ایک قومی مکالمے میں اکٹھے ہوئے؟
اگر نہیں، تو پھر صرف سزاو¿ں سے معجزے کی توقع کیوں؟
یہ وقت الزام تراشی کا نہیں بلکہ اجتماعی احتساب کا ہے۔ پارلیمنٹ کو چاہیے کہ وہ صرف قانون سازی تک محدود نہ رہے بلکہ جرائم کی وجوہات پر مستقل قومی تحقیق کا نظام قائم کرے۔ جامعات کو چاہیے کہ وہ اس موضوع پر قابلِ عمل سفارشات مرتب کریں۔ مدارس اور مذہبی قیادت کو انسان دوستی، احترامِ انسانیت اور بچوں کے تحفظ کے پیغام کو مزید مو¿ثر انداز میں عام کرنا چاہیے۔ میڈیا کو ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا اور خاندان کو اپنی تربیتی ذمہ داری دوبارہ سنبھالنی ہوگی۔
جرائم صرف عدالتوں میں ختم نہیں ہوتے، وہ گھروں، اسکولوں، محلوں اور معاشرتی رویوں میں کم ہوتے ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم غصے سے زیادہ حکمت، جذبات سے زیادہ تحقیق اور نعروں سے زیادہ قومی مکالمے کو فروغ دیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اگر ایک بچے کے ساتھ ظلم ہوتا ہے تو صرف ایک خاندان متاثر نہیں ہوتا بلکہ پوری قوم کا اخلاقی وجود زخمی ہوتا ہے۔
لاہور کے اعداد و شمار ہمیں خبردار کر رہے ہیں۔ اگر ہم نے آج بھی ان اعداد کو محض خبر سمجھ کر نظر انداز کر دیا تو کل شاید ہمارے پاس افسوس کے سوا کچھ باقی نہ رہے۔
ریاست کی طاقت صرف سخت سزا میں نہیں بلکہ ایسے معاشرے کی تشکیل میں ہوتی ہے جہاں جرم پیدا ہی نہ ہو۔ یہی اصل کامیابی ہے، یہی مہذب قوموں کی پہچان ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر ہم آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ، باوقار اور انسان دوست پاکستان دے سکتے ہیں۔
سخت قوانین کے باوجودجنسی جرائم کیوں نہیں رک رہے
09:41 AM, 16 Jul, 2026