اٹلانٹا: فیفا ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں انگلینڈ کے خلاف اہم مقابلے کے لیے دفاعی چیمپیئن ارجنٹینا نے اپنی روایتی آسمانی اور سفید دھاری دار جرسی کے بجائے گہری نیلی اوے کٹ منتخب کی ہے، جس کا تعلق ٹیم کی ماضی کی کئی یادگار کامیابیوں سے ہے۔
ارجنٹینا کی نیلی جرسی فٹبال شائقین کے لیے صرف ایک لباس نہیں بلکہ تاریخ اور جذبات کی علامت بن چکی ہے۔ 1986 کے میکسیکو ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل میں انگلینڈ کے خلاف ارجنٹینا نے اسی رنگ کی جرسی پہن کر کامیابی حاصل کی تھی۔ اس میچ میں ڈیاگو میراڈونا نے دو تاریخی گول کیے، جن میں ’ہینڈ آف گاڈ‘ اور ’گول آف دی سنچری‘ شامل تھے۔
ارجنٹینا نے 1998 کے فرانس ورلڈ کپ میں بھی انگلینڈ کے خلاف گہری نیلی جرسی پہنی تھی۔ اس سنسنی خیز مقابلے میں دونوں ٹیمیں 2-2 سے برابر رہیں، تاہم پنالٹی شوٹ آؤٹ میں ارجنٹینا نے کامیابی حاصل کرکے اگلے مرحلے میں جگہ بنائی۔
انگلینڈ کے کوچ تھامس ٹوخیل نے ارجنٹینا کے جرسی انتخاب پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر اس کے ساتھ خوش قسمتی یا روایت کا عنصر جڑا ہوا ہے تو وہ اسے سمجھ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق بڑے مقابلوں میں ٹیمیں بعض اوقات مخصوص عادات اور علامتوں کو اہمیت دیتی ہیں۔
ارجنٹینا کے کوچ لیونل سکالونی نے کہا کہ نیلی جرسی کا انتخاب ان کا فیصلہ نہیں تھا، تاہم ٹیم کی مکمل توجہ سیمی فائنل جیتنے اور فائنل میں پہنچنے پر ہے۔
یہ نیلی جرسی ارجنٹینا کے ثقافتی ورثے سے بھی متاثر ہے، جس میں بیونس آئرس کے مشہور ’فلیتیادو‘ آرٹ کی جھلک شامل ہے۔
اب شائقین کی نظریں سیمی فائنل پر ہیں کہ کیا ارجنٹینا کی یہ تاریخی نیلی جرسی ایک بار پھر انگلینڈ کے خلاف کامیابی کی کہانی لکھ پاتی ہے یا نہیں۔