سوڈان میں باغی فورس کے حملے، 300 افراد قتل، انسانی حقوق کی تنظیموں کا فوری عالمی مداخلت کا مطالبہ

01:21 PM, 15 Jul, 2025

خرطوم : سوڈان میں جاری خانہ جنگی کے دوران انسانی حقوق کی ایک وکلاء تنظیم "ایمرجنسی لائرز" نے انکشاف کیا ہے کہ نیم فوجی گروپ ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) نے شمالی کردفان کے کئی دیہات پر حملہ کر کے درجنوں گھروں کو آگ لگا دی اور کم از کم 300 افراد کو قتل کر دیا۔ ہلاک ہونے والوں میں بچے اور حاملہ خواتین بھی شامل ہیں۔

تنظیم کے مطابق بارا شہر کے گرد و نواح میں واقع شگ النعم گاؤں میں سب سے زیادہ جانی نقصان ہوا، جہاں آر ایس ایف کے جنگجوؤں نے گھروں کو جلا کر یا فائرنگ کر کے 200 سے زائد افراد کی جان لے لی۔ قریبی علاقوں میں بھی درجنوں افراد ہلاک اور کئی شہری اغوا کر لیے گئے۔

ایمرجنسی لائرز کا کہنا ہے کہ متاثرہ دیہات میں کوئی فوجی یا مسلح افراد موجود نہیں تھے، اس لیے یہ حملے جنگی جرائم اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

اقوام متحدہ کے ایک ادارے نے تصدیق کی ہے کہ ان حملوں کے باعث 3,000 سے زائد افراد کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا ہے، جن میں سے زیادہ تر نے بارا شہر کے آس پاس پناہ لی ہے۔

سوڈان میں 2023 سے جاری خانہ جنگی نے ملک کو دو حصوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ فوج نے مشرقی اور مرکزی علاقوں پر کنٹرول سنبھالا ہوا ہے جبکہ آر ایس ایف مغربی علاقوں، خاص طور پر دارفور اور شمالی کردفان میں اپنی گرفت مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

امریکہ اور دیگر عالمی ادارے پہلے ہی RSF پر قتلِ عام، اغواء، لوٹ مار اور نسل کشی جیسے سنگین الزامات لگا چکے ہیں، جبکہ آر ایس ایف کی قیادت کا دعویٰ ہے کہ مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ سوڈان اس وقت دنیا کے بدترین انسانی بحران کا سامنا کر رہا ہے، جہاں اب تک 40 ہزار سے زائد افراد ہلاک اور ایک کروڑ 30 لاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔ ملک میں خوراک، صحت، اور سکیورٹی کا شدید بحران ہے۔

دوسری جانب بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) نے دارفور میں ممکنہ جنگی جرائم کی نئی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ عدالت کی سینئر پراسیکیوٹر نزہت شمیم خان کے مطابق متاثرہ علاقوں میں جنسی تشدد، اغواء برائے تاوان اور امدادی قافلوں پر حملے معمول بن چکے ہیں۔

ایمرجنسی لائرز اور انسانی حقوق کے دیگر ادارے عالمی برادری سے پرزور اپیل کر رہے ہیں کہ وہ فوری طور پر مداخلت کرے، تاکہ مزید بے گناہ لوگ ان مظالم کا نشانہ نہ بنیں اور متاثرین کو انصاف مل سکے۔

مزیدخبریں