ایکسپورٹ اور امپورٹ یا درآمد اور برآمد کا کاروبار کمائی کا ایک اچھا ذریعہ ہے کہ جس میں ہینگ لگے نہ پھٹکڑی ،یار لوگوں کو بعض اوقات بہت بڑے ہاتھ مارنے کاموقع مل جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ہمیشہ اس کو ایک منافع بخش کاروبار کی حیثیت حاصل رہی ہے۔ ایک زمانے میں حکومت کی طرف سے ایکسپورٹ اور امپورٹ کے باقاعدہ لائسنس اور پرمٹ جاری کیے جاتے تھے جنہیں سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے کے لیے بطورِ رشوت استعمال کیا جاتا تھا اب بھی کچھ اشیاء جن کے بارے میں سمجھا جاتا ہے یا غلط یا صحیح اعدادو شمار کی مدد سے یہ باور کرا دیا جاتا ہے کہ وہ ملکی ضروریات سے زائد او روافر مقدار میں موجود ہیں اور اُن کے ذخیرہ کرنے کی گنجائش نہیں ہے تو اُن کی برآمد یا ایکسپورٹ کی اعلیٰ ترین حکومتی سطح پر اجازت دے دی جاتی ہے۔ سال 2025ء میںبھی شوگر کے ساتھ یہی ہوا کہ چار پانچ ماہ قبل مارچ میں شوگر ملز مالکان اور شوگر کے کاروبار سے وابستہ ڈیلرز اور اسٹاکسٹ وغیرہ کی طرف سے بار بار یہ مطالبہ سامنے آیا کہ چینی یا شوگر ملکی ضروریات سے زیادہ پیدا ہوئی ہے اور اس کے ذخیرہ کرنے یا سنبھال کر رکھنے کی گنجائش نہیں لہٰذا ساڑھے سات لاکھ ٹن شوگر ایکسپورٹ کرنے کی اجازت دی جائے۔ وفاقی کابینہ کے فیصلے کے تحت شوگر ملز مالکان کو اس کی اجازت اس شرط کے ساتھ دی گئی کہ وہ بازار میں ضرورت یعنی ڈیمانڈ کے مطابق چینی کی سپلائی اور رسد کو یقینی بنائیں گے اور اس کی قیمت میں اضافہ نہیں ہونے دیں گے اور یہ قیمتیں 145 اور 150 روپے فی کلو کے اندر ہی رہیں گی۔ شوگر ملز مالکان نے حکومتی اجازت کے بعد شوگر ایکسپورٹ کی اس سے غیر ملکی کرنسی (ڈالروں) میں زرِ مبادلہ کے ذخائر میں یقینا اضافہ بھی ہوا ہو گا لیکن اس کے ساتھ ہی شوگر کی قیمتوں میں اضافہ بھی سامنے آنے لگا۔ شوگر کی ایکسپورٹ سے قبل اس کے نرخ جو 150 روپے فی کلو کے لگ بھگ تھے وہ فوری طور پر 160 روپے فی کلو سے زائد ہو گئے۔ اس پر نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ جناب اسحاق ڈار جن کی اصل ذمہ داری ملک کی خارجہ پالیسی کے معاملات کو دیکھنا ہے لیکن وہ ملک کے مالی اور اقتصادی معاملات بالخصوص قومی اداروں کی نجکاری کے معاملات میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں کی طرف سے یہ واضح اعلان سامنے آیا کہ شوگر کی پرچون قیمت 164 روپے فی کلو مقرر کی جاتی ہے اور کسی صورت میں بھی نرخوں میں اضافے کی اجازت نہیں ہو گی۔
جناب اسحاق ڈار نے یہ اعلان تو کر دیا لیکن شاید وہ چار پانچ سال قبل جناب عمران خان کی وزارتِ عظمیٰ کے دور میں شوگر کے ایکسپورٹ کرنے کے اسی طرح کے فیصلے کے نتائج کو بھولے ہوئے
تھے یا پھر انہوں نے تجاہل عارفانہ سے کام لے کر شوگر کے 164 روپے فی کلو پرچون نرخ مقرر کرنے اور اِن میں کسی صورت میں بھی اضافہ نہ ہونے دینے کا بلند بانگ دعویٰ کیا حالانکہ انہیں پتا ہونا چاہیے تھا کہ شوگر کے ایکسپورٹ یا برآمد اور اُس کے نتیجے میں نرخوں میں اضافے سے بہت سے بااثر لوگوں کا مفاد وابستہ ہے تو پھر وہ اس پر عملدرآمد نہیں کرا سکیں گے۔ انہیں یاد ہونا چاہیے تھا کہ جناب عمران خان کے دورِ حکومت کے ابتدائی مہینوں میں شوگر ملز مالکان کی طرف سے یہ دعویٰ یا مؤقف سامنے آیا کہ شوگر کی پیداوار اتنی زیادہ ہوئی ہے کہ وہ سنبھالی نہیں جا رہی اور ہمیں یعنی شوگر ملز مالکان کو نقصان ہو رہا ہے اورہم گنے کے کاشتکاروں کو ادائیگی بھی نہیں کر پا رہے ہیں لہٰذا ملکی ضروریات سے زائد شوگر ایکسپورٹ کرنے کی اجازت دی جائے۔ اس پر جناب عمران خان کی حکومت کے شروع کے دور کے وزیرِ خزانہ جناب اسد عمر کی صدارت میں قومی اقتصادی کونسل نے شوگر ملز مالکان کو اربوں روپے (غالباً350 ارب روپے ) کی سبسڈی کے ساتھ زائد شوگر بیرون ملک ایکسپورٹ کرنے کی اجازت دے دی۔ پھر کیا ہوا ؟ چار یا پانچ لاکھ ٹن شوگر ایکسپورٹ تو ہو گئی لیکن اس کے ساتھ ہی ملک میں شوگر کی مصنوعی قلت پیدا کر دی گئی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ شوگر کے نرخ جو 50 سے 60 روپے فی کلو تک تھے وہ یک لخت دُگنے ہو کر 120 روپے فی کلو تک جا پہنچے۔ شوگر ملز مالکان اور شوگر کے تاجروں اور ذخیرہ اندوزوں نے خوب پیسے کمائے اور عوم الناس لوٹ مار کا شکار ہی نہ ہوئے بلکہ انہیں اپنی ضرورت کی چینی لینے میںخجل خواری الگ برداشت کرنا پڑی۔
نائب وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ جناب اسحاق ڈار کی سرکردگی میں موجودہ حکومت نے شوگر ملز مالکان کے شوگر کی پیداوار کے ملکی ضروریات سے زائد ہونے کے مؤقف کو تسلیم کرتے ہوئے مارچ میں انہیں تقریباً5 لاکھ ٹن شوگر ایکسپورٹ کرنے کی اجازت دی تو پھر وہی ناٹک یا تماشا سامنے آیا جس کا مظاہرہ جناب عمران خان کے دور میں ہوچکا تھا کہ ملز مالکان اور شوگر کے اسٹاکسٹس اور تاجروں نے اپنی تجوریاں بھرنے کے لیے مارکیٹ میں ضرورت کے مطابق شوگر کی سپلائی کم کر دی اور اس کے نرخوں میں اس طرح اضافہ ہونا شروع ہوا کہ پر چون میں 164 روپے فی کلو شوگر کا حکومتی نرخ دھرے کا دھرا رہ گیا اور یہ نرخ 200 روپے فی کلو تک جا پہنچا۔ اب حکومت نے 5 لاکھ ٹن شوگر امپورٹ (درآمد) کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان نے 3 لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کے ٹینڈر بھی جاری کردئیے ہیں توپھر شوگر کی قیمتیں کچھ کم ہوئی ہیں لیکن ملک کے بڑے شہروں جن میں کراچی، لاہور، راولپنڈی، اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ وغیرہ شامل ہیں شوگر 190 روپے فی کلو سے لیکر 195 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہی ہے گویا شوگر ملز مالکان یا شوگر کے بڑے تاجروں کوشوگر ایکسپورٹ کرنے کی اجازت دینے کے فیصلے کا حتمی نتیجہ یہ سامنے آیا ہے کہ مارچ 2025 ء کے شوگر کے 140 روپے فی کلو سے 150 روپے فی کلو تک شوگر کے نرخ بڑھ کر اب 190 روپے فی کلو سے 195 روپے فی کلو تک یعنی 40 ، 45 روپے فی کلو بڑھ چکے ہیں اور اب ان نرخوں کو کم کرنا کسی کے بس کی بات نہیں ہوگی۔ یہ صورتحال کوئی نئی نہیں بلکہ وہی ہے جس کا ذکر اُوپر آیا ہے کہ جناب عمران خان کے دورِ حکومت میں شوگر ملز مالکان نے شوگر کی زائد پیداوار کے نام پر حکومت سے سبسڈی ہی نہ لی بلکہ 4,5 لاکھ ٹن شوگر ایکسپورٹ کر کے جہاں منافع کمایا وہاں مارکیٹ میں شوگر کی مصنوعی قلت پیدا کر کے اس کے نرخوں میں بھی ڈیڑھ، دو گنا اضافہ کرنے میں کامیاب رہے۔
سوچنے کی بات ہے کہ اس طرح کے فیصلے کیوں کیے جاتے ہیں جن کی زد براہِ راست عوام پر پڑتی ہے ۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ سب کچھ واضح منصوبہ بندی کے تحت ہوتا ہے۔ فیصلہ سازوں اور مقتدر حلقوں کو اچھی طرح پتا ہوتا ہے کہ جو فیصلہ یا فیصلے کیے جا رہے ہیں ان کے یہی نتائج سامنے آئیں گے کہ عوام الناس لوٹ مار کا شکار ہونگے۔ لیکن جب کچھ مخصوص افراد اور بااثر حلقوں جن میں فیصلہ ساز خود بھی شامل ہوتے ہیں کو فائدہ پہنچانا اور اُن کی تجوریاں بھرنا مقصود ہو تو پھر کہاں عوام اور کہاں اُن کا مفاد ، وہاں اپنا ہی مفاد سب سے مقدم ہو جاتا ہے ۔ شوگر ملز مالکان کے حوالے سے یہ کھلی حقیقت ہے کہ پنجاب میں زیادہ تر شوگر ملز شریف فیملی کی ملکیت میں ہیں توسندھ میں اُومنی گروپ یا زرداری فیملی ان کی مالک ہے۔ ظاہر ہے ان کے مفاد کو رد نہیں کیا جاسکتا عوام جائیں بھاڑ میں اور مہنگائی میں اگر اضافہ ہوتا ہے تو یہ بھی حکمرانوں کا مسئلہ نہیں۔ کہا جا رہا ہے اور اس کے راوی سینئر صحافی ، معروف اینکر اور تجزیہ نگار محمد مالک بتائے جاتے ہیں ۔ ان یعنی محمد مالک کے بیان کے مطابق وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف کسی صورت میں شوگر ملز مالکان کو شوگر ایکسپورٹ کرنے کی اجازت دینے کے لیے تیار نہیں تھے کہ اسی دوران لاہور میں ایک خاندانی میٹنگ میں کہا گیا کہ وہ شوگر ایکسپورٹ کرنے کی اجازت دیں ورنہ وزارتِ عظمیٰ سے استعفیٰ دے دیں۔ اس پر وہ شوگر ایکسپورٹ کرنے کی اجازت دینے پر مجبور ہو گئے۔ اللہ کرے یہ روایت درست نہ ہو لیکن اس کے درست یا درست نہ ہونے سے کچھ فرق نہیں پڑتا اس لیے کہ شوگر کی قیمتوں میں اضافے کا فائدہ بہر کیف شریف فیملی اور زرداری فیملی کو ہی پہنچتا ہے کہ زیادہ تر شوگر ملوں کے مالک وہی ہیں۔
چینی کی ایکسپورٹ اور امپورٹ …!
09:31 AM, 15 Jul, 2025